ایک خوفزدہ کُتا


پوہ کا جاڑا اپنے عروج پر ہے۔ صبحیں اور شامیں کہر آلود ہیں۔ صبح کے دھندلکے میں کہ جب حد نگاہ شاید صفر سے بھی کم تھی، گرم لحاف میں اچانک میری آنکھ کھلی۔ میرے سر سے نیند میں گرم اونی ٹوپا اتر گیا تھا جس کے باعث کنپٹیاں اور ماتھا یخ ٹھنڈے ہو رہے تھے۔ میں نے کسمساتے ہوئے تکیے کے ادھر ادھر ٹٹول کر ٹوپا ڈھونڈا اور فوراً پہنا۔ گرمائش سے یک گونہ سکون محسوس ہوا۔ اچانک باہر کا کوئی کام یاد آ گیا۔ میں لیٹا لیٹا دل میں بہانے گھڑنے لگا اور بستر سے نہ نکلنے کی تمام تاویلیں اپنے تئیں سمجھانے لگا۔

ویک اینڈ پر خود کو بچانے کی تمام ترکیبیں سوچنے لگا۔ یہ رد و کد کم و بیش آدھ گھنٹہ جاری رہی۔ بالآخر دل کی دماغ سے مذاکرات کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔ میں بڑی مشکل سے اپاہجوں کی طرح پلنگ سے نیچے اترا اور پاؤں گھسیٹتا لڑکھڑاتا ہوا بیت الخلا گیا۔ پانی نے جیسے میرے جسم میں چھرا بھونک دیا۔ باہر آ کر دو جرسیاں پہنی، ان کے اوپر ایک جیکٹ پہنی، گرم پاجامہ پہن کر اس کے اوپر گرم ٹراؤزرز پہنا۔ گلے میں مفلر باندھا۔

ہاتھ جیبوں میں ڈال کر ہمت جٹا کر باہر نکل کھڑا ہوا۔ مجھے بس دو گلیاں آگے جانا تھا اور دس منٹ کا ایک کام کر کے واپس آجانا تھا۔ گھر سے نکلتے ہی گلی کے نکڑ پر میں نے دیکھا کہ بند دکانوں کے تھڑوں کے نیچے کوڑا کرکٹ کی ڈھیری سی لگی ہوئی ہے۔ جس پر بہت سے شاپر اور گھاس پھوس پڑا ہوا ہے۔ شاید کسی پھلوں والے نے پیٹیوں میں سے نکلنے والا گھاس پھونس وہاں ڈال دیا تھا۔ اس کوڑے کی ڈھیری پر گھاس پھوس اور شاپروں کا فرش بچھائے ایک کتا اپنے گھٹنوں اور پیٹ میں سر دیے سردی سے کنگڑا پڑا تھا۔

ٹھٹھرتی ہوئی اس صبح میں اس نے اپنے بدن کو جتنا ہو سکتا تھا سمٹا لیا تھا اور اپنے ہی جسم سے کچھ حرارت حاصل کرتے کرتے شاید کچھ دیر پہلے ہی اس کی آنکھ لگی تھی۔ مجھے کتوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔ یہ پیچھے لگ جاتے ہیں۔ ان سے دوڑ میں بھی جیتا نہیں جاسکتا۔ لیکن اس کو جاڑے سے لڑتا دیکھ کر مجھے پہلی بار بالکل ڈر نہیں لگا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا کہ شاید کوئی بوری نظر آئے تو اس پر ڈال دوں۔ مگر کچھ نہ ملا۔ میں نے سوچا واپسی پر راستے میں کچھ ملا تو ڈال دوں گا اور احتیاط سے اس کے قریب سے گزر گیا۔

پندرہ سے بیس منٹ بعد واپسی ہوئی۔ جونہی میں گلی کے سرے پر ہوا میں نے کتے کی ایک دل دوز چیخ کی آواز سنی جو تیز بہت تیز تھی اور مسلسل تھی۔ میں نے جلد جلد قدم اٹھائے اور پھر بھاگتے ہوئے موڑ مڑ کر اس گلی میں داخل ہوا کہ دیکھوں کیا ہوا۔ کتے کی دلخراش چیخیں اب سسکیوں میں تبدیل ہو چکی تھیں اور صاف سنائی دیتا تھا کہ وہ رو رہا ہے۔ جونہی میں موڑا مڑا میں نے دیکھا کہ وہ دیوانہ وار بھاگتا آ رہا ہے اور اس کی کمر پہ آگ لگی ہوئی ہے۔

کسی لعین نے چپکے سے کوڑے کے ڈھیر پر شاپر ڈال کر گھاس پھوس کو آگ لگا دی تھی۔ جلتا ہوا شاپر اب بھی اس کی کمر سے چپکا ہوا تھا۔ میرے ہاتھ پیر پھول گئے۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا۔ کہیں پانی، کوئی کپڑا یا بوری نظر نہ آئی کہ آگ بجھا سکوں۔ سوچا مٹی کی مٹھی بھروں۔ پختہ گلی میں مٹی کہاں سے آئے کتا درد سے بلبلا رہا تھا۔ یکایک میرے دماغ میں بجلی سی کوندی۔ میں نے جیکٹ اتاری اور جونہی وہ روتا میرے قریب سے گزرنے لگا میں نے وہ جیکٹ جلدی سے اس کی کمر پر ڈال دی۔

آگ فوراً بجھ گئی۔ کتا بے حال ہو چکا تھا۔ اس کی کمر جھلس چکی تھی۔ اور زخم سے پانی رس رہا تھا۔ میں نے وہ جیکٹ کوشش کر کے اسے پہنا دی۔ اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ اسے گود میں اٹھا کر گھر لے آیا۔ سارے رستے وہ تڑپتا رہا۔ اسے کسی کل چین نہیں پڑتا تھا۔ اس کے زخم نے اسے بے حال کر دیا تھا اور وہ مجھ سے چھوٹ چھوٹ جاتا تھا۔ شاید وہ سمجھ رہا تھا کہ جس جانور نے اسے آگ لگائی وہ بھی دوپایہ تھا اور یہ بھی دو پایہ ہے۔ کہیں پھر سے جلا نہ دے۔ یا شاید یہ سمجھ رہا تھا کہ شتابی سے بھاگ جانے سے اس کے زخم میں لگتا ہوا چمراٹ تھوڑی دیر کو بند ہو جائے گا۔ میں نے گھر کے دروازے پر اسے اتارا اور اس کے لئے پانی، سپرٹ اور مرہم پٹی کا سامان لینے اندر چلا گیا۔ مگر جوں ہی میں اندر آیا اس نے روتے اور چیختے ہوئے وہاں سے دوڑ لگادی۔

وہ شاید انسانوں سے دور جانا چاہتا تھا۔

Facebook Comments HS