اشتراکی نظام اور کارل مارکس
سرمایہ دارانہ نظام کے برعکس اشتراکیت ایک مختلف اقتصادی نظام ہے۔ جہاں ملک یا سماج میں مالی اور صنعتی وسائل کی ملکیت اشتراک میں ہوتی ہے۔ یہ نظام مختلف اقسام کے اشتراکی تنظیموں کے ذریعے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ جن میں مشترکہ ملکیت، مشترکہ کنٹرول اور منفعت ہوتی ہے۔ ابتدائی طور سینٹ سیمونز نے اپنے فلسفے کی تجرید کے لئے اشتراکیت کو استعمال کیا جو اشتراکی ملکیت اور اشیاء کی پیداواری نظام پر مبنی تھا۔ جسے عوام میں پذیرائی حاصل ہوئی۔
اور اشتراکیت کی آبیاری شروع ہو گئی۔ دنیا میں سب سے پہلی اشتراکی حکومت کا شرف 1917 ء میں روس کو حاصل ہوا جسے ”رشئین سوشل فیڈریٹیو سویت جمہوریہ“ کا نام دیا گیا۔ اشتراکیت اور کیمیونزم ایک دوسرے کے قریب ہونے کے باوجود مختلف نظام ہیں۔ مثلاً اشتراکی نظام پیداوار میں مساوات کا حامی یعنی سب افراد کا حصہ برابر ہے جب کہ کیمیونزم اس سے آگے بڑھتے ہوئے دونوں یعنی پیداوار اور کھپت میں جدت اختیار کرنے کا حامی نظام ہے۔
فوائد:
مالیاتی اور صنعتی وسائل کی مشترکہ ملکیت سے عوام منافع حصہ میں حصہ کے حق دار ہوتے ہیں۔ جس سے مالی لوٹ کھسوٹ اور اجتماعی امتیاز و عدم مساوات میں کمی آتی ہے۔ عوام کی کاروبار میں حصے داری و ملکیت کا مشترکہ کنٹرول ہونے سے انہیں فیصلہ سازی اور معاشی معاملات میں شامل ہونے کا موقع ملتا ہے۔ اشتراکی نظام میں منافع مشترکہ ہوتا ہے۔ اور اس کی تقسیم انصاف کے تقاضوں کی عکاس ہوتی ہے جس سے معاشی تناسب میں بہتری حاصل ہوتی ہے اس نظام میں صلاحیتی تعاون کو انفرادی و گروہی طور بڑھانے کا عہد ہوتا ہے جو مختلف طبقات میں ترقی کا ذریعہ بنتا ہے۔
نقصانات:
کمزور فکری سوچ و بچار: بعض اوقات اشتراکی نظام میں کمزور فکر سوچ و بچار سے نظام کے غیر موثر ہونے سے مختلف معاملات میں رکاوٹیں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ جس سے پیداوار پر اثر پڑتا ہے۔
عدم تحفظ: مشترکہ ملکیت کے نظام سے عدم تحفظ و استحکام پیدا ہوتا ہے۔ عوام کو یہ خدشہ ہوتا ہے کہ ان کا مال محفوظ نہیں ہے اور انہیں منافع سے محروم ہونا پڑے گا۔
عدم جدوجہد : مشترکہ ملکیت میں مالی اور صنعتی وسائل کی ملکیت میں عدم جدوجہد سے غیر یقینی کیفیت ممکن پیدا ہوتی ہے جس سے مالی استحکام میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
فیصلہ سازی میں دیر: اشتراکی نظام میں فیصلہ سازی میں عموماً زیادہ وقت لیا جاتا ہے کیونکہ ہر شخص اپنی رائے کے اظہار کا حق رکھتا ہے۔
کارل مارک اور اس کے نظریات
کارل مارکس ( 1818۔ 1883 ) جرمن فلسفہ کار، سماجی سائنسدان، سیاسی نظریہ ساز، تاریخ دان، سوشلسٹ اور صحافی تھا۔ جس کے نظریات کو ”مارکسسٹ نظریہ“ کہا جاتا ہے جو اس کی سوچ اور نظریات کی تفصیل کو بیان کرتا ہے۔
کارل مارکس کے نظریہ کے اہم ترین اصول:
تاریخی مادہ پرستی (Historical Materialism) : مارکس کا اہم اصول تاریخی مادہ پرستی جس کے مطابق تاریخی ترقی و جدوجہد اور ملکیت کی بنیاد تاریخی مادہ پرستی پر ہوتی ہے۔
طبقاتی جدوجہد (Class Struggle) : مارکس نے کہا کہ معاشرتی ترقی میں طبقاتی جدوجہد اہم ہے۔ جو مختلف طبقات کے درمیان ہوتی ہے۔ جس سے نئے طبقے کی افزائش اور دنیا کی ترقی کو سرگرم رکھتی ہے۔
جائیداد میں نجی ملکیت کا خاتمہ (Abolition of Private Property) : مارکس نے جائیداد کی ملکیت کے نجی شعبے میں خاتمے پر زور دیا اور اس کے نزدیک اسے ایک مشترکہ نظام کے تحت سرکاری ملکیت میں ہونا چاہیے۔
کمیونزم (Communism) : مارکس کے خواب کے مطابق تمام طبقاتی فرقے اور ملکیتیں ختم ہو کر ایک اشتراکی معاشرت میں تبدیل ہو نگی۔ جو کمیونزم کہلائے گی۔
مزدوروں کی عدم دلچسپی (Alienated Labour) : مارکس نے مزدور کا اپنے کام میں مصروفیت سے عدم دلچسپی کا مظاہرہ دیکھا تو اسے محرومیت کا اظہار قرار دیا۔
کارل مارکس کے اخلاقیات (Marxist Ethics) : مارکس نے ایک اخلاقی نظام بھی تشکیل دیا۔ جس میں انصاف، برابری اور مشترکہ اہتمام پر زور دیا گیا۔ اس کے نظریات نے سماجی علوم، اقتصادیات، روانیات اور سیاست پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ان کے نظریات نے کئی ملکوں کی سرحدیں عبور کیں۔ وہ اپنے نظریات کی آبیاری و عملداری میں کامیاب ہوا یا نہیں اس کا فیصلہ وقت اور زمانہ کرے گا۔ اب آگے بڑھتے ہیں اور اگلی و آخری قسط میں اسلام کے مالیاتی نظام بارے جاننے کی سعی کرتے ہیں۔


