رائے دہندہ کو لاحق ریاست و سیاست
نطشے نے کہا خدا مر گیا، ڈی ایچ لارنس نے کہا کہ انسانی تعلقات کا ادب مر گیا، اور مالرو نے بتایا کہ انسان مر گیا۔ اس تثلیث کی بالترتیب موت ریاست کا جنم تھی، جس میں Principle Perspective افقی سطح پر انفراد سے اجتماع کی طرف اشارہ کرتا ہے جب کہ عمودی سطح پر آسمان سے زمین کی طرف سفر کرتا ہے۔ اس تناظر میں ریاست اس معاہدے کا نام ہے جو میگنا کارٹا کی کوکھ سے برآمد ہوا۔ میرے پیدا ہونے سے 34 سال قبل ایک ریاست کی پیدائش ہوئی جو ایک ایسے مفروضے پر قائم ہوئی جو کہ مغرب میں کئی صدیوں پہلے ناکام ثابت ہو چکا تھا۔
ہم نے جب بنیادی تناظر کے پیش نظر افقی سطح پر اجتماع کیا تھا تو اس کی عمودی سطح کی منزل آسمان تھی، زمین نہیں تھی؛ اور ظاہر ہے کہ اس کی وجہ مذہبی عصبیت کی بنیاد پر ریاست کا قیام تھا۔ یہ کوئی معیوب امر نہ بھی ہو مگر اس میں اقتدار اعلیٰ کی نمائشی ملکیت ”اللہ“ کے سپرد کر کے جس طرح ہم نے مذہب اور خدا کی توہین کی ہے ؛ اس کا خمیازہ ہم سماجی، سیاسی اور انتظامی سطح پر مسلسل بھگتتے چلے آ رہے ہیں۔ اس نام نہاد خدائی اقتدار کی آڑ میں ہر صاحب اقتدار نے ”لا الہ الا القوة“ کا عملی مظاہرہ کیا اور ہر برآمدہ برائی ”جبریہ“ کی طرح خدا پر ڈال کر اس منافقت کی طرح ڈالی۔
یہ منافقت ہر ہر گام پر آپ کو ریاست، عدالت، عساکر اور سرمایہ کی طاقت سے منشائے جمہور اور روح اخلاقیات کے منافی تمام امور میں نظر آئے گی۔ اسی منافقت نے ہم سے یہ جرات بھی چھین لی کہ ہم اپنی اساسی اور بنیادی غلطی کو تسلیم کریں۔ جب مذاہب اپنی فکری سطح پر جامد نہیں رہ سکتے اور وقت کے ساتھ ساتھ انھیں اجتہاد کی ضرورت پڑتی رہتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ ریاستیں اور ان کے سماجی، معاشی یا سیاسی نظام نہیں بدلے جا سکتے؟
یا صرف ہم نے طے کر لیا ہے ہم نے انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک ایک دوسرے کو ”جیتنے“ کی بجائے سارا زور ایک دوسرے کو ”ہرانے“ پہ جھونک دینا ہے؟ ہمیں مان لینا چاہیے کہ ہم ایک گہرے بحران میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ بحران مادی بھی ہے، روحانی بھی اور نفسیاتی بھی۔ اپنے خلاف آرا کو برداشت نہ کرنا ہمارا اجتماعی مسئلہ بن چکا ہے۔ اپنی نظری یا سیاسی فکر کے مخالف کو پہلے دوستوں اور پھر انسانی صف سے نکال دیتے ہیں۔
حال آں کہ اختلاف اور رنگا رنگی حسن معاشرہ ہے جب کہ ہمارے ہاں یہ قبیح صورت میں ڈھل کر وحشت پسندگان سے دہشت پرستگان کی منزل پا چکا ہے۔ اس گرداب سے نکلنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ جب ہم اپنی فکری و نظری، سیاسی و مسلکی وابستگیوں میں بند ہونے کی بجائے صرف جڑ کر بات کریں۔ طاقت اور اقدار کے توازن کو نہ ٹوٹنے دیں ؛ ورنہ فکر میکانکی شکل اپنا لے گی۔ جذبے میں حرکت تو ہو گی مگر لچک نہیں۔ رشتوں میں صلابت تو ہو گی مگر لوچ نہیں۔ یہ طرز عمل ہمارے مذہبی، سیاسی، سماجی یا قومی رہنماؤں کو فوق الانسان بنا دے گا اور ہم مٹی کے مادھو بنے فقط ”زندہ باد، زندہ باد“ کے منتر الاپتے رہ جائیں گے۔
’ہم‘ نے کس نہج پہ آ کر کے ’اسے‘ کھویا ہے
کیا بتاؤں میں تمھیں جیتی ہوئی ہار کا دکھ


