چترال کی سیاست: ووٹ کا صحیح حقدار کون؟
چترال دو صوبائی اسمبلی اور ایک قومی اسمبلی کی نشست پر مشتمل ایک دور افتادہ لیکن اہم ضلع ہے۔ افغانستان کے ساتھ اس کی لگی بانڈری اس کو مزید اہم بناتا ہے۔ اس لئے عمران خان صاحب، نواز شریف صاحب اور بلاول بھٹو صاحب کی سیاسی تقریروں کا حصہ ہوتا ہے۔ اس میں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیاں زبردست ٹاکرا ہونے والا ہے۔ فی الحال دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کا پلڑا بھاری لگ رہا ہے۔ قومی نشست کے لئے نون لیگ اور تحریک انصاف ایک دوسرے کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔
زیادہ تر پارٹیوں کے امید وار ماضی کے آزمائے ہوئے ہیں جبکہ کچھ نئے چہرے بھی سامنے آئے ہیں۔ ماضی کے برعکس، اس بار نئی اور اچھی روایت قائم کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف نے پی کے ون کے لئے سریا بی بی کو جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے خدیجہ بی بی کو ٹکٹ دیے ہیں۔ اس بار چترال کے باہر سے آئے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے طلحہ محمود صاحب بھی قسمت آزما رہے ہیں۔
چترال کی تاریخ کو دیکھا جائے تو ایک چیز جو مشترک نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں سے ہمیشہ اپوزیشن ممبرز ہی ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوتے آئے ہیں۔ نون لیگ کی حکومت میں افتخار الدین صاحب اگرچہ نون لیگ سے فائدہ حاصل کرنے والے اور چترال میں کئی منصوبے لانے والے ممبر قومی اسمبلی رہے ہیں، لیکن وہ بھی پاکستان مسلم لیگ ق کی ٹکٹ پر جیت کر ممبر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ تاہم اپنی دور اندیشی سے وہ نون لیگ کی حکومت کا حصہ بنے اور اسی وجہ سے کئی میگا پراجیکٹس کی تکمیل ممکن ہو سکی۔
بقول سہیل وڑائچ صاحب، اس بار سیاسی صورت حال اور مرکز میں ہوا کے رخ کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ، باوجود قابلیت اور مقبولیت کے، مقتدر حلقوں کے ہاں عمران خان صاحب کی جماعت کو قبولیت حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ چترال میں سیاسی حالات کو دیکھ کر یہ لگ رہا ہے کہ تحریک انصاف کلین سویپ کرے گی۔ آنے والے نتائج کا دار و مدار چترالیوں کی دور اندیشی پر منحصر ہے کہ ماضی کے پانچ سالوں کی طرح ترقیاتی منصوبوں کے لئے ترس کر رہنا چاہتے ہیں یا ایک ایسے ممبر کو منتخب کرتے ہیں جو اصل معنوں میں چترال کی نمائندگی کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
ان باتوں اور ماضی کے تلخ تجربوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ ہم ایسے نمائندوں کو منتخب کریں جن کی جماعت کا مرکز میں بر سر اقتدار آنے کے امکانات زیادہ ہوں۔ اس زمن میں دیکھا جائے تو دینی جماعتوں کو ووٹ دینا چترال کے ساتھ دشمنی ہو گی۔ بے شک مولانا عبد الاکبر چترالی صاحب ایک نیک اور بے داغ شخصیت کے مالک ہیں لیکن پچھلے پانچ سالوں میں انہوں نے چترال کو بھول کر یا جان بوجھ کر یکسر نظر انداز کر کے کشمیر اور فلسطین کی نمائندگی میں مصروف رہے۔ ان کی باتوں سے یوں لگتا تھا جیسا کہ وہ ان کے ووٹ لے کر ان کے نمائندے منتخب ہوئے تھے۔
موجودہ حالات میں این اے ون کے لئے پیپلز پارٹی کے فضل ربی صاحب، عوامی نیشنل پارٹی کی خدیجہ بی بی اور جمعیت علماء اسلام کے طلحہ محمود صاحب اس ریس میں شامل ہی نہیں ہیں۔ اب میدان میں عبد الطیف صاحب اور افتخار الدین صاحب رہتے ہیں۔ تاہم، مغفرت شاہ صاحب کے جوڑ تور کی بدولت اگر جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام کا اتحاد کامیاب ہوتا ہے تو پی ٹی آئی اور نون لیگ اس ریس سے آؤٹ ہو جائیں گے۔ طلحہ محمود صاحب دولت کا استعمال کریں گے جبکہ مغفرت شاہ صاحب لوکل سیاست میں اپنی سیاسی چال بازیوں کا خوب استعمال کریں گے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم کسی ایسے امید وار کو منتخب کریں جس نے پہلے بھی چترال کی خدمت کی ہو۔ ایک ایسا امید وار ہو جسے بولنے کا سلیقہ آتا ہو۔ وہ امید وار ایسا ہو جس کا پارلیمان میں طنزیہ لہجے میں ’چترالی‘ کہہ کر مذاق نہ اڑایا جاتا ہو۔ ایسے امیدوار کو منتخب کرنے کی اشد ضرورت ہے جو ممبر قومی اسمبلی نہ ہونے کے باوجود بھی منتخب نمائندوں سے زیادہ با اثر ہوتا تھا۔ اس کو اداروں سے کام نکلوانے کے گر آتے ہوں۔
سب سے ضروری بات جس کو مد نظر رکھ کر پارٹی، علاقہ، فرقہ اور قومیت سے بالاتر ہو کر ووٹ دینا ہے، وہ یہ ہے کہ کون سے امید وار کی جماعت کو مرکز میں قبولیت حاصل ہے اور بر سر اقتدار آ رہی ہے۔ ان چیزوں کو مدنظر رکھ کر اگر ووٹ کا استعمال کریں گے تو چترال ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا، ورنہ اگلے دس سالوں تک ہمیں پکی سڑکوں کے لئے بھی ترسنا ہو گا۔ لہذا، سوچ سمجھ کر اور نسلی، مذہبی، علاقائی اور پارٹی تعصبات سے اپنے آپ کو پاک کر کے اپنے ووٹ کو صحیح حقدار کو دینا چاہیے تاکہ وہ ہمارے مسائل کو ایک قابل اور عوامی نمائندے کی طرح حل کر سکے۔


