یشب تمنا کے تاریک دنوں کی کہانی!
یشب تمنا کے ساتھ میری پہلی ملاقات کراچی آرٹس کونسل کی جوش ملیح آبادی لائبریری میں ریڈر اینڈ رائٹر کیفے کی ایک ادبی نشست میں ہوئی جو ان کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی اور وہ ان ہی دنوں انگلینڈ سے پاکستان آئے ہوئے تھے۔
وہ نشست بہت شاندار رہی اور ان کی شاعری پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد میں نے ان کا شعری مجموعہ پڑھا۔ اور ان کی شاعری کے بارے میں کسی حد تک ایک ذہن بنا لیا لیکن جب ان کا یہ دوسرا مجموعہ تاریک دنوں کی کہانی جو حال ہی میں شائع ہوا ہے اور میں نے تفصیل سے پڑھا تو ان پر لکھنے کے لئے بھی تیار ہوا۔ اور کیوں نہ ہوتا کیونکہ ان کے اس مجموعے میں، میں نے اتنے اشعار پر ٹک مارک کیے کہ اگر اس کے بعد بھی اس پر قلم نہیں اٹھاتا تو یہ پھر اس مجموعے کے ساتھ زیادتی ہوتی۔
اس مجموعے میں نظمیں، غزلیں، قطعات کے علاوہ چار چار اشعار پر مشتمل اشعار کی الگ سے ایک لڑی پروئی گئی ہے۔
تاریکیوں میں شہر ڈبویا آپ نے
الزام دے رہے ہیں کہ سورج غروب ہے
تیراک بحر حرص جہاں ہیں یہ سارے لوگ
گھر کو ڈبونے والے یہی ناخدا ہیں بچ
ٹوٹا ہے شاید اس میں کوئی صبر کا پہاڑ
ورنہ نہیں اٹھاتا کبھی سنگ آدمی
کاندھوں پہ کوئی بوجھ نہ بن جائے ایک دن
لازم ہے اپنے سر کو اٹھا کر چلا کرو
ہمارے گھر کے بڑے ہی نہیں رہے
سبھی بڑے ہوں تو پھر کس کا فیصلہ ٹھہرے
سوتے میں چلنے والے کسی راہ گیر کو
خوابوں کے پیچھے بھاگنے والوں سے کیا غرض
لازم ہے کوئی اور بھی اندر سے ہے شریک
جب کر رہا ہو سازشیں باہر کا آدمی
پتھر کے زمانے سے نکل آئے ہیں لیکن
سوچوں سے ہماری ابھی پتھر نہیں نکلے
بڑے مر گئے تو بڑے بو گئے ہم
مگر بچپنا تو وہیں کا وہیں ہے
اب انصاف آپ لوگوں پر جس شعری مجموعے میں اتنے اچھے اشعار ہوں اور پڑھنے کے بعد اس پر چپ رہا جائے تو یہ ادبی خیانت کے زمرے میں آتا ہے اور خیانت منافقت کی تین نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جس سے اگر وقت پر بچا جائے تو بندہ بہت ساری برائیوں سے بچ جاتا ہے اور راست باز لوگوں کے قطار میں کھڑا ہو جاتا ہے۔
بات راست بازی کی ہو رہی ہے اور اس شعری مجموعے میں یشب تمنا کی راست بازی، غیر منافقانہ رویہ روز روشن کی طرح ابھر کر سامنے آیا ہے اور جو حقیقت نگاری جگہ جگہ اس مجموعے کے اشعار میں نظر آ رہی ہے وہ تخلیق کو کوئی گزند نہیں پہنچاتا تھا بلکہ اس سے تخلیق اور نکھر کر سامنے آجاتی ہے۔
فن کاری جب محض فنکاری ہوتی ہے تو اس میں فنکار ایک شعبدہ باز تو نظر آتا ہے لیکن استاکار نہیں لیکن جب فنکاری میں سچے جذبات، اصل مشاہدات اور کھرے تجربات شامل کیے جائیں تو فنکار تخیل کے راستے اپنی تخلیق ہدف تک کی مسافت ڈھیلے ڈھالے سہاروں کے واسطے نہیں بلکہ مستحکم اور زمینی حقائق کی بنیادوں پر بڑے اعتماد کے ساتھ طے کرتا ہے اور پھر جو بھی کردار سامنے لاتا ہے یا کوئی بھی مکالمہ پیش کرتا ہے تو اس میں ٹھوس تلخی کے ساتھ ساتھ جو روح اور احساس کو چھوتی ہوئی مٹھاس ہوتی ہے وہ اگر ایک جانب جسم و جاں کو تسکین کا سامان فراہم کرتی ہے تو دوسری جانب جسم کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے اور شاید یہ سچ کی آخری انتہا ہوتی ہے۔
شاعر یا فن کار اگر سچا نہ ہو تو وہ کسی کو متاثر نہیں کر سکتا اور کسی کو متاثر کرنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لینا اس طرح ہے جیسے کوئی پانی پر لکیر کھینچتا ہو یا جھاگ سے بلبلے بناتا ہو جو فی الوقت تو جاذب نظر اور اچھوتے دکھتے ہوں لیکن یہ دیرپا نہیں ہوتے ہیں اور لمحے بھر میں قصہ پارینہ ہو جاتے ہیں۔
شاعری وہ ہوتی ہے جو قاری کے ذہن پر ایک نقش چھوڑ دے اور ایک لمحے تک سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ سب تو ہمارے اردگرد ہوتا ہے یا ہو رہا ہے یہ تو میں بھی کر یا لکھ یا تخلیق کر سکتا ہوں لیکن جب کرنے پر آ جائے تو پھر ایک اناڑی کی طرح صرف شرمساری پر اکتفا کرتا ہے۔
یشب تمنا کی شاعری میں جادوگر، شہر، طول شب سیاہ، پتھر، چراغ، آتش یا آتش فشاں، خط یا لکیریں، شاخ، پرندہ، سانپ سیڑھی، بریدہ سر اور زنجیر وغیرہ وہ علامتیں ہیں جو کسی بھی حوالے سے نئی نہیں ہیں لیکن یشب نے اس طرح اپنے اشعار میں جگہ جگہ فن کاری سے جوڑے ہیں کہ شعر تو شعر یہ علامتیں بھی نئی بن کر سامنے آ گئی ہیں۔
شاعری میں سیاسی موضوع کو لانا اب ایک عام سا روش بن چکی ہے۔ لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس کے لئے شاعر حضرات پھر نظم کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ غزل میں پھر اس موضوع کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتے لیکن یشب نے سیاسی موضوع کو اس خوبصورتی سے طنز کے پیرائے میں بیان کیا ہے کہ موضوع بھی برقرار رہا ہے اور غزل کا ناک نقشہ بھی نہیں بگڑا ہے۔ جیسے کہ
پہلے بھی کسی کال پہ تم ڈھیر ہوئے تھے
لگتا نہیں اس بار بھی تم شیر ہوئے ہو
ہم ایک ایسے سفر پر روانہ ہیں جس میں
کوئی پتا ہی نہیں باگ کس کے ہاتھ میں ہو
شاخوں سے اڑ رہے ہیں پرندے یہ سوچ کر
اس باغباں کو فکر چمن اب نہیں رہی
رہبران قوم دشت پیاس میں
بس دکھاتے ہیں سراب انقلاب
جلسے میں جا رہے ہیں مگر یہ پتا نہیں
ہم گھر بھی لوٹ کر کبھی آئیں گے یا نہیں
وہاں وہ نیرو، جلا روم، بانسری کے لے
یہاں مجھے بھی مری خواہشوں نے گھیرا ہے
سانپوں اور سیڑھیوں کے کھیل میں پھر
لگ رہا ہے کہ سانپ جیتیں گے
غزلوں کے ساتھ ساتھ قطعات اور نظموں میں بھی یشب تمنا نے حالات حاضرہ کے مسائل اور وسائل کو بڑی عرق ریزی، سلیقہ اور تہذیبی طرز سے منظوم کیے ہیں جو نہ صرف قاری کو اپیل کرتے ہیں بلکہ اس کے لئے کسی سبیل کا بھی تقاضا کرتے ہیں کیونکہ یشب تمنا جو کچھ لکھتا ہے وہ بے مقصد نہیں لکھتا اس لیے ان کا قاری بھی کسی بے مقصد شاعر یا شاعری کو پڑھنا تو در کنار دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔


