ڈھلتی رات کے سناٹے میں
بینکاروں کے بارے میں عام تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ بڑے خشک مزاج اور ہندسوں سے کھیلنے والے ہوتے ہیں۔ ان کو شاید پتہ نہیں ہے کہ افسانہ نگاری، ناول نگاری اور شاعری کے علاوہ کالم نگاری میں مشتاق یوسفی اور جمیل الدین عالی جیسی دوسری بہت سی شخصیات کا تعلق بینکنگ کے شعبہ سے تھا۔ اس فہرست میں ایک بڑا نام علی عباس زیدی کا بھی ہے جن کی یاد میں آج کی محفل سجی ہے۔
میرا خیال ہے کہ اس ہال میں بیٹھے ہوئے بہت کم لوگ علی عباس زیدی کے بارے میں جانتے ہوں گے۔ انھیں شاید یہ علم بھی نہیں ہو گا کہ ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ بلکہ ان کی زندگی کے آخری ایام اسی شہر میں گزرے ہیں۔ ایسے وقت میں جب اس شہر میں ادب، شاعری اور موسیقی پر بات کرنے والے افراد کی تعداد انتہائی کم تھی، انھوں نے میرپور میں علم و ادب کی ترویج کے لیے ادارہ ”نو بہ نو“ کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ مل کر چلاتے تھے۔ ادارہ نو بہ نو کے زیر اہتمام ادبی تقریبات اور مشاعروں کے علاوہ شہر کے مختلف اسکولوں کے بچوں کے درمیان تقریری، ذہنی آزمائش، قرات اور نعت خوانی کے مقابلے منعقد کروائے جاتے تھے۔ زیدی صاحب ان پروگراموں میں حصہ لینے والے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت بھی کرتے تھے۔
جون 1990 ء میں راقم اپنے بینک کے میرپور زونل آفس میں سٹاف افسر تعینات تھا۔ میرپور زون میں نئے آنے والے زونل ہیڈ ریاض حسین شاہ نے مجھے ایک دن علی عباس زیدی کا پتہ کرانے اور ان سے ملاقات کروانے کو کہا۔ زیدی صاحب ان دنوں حبیب بینک میرپور کے آڈٹ آفس میں تعینات تھے۔ فون پر ان سے بات ہوئی تو انھوں نے کہا! صاحب ہمارے ملنے پر کوئی پابندی نہیں ہے آپ جب چاہیں تشریف لے آئیں۔ ہم ان کے دفتر پہنچے تو ایک خوبصورت سمارٹ اور بردبار شخص ہمارے سامنے بیٹھا تھا۔ بینکر عموماً ًخوش لباس ہوتے ہی ہیں لیکن زیدی صاحب خوش لباس ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے ملنسار نظر آئے۔ ان کے خوش گفتاری سے سلجھی ہوئی باتیں کرنے کے ایک خاص انداز نے ان سے ہماری اس پہلی ملاقات کو یادگار بنا دیا۔
1993 میں ان کے بینک کے ساتھیوں نے ان کی یاد میں میرپور کے جبیر ہوٹل میں ایک تقریب منعقد کی۔ بڑی بڑی علمی و ادبی شخصیات نے ان کی شاعری اور شخصیت پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ان کی بھانجی عالیہ امام نے خصوصی طور پر اس تقریب میں شرکت کی اور مہمانوں کو خوش آمدید کہنے اور تقریب کے اختتام پر ان کی آمد پران کا شکریہ ادا کرنے میں پیش پیش رہیں۔ راقم بھی اس تقریب میں اپنی اہلیہ کے ساتھ شریک تھا۔ اس کے بعد ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی۔
چند دن پہلے آج کی تقریب کے روح و رواں عزیزم ساجد یوسف نے زیدی صاحب کے قائم کردہ ادارے نو بہ نو کے ساتھ جڑی اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے اپنے فیس بک پیج پر ایک خوبصورت تحریر لکھی تو پھر ان کا چہرہ ایک بار پھر آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ ساجد نے ہی ان کا مجموعہ کلام ڈھلتی رات کے سناٹے کا ایک نسخہ بھی عنایت کیا۔
” علی عباس زیدی جولائی 1936 ء میں متحدہ ہندوستان کے شہر الہ آباد کی تحصیل پھول پور میں پیدا ہوئے، جہاں سے ان کا خاندان 1954 ء میں ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہوا۔ اس وقت کا کراچی مشرق وسطی کا ایک انتہائی خوبصورت اور مصروف ترین شہر تھا۔ اسی شہر سے انھوں نے گریجویشن مکمل کر کے 1963 ء میں حبیب بینک کی ملازمت اختیار کی۔ ان دنوں بینک کی ملازمت کو سی ایس ایس سے زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ ان کی پہلی تعیناتی مشرقی پاکستان میں ہوئی جہاں وہ 1972 ء تک مقیم پذیر رہے۔ ان کی ملازمت کا ایک طویل عرصہ میرپور شہر میں گزرا اور یہیں 1992 ء کے رمضان کی ایک سحری کو 56 سال کی عمر میں وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کے جسد خاکی کو کراچی لے جایا گیا جہاں ان کی تدفین ہوئی۔“
ان کے والد وکالت پیشہ ہونے کے علاوہ انتہائی علمی و ادبی شخصیت تھے۔ زیدی صاحب بچپن سے ہی لطیف جذبات رکھنے والے بڑی حساس طبیعت کے مالک تھے۔ نوجوانی کے دنوں کی اس وقت کی سیاسی ہلچل، ہندوستان کی تقسیم اور آزادی اور انقلاب کی باتوں نے ان کے نوخیز ذہن کو سنجیدہ اور پختہ کر دیا تھا۔ جہاں اس زمانے میں تیغ الہ آبادی (مصطفی زیدی) اسرار احمد (ابن صفی) اور شکیل نشتر جیسی شخصیات نے بھی اپنی ادبی زندگی کی شروعات ہوئی وہیں زیدی صاحب کی ادبی سرگرمیوں کا آغاز تھا۔
جب وہ کراچی منتقل ہوئے تو ایک تاریخی اور ثقافتی شہر سے کراچی جیسے جدید اور کمرشل شہر کی روشنیوں میں آباد میں ہونا ان کی زندگی کا ایک نیا تجربہ تھا۔ ہجرت اور پھر نئے شہر میں آبادی کاری ایک بڑا کٹھن مرحلہ تھا جس سے وہ دوچار ہوئے اور پھر تعلیم کی تکمیل میں پیش رفت ان کی زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ یہاں جون ایلیا، وسیم فاضلی اور عباس حیدر عابدی جیسے نوجوانوں سے ان کی سنگت ہو گئی۔ انھوں نے جب شاعری شروع کی تو انھیں اقبال کوثر، یوسف حسن اور نذیر انجم جیسے شاعروں کا ساتھ میسر آیا، جنھوں نے ان کے اندر کے شاعر کو پھر سے زندہ کر دیا۔
ہمارے دوست اور بینکر ساتھی امتیاز احمد چوہدری نے اپنی ملازمت کے کافی سارے سال میرپور میں زیدی صاحب کے ساتھ گزارے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ زیدی صاحب کا شمار بڑے روشن خیال، مہذب اور ترقی پسند افراد میں ہوتا تھا۔ وہ مذہبی شدت پسند کے خلاف ایک اعتدال پسند فرد تھے۔ ان سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں وہ بڑی علمی و ادبی شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے بارے میں زیدی صاحب کی گئی سب پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئیں۔ شاعر لوگ عموماً ً ایک خاص مزاج رکھتے ہیں اور زندگی کی دیگر سرگرمیوں میں کم دلچسپی لیتے ہیں لیکن زیدی صاحب اپنے پیشے سے انتہائی مخلص تھے۔ ان کا شمار انتہائی سمجھ دار اور پختہ کار بینکاروں میں ہوتا تھا۔ وہ اپنے شعبے میں انتہائی مہارت رکھتے تھے۔ ہمارے لئے وہ ایک رول ماڈل تھے۔
” ڈھلتی رات کے سناٹے میں“ علی عباس زیدی کی شاعری کا مجموعہ ہے جسے ان کی حیات کے بعد ان کے بچوں نے ترتیب دیا ہے۔ نعت، سوز و سلام، نظموں، غزلوں اور لاتعداد اشعار پر مشتمل ان کا یہ مجموعہ کلام گندھارا بکس راولپنڈی نے 2000 ء میں چھاپا تھا۔ مجموعہ کلام کے پہلے حصے میں نعت رسول ﷺ، سلام بحضور امام حسینؓ، مرثیہ بی بی زینب، سوز و سلام اور پانچ نظمیں جب کہ دوسرا حصے میں تیس سے زیادہ غزلیات اور تیسرے حصے ان کے لا تعداد اشعار شامل ہیں۔ زیدی صاحب کا یہ مختصر دیوان آج کل کے شاعروں کے دس دس دیوانوں پر بھاری ہے۔
ان کی لکھی ہوئی یہ نعت کیا کمال کی نعت ہے۔
عظمتیں کس کو ملیں ایسی محمد کے سوا
رفعتیں پائی ہیں کسی شخص نے احمد کے سوا
امام عالی مقام حضرت امام حسین ؓ کے حضور سلام پیش کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں۔
کیا بستیاں ہوتی گئیں آباد دلوں میں
پیاسوں نے عجب شہر بسایا لب دریا
کیا شیر تھا جب چھین لی اعدا سے ترائی
تب چادر خوں تان کر سویا لب دریا
سحر انصاری ان کے بارے میں لکھتے ہیں۔ علی عباس زیدی ایک روشن خیال درد مند اور مخلص شاعر کی حیثیت سے اپنے کلام میں اپنے عہد کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں۔ غزل میں استعاروں اور علامتوں کے استعمال سے وہ خوب واقف تھے۔ وہ ایک مکمل شاعر تھے۔
چلو کچھ تو ثواب کیف پرور مل ہی جاتا ہے
معانی سے کیا غرض، ہم فقط آیات سنتے ہیں
وہ جن کو رنگ، خوشبو، پھول، بچے کچھ نہیں بھاتا
ہمارے گرد ایسے بھی ادھورے لوگ رہتے ہیں
نوجوانی کے بے فکر دنوں کی کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں۔
تھوڑے دنوں کی چاہت تو ہم دونوں کی مجبوری تھی
میں بھی اکیلا پھرتا تھا، اس دور میں وہ بھی تنہا تھا
اور اس شعر میں انھہوں نے ایک تلخ حقیقت بیان کی ہے۔
جو بھی آیا اپنی اپنی گاگر بھر کر چلا گیا
اور کنویں کے پاس ہی بیٹھا ایک مسافر پیاسا تھا
یوسف حسن ایک منفرد لب و لہجے کے شاعر تھے۔ وہ زیدی صاحب کے ساتھیوں میں سے تھے۔ وہ ان کے بارے میں لکھتے ہیں۔ وہ بہت سے اوصاف کے ساتھ ایک غیر معمولی شخصیت کے مالک تھے، جن میں نمایاں وصف انسان دوستی تھا۔ ان کی شاعری بالخصوص غزلیں اور آزاد نظمیں اپنے اندر جدید معنوی اور فنی عناصر کی مظہر ہیں۔ ان کی استعاراتی تمثالین اپنی نئی معنویت کے حوالے سے خاص طور پر قابل توجہ ہیں
خود اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا اب نہ روئیں گے
حریم دل میں اتنا شور ہے ہم کیسے سوئیں گے
ادھر کے موسموں کا حال بھی دیکھیں تو کیسا ہے
ہم اب کے آرزو کے بیج دشت ہو میں بوئیں گے
ان کے اشعار میں کتنی حقیقت پسندی اور اپنی انا کی باتیں ہیں، جن کا اظہار ان اشعار میں ملتا ہے۔
کسی دولت کدے میں وہ سکوں مل ہی نہیں سکتا
جو اپنی خستہ دیواروں کا گھر آرام دیتا ہے
ہم ایسے اجنبی اس میکدے میں کس لیے جائیں
جہاں پیر مغاں پہچان کر ہر جام دیتا ہے
ان کی ایک خوبصورت غزل۔ ان کے مجموعہ کلام سے میرا انتخاب۔
بہت دنوں پہ ملے ہو کچھ اپنا حال سناؤ
بدل گئے ہو تم اس درجہ کیسے، یہ تو بتاؤ
تمھیں خبر نہیں جگ مگ ہے کس قدر یہ دیا
تم اپنے دل میں محبت کا ایک دیا تو جلاؤ
خدا نے دست جفاکش یونہی نہیں بخشا
خدا کے سامنے کبھی اپنا ہاتھ مت پھیلاؤ
ہزار بار تو لوٹا چکے ہو رستے میں
کسی بہانے کبھی مجھ کو اپنے گھر تو بلاؤ
آفتاب اقبال شمیم لکھتے ہیں علی عباس زیدی نے غزل کی روایت کو عصری تلازموں اور آج کے شعری محاورے میں جس ہنر کاری سے ڈھالا ہے وہ قابل ستائش ہی نہیں باعث رشک بھی ہے
وقت کٹھن تو تھا مگر اپنا جنوں بھی کم نہ تھا
ہجر کے دن بھی کٹ گئے روز حساب کی طرح
دھوپ تمھاری یاد کی سایہ جاں بھی ہو گئی
ہم نے یہ عمر کاٹ دی ایک سراب کی طرح
حضرت شیخ نیکیاں کرتے رہے برائے لطف
ہم نے گناہ بھی کیے اور ثواب کی طرح
اچھی کتاب کی طرح میں نے اسے پڑھا بہت
اور وہ سمٹ کے ہو گیا آخری باب کی طرح
وہ مزید لکھتے ہیں۔ انسانی اقدار کی شکست و ریخت پر دل زدگی ہر غزل سے مترشح ہے۔ لگتا ہے کہ تہذیب غم سے شائستگی اور بصیرت اخذ کرنے میں انھوں نے عمداً دیر کر دی۔ وہ کشور شاعری میں دیر سے داخل ہوئے اور وہاں سے بے خواہش نام و نمود جلدی سے ہجرت کر گئے۔
جذبہ ہجرت کی سرشاری نہ پوچھ
چھوڑ آیا گھر کا دروازہ کھلا
ہمیں تاریخ کا اک ورق محفوظ رکھنا ہے
قلم اور استرے کا فرق ملحوظ رکھنا ہے
بجا ہے ہر سراپا حسن کی مورت نہیں ہوتا
مگر کوئی بھی اس دنیا میں بد صورت نہیں ہوتا
چلے کاٹے تعویزیں لیں دست دعا پھیلائے پھرے
میرے گھر میں چاند نہ اترا ہر کوشش ناکام ہوئی
(یہ مضمون 11 جنوری 2024 علی عباس زیدی کی یاد میں میاں محمد بخش لائبریری میرپور میں منعقد ہونے والی تقریب میں پڑھا گیا۔ )


