احمد آباد: پہلی ہندوستانی ٹیکسٹائل مل مختلف طرز کی مساجد کا شہر


1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے

جب ہم بڑودا سے گزر رہے تھے تو اس وقت رات کے نو بج چکے تھے اور اکثر لوگ سونے کے لیے جا چکے تھے۔ میں نے بھارت کے نقشے میں دیکھا کہ بڑودا سے احمد آباد سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ہمارے لیے اس شہر کو دیکھنا ممکن نہ تھا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کا ذکر اور اس کی تاریخ آپ کے سامنے رکھنا بے حد مفید ہے۔

احمد آباد بھارت کے ان چند شہروں میں گنا جاتا ہے جن کی بنیاد مسلمان حکمرانوں نے رکھی اور اس کا نام بھی وہ رکھا جو ایک مسلم شناخت رکھتا ہے۔ یہ شہر مجھے اپنے نام کی وجہ سے بھی بے حد پیارا لگتا ہے۔

دلی سے ممبئی جانے والی مین ریل لائن پر واقع نہ ہونے کی وجہ سے میں احمد آباد کو نہ دیکھ پایا۔ پچھلے چند سال سے ہم نے بھارت سے اپنی فیکٹری کے لیے رنگ منگوانے شروع کیے تو احمد آباد کے رہنے والے ایک صاحب درشن شاہ جو وہ جین مذہب سے تعلق رکھتے ہیں سے ہمارا رابطہ ہوا جو اب تک برقرار ہے۔ درشن صاحب کی وجہ سے احمد آباد کا ذکر بار بار ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ میں نے احمد آباد جانے کا پروگرام بھی بنایا لیکن بھارتی سرکار نے ویزہ نہ دیا جس کی وجہ سے میری یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ اب جب کہ میں اس عظیم شہر سے سو کلو میٹر کے فاصلے سے گزر رہا تھا تو میں نے سوچا کہ اس کے بارے میں چند معلومات آپ کے سامنے رکھوں۔ اس شہر سے متعلق کچھ معلومات مجھے درشن شاہ صاحب سے بھی ملیں۔ مجھے احمد آباد کے متعلق پینو شاہ کی لکھی ہوئی کتاب

Ahmedabad: Glimpses Of India ’s First World Heritage City

جس میں بے شمار تصاویر بھی ہیں دیکھنے کا موقع ملا۔ اسکے ساتھ ساتھ احمد آباد میونسپل کارپوریشن کی ویب پر بھی کافی معلومات دی گئیں ہیں۔ جو میں جان سکا وہ پیش خدمت ہے۔

احمد آباد ریاست گجرات کا سب سے بڑا شہر اور سابقہ دارالحکومت بھی ہے۔ اس وقت احمد آباد کی آبادی ستر لاکھ سے زائد ہے اور یہ بھارت کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے۔ احمد آباد، گاندھی نگر جو گجرات کا صدر مقام ہے سے تئیس کلومیٹر دور دریائے سبارمتی کے کنارے واقع ہے۔

احمد آباد بھارت میں ایک اہم معاشی اور صنعتی مرکز بن کر ابھرا ہے۔ یہ علاقہ کپاس کی پیداوار اور ٹیکسٹائل کے حوالے سے بے حد مشہور ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہاں کی اسٹاک ایکسچینج پورے بھارت میں دوسری قدیم ترین اسٹاک ایکسچینج ہے۔ حال ہی میں سردار پٹیل اسٹیڈیم بنایا گیا ہے جس میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ احمد آباد بھی ان شہروں میں شامل ہے جنہیں بھارتی حکومت نے سمارٹ سٹی بنانے کا پروگرام بنایا تھا۔ یہ وہ شہر ہے جسے بھارت کے پہلے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثے کا اعزاز ملا۔

تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ گیارہویں صدی سے ہی لوگ اس علاقے میں آباد ہیں۔ اس وقت اس علاقے کو اشوال کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ایک ہندو حکمران کرنا نے دریائے سبرمتی کے کنارے پر کارناوتی نامی ایک شہر آباد کیا۔ باقی علاقوں کی مانند یہ شہر بھی سلاطین دلی کے قبضے میں آ گیا۔ جب اس علاقے میں سلاطین دلی کا کنٹرول کمزور پڑا تو ایک مقامی مسلمان راجپوت گورنر ظفر خان مظفر نے دلی سے بغاوت کا اعلان کر دیا اور مظفر شاہ اول کے نام سے خود کو گجرات کا سلطان نامزد کر دیا۔

اس علاقے کے اکثر گورنروں نے یہی کام کیا۔ پندرہویں صدی کے آغاز میں اس کا پوتا سلطان احمد شاہ اس ریاست کا حکمران بنا۔ ایک دفعہ شکار کرتے ہوئے اس نے ایک وسیع علاقہ دیکھا جہاں ڈاکوؤں کا راج تھا۔ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور علاقے میں امن قائم کرنے کے لیے اس نے سبارمتی ندی کے کنارے ایک نیا شہر بسانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے نام کی دو وجوہات تھیں۔

پہلی یہ کہ اس کا خود کا نام احمد تھا اور دوسرا اس علاقے میں چار نیک بزرگ موجود تھے جن کے نام بھی احمد تھے۔ احمد شاہ نے 1411 ء میں اس شہر کی بنیاد رکھی۔ اس طرح ایک نیا شہر بسایا گیا جس کے لیے کسی سے بھی زبردستی زمین نہیں لی گئی اور نہ ہی یہاں کوئی مندر تھا۔ اس لیے آج تک کسی کو اس کا نام بدلنے کی خواہش بھی پیدا نہیں ہوئی۔

اگر کوئی کام نیک نیتی سے کیا جائے اور کسی سے کوئی زیادتی بھی نہ کی جائے۔ تو ایسا کام زوال پذیر نہیں ہوتا ہے۔

بعد ازاں احمد شاہ کے پوتے محمود نے شہر کے چاروں طرف حفاظتی نقطۂ نظر سے دس کلومیٹر طویل دیوار بنوائی۔ اس دیوار میں بارہ دروازے تھے۔ ایک وقت آیا جب مغل حکمران اس علاقے پر قابض ہو رہے تھے تو اس دوران ہمایوں نے احمد آباد پر کچھ دیر اپنا قبضہ رکھا لیکن بعد میں مظفر خاندان نے دوبارہ قبضہ کر لیا۔ مغل، مراٹھے اور راجپوت، ان علاقوں میں مدتوں آپس میں دست و گریبان رہے۔

مغل دور میں احمد آباد ایک بڑے تجارتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا۔ یہاں کپڑوں کی صنعت نہایت ترقی یافتہ تھی۔ اس وقت اس شہر سے ٹیکسٹائل کی مصنوعات یورپ برآمد کی جاتی تھیں۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ شاہجہاں نے یہاں کے شاہی باغ میں موتی شاہی محل کی تعمیر کی اور اپنی زندگی کا ایک بڑا وقت اسی باغ میں گزارا۔

مراٹھوں اور بڑودا کے حکمرانوں نے بھی اس شہر پر قبضہ کرنے کے لیے جنگیں لڑی۔ ایک وقت آیا کہ برطانوی فوج نے احمد آباد پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا لیکن جنگ کے اختتام پر انھوں نے ایک معاہدہ کے تحت اس شہر کو مراٹھوں کے حوالے کر دیا۔ انگریز اس علاقے پر ہر صورت قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے تیسری اینگلو مراٹھا جنگ کے نتیجہ میں اس شہر کا اقتدار سنبھال لیا۔ انھوں نے یہاں پر ایک فوجی چھاؤنی بھی قائم کی اور میونسپل کمیٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ شہر ٹیکسٹائل کی صنعت کا گڑھ بن گیا جس کی بنیاد پر اسے ”مانچسٹر آف دی ایسٹ“ کے نام سے جانا جانے لگا۔ بالکل ایسے ہی جیسے فیصل آباد کو پاکستان کا مانچسٹر کہا جاتا ہے۔

ہندوستان کی تحریک آزادی میں بھی اس شہر کا ایک اہم کردار ہے۔ مہاتما گاندھی نے بھی اس شہر میں خاصا وقت گزارا۔ انھوں نے یہاں پر کئی آشرم بھی بنائے۔ اس شہر کا ایک اہم واقعہ روولٹ ایکٹ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہیں۔ مزدوروں سے متعلق برطانوی حکمرانوں کے فیصلے کے خلاف ایک تاریخی احتجاج کیا گیا جس کے نتیجے میں شہر بھر کی بے شمار سرکاری عمارتوں کو آگ لگائی گئی۔ اس شہر کے افسوس ناک واقعات میں تقسیم ہند کے بعد ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین ہونے والے شدید فرقہ وارانہ فسادات بھی شامل ہیں۔

یہ شہر پاکستان سے جانے والے ہندو تارکین وطن کی آباد کاری کا مرکز بھی بنا۔ جس کی وجہ اس شہر میں ٹیکسٹائل ملز کا ہونا تھا۔ ریاست بمبئی کی تقسیم کے بعد اسے ریاست گجرات کا دارالحکومت بنا دیا گیا۔ اسی کی دہائی میں گجرات کا صدر مقام نئے تعمیر شدہ شہر، گاندھی نگر منتقل ہو گیا۔ ایک بار پھر ریاست گجرات میں مذہبی فسادات ہوئے جنہیں گجرات فسادات کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان فسادات کے نتیجے میں بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا۔

احمد شاہ اور اس کے بعد والے ادوار میں شہر میں بہت سی مساجد بالکل نئے انداز میں بنائی گئیں۔ ان میں سب سے منفرد سیدی مسجد ہے جو ریاست گجرات کے آخری سال میں تعمیر ہوئی۔ یہ مکمل طور پر محراب دار ہے۔ اس کے علاوہ اس شہر میں لا گارڈن اور وکٹوریہ گارڈن بھی موجود ہیں۔ یہاں ملکہ وکٹوریہ کا مجسمہ بھی ہے۔ کانکریا جھیل، احمد آباد کا ایک اہم تفریحی مقام ہے۔ یہ جھیل پندرہویں صدی میں تعمیر ہوئی یہ احمد آباد کی سب سے بڑی جھیلوں میں سے ایک ہے۔ آغاز میں اسے حوض قطب کے نام سے جانا جاتا تھا۔ احمد آباد مغربی بھارت کا دوسرا سب سے بڑا صنعتی مرکز ہے۔ احمد آباد کا جی ڈی پی ستر بلین ڈالر سے بھی زائد ہے۔ یہ شہر ٹیکسٹائل کے ساتھ ساتھ جواہرات اور زیورات کا بھی سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 1861 ء کو رنچھوڈال چھوٹولال نے پہلی ہندوستانی ٹیکسٹائل مل کی بنیاد رکھی جس کا نام احمد آباد اسپننگ اینڈ ویونگ کمپنی لمیٹڈ تھا، بعد ازاں اسے شاہ پور مل کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کے بعد اس علاقے میں بے شمار ٹیکسٹائل مل بنائی گئیں۔ بھدرہ فورٹ اندرون احمد آباد میں واقع ہے۔ اسے احمد شاہ اول نے 1411 ء میں تعمیر کیا تھا۔ اس کے شاہی محلات، مساجد اور دروازے نہایت قابل دید ہیں۔ احمد آباد بھی ان شہروں میں سے ایک ہے جسے دیکھنے کی حسرت کبھی ختم نہیں ہوگی۔

اس شہر کی تاریخ پڑھتے ہوئے مجھے اس بات کی سب سے زیادہ خوشی ہوئی کہ یہ ایک ایسا شہر ہے جسے ایک راجپوت حکمران نے بنایا اور خوب بنایا۔

پینو شاہ نے اس شہر میں واقع کئی مساجد کا بھی ذکر کیا ہے۔ ان میں ایک اہم مسجد سیدی سعید کے نام سے ہے (صفحہ 46 ) ۔ یہ بھی ایک افریقی غلام تھے اور حکومت میں ایک اعلیٰ عہدہ رکھتے تھے۔ اب تک میرے علم کے مطابق یہ تیسرے افریقی غلام میں جنہوں نے اس علاقے کی تاریخ میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ باقی دو کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں۔

جیسا کہ میں نے پہلے بھی اس بات کا ذکر کیا ہے کہ بھارت میں ہر سال شہروں کے درمیان اس بات کا مقابلہ ہوتا ہے کہ کون سا شہر رہائش کے لیے بہترین ہے۔ دی ٹائمز آف انڈیا نے 11 دسمبر 2011 ء کی اشاعت میں لکھا ہے کہ احمد آباد اس فہرست میں اول نمبر پر ہے۔ اس کے بعد پونا کا نام آتا ہے۔ اب تک میں نے جو جانا ہے اس کے مطابق اس طرح کے مقابلوں میں وسطی اور جنوبی شہر ہی کوئی اہم مقام حاصل کر پاتے ہیں۔ شمال کے شہر کم ہی نظر آتے ہیں۔

احمد آباد کے بارے میں ایک اور بات بھی دلچسپ ہے۔ اسے عام طور پر Ahmed Aabad لکھا جاتا ہے۔ لیکن اسے
Amdavad بھی لکھا جاتا ہے۔ اس شہر کی ویب پر دونوں طرح سے لکھا ہوا ہے۔

Facebook Comments HS