رسیاں لاؤ، لیکن ذرا مضبوط رسیاں!
اسے شیشم کے درخت سے کس کے باندھو اور کستے ہوئے رسی کھینچو! اب دو بندے رسی کو پکڑے رکھو۔
ادھر آ، ابے خبیث! تو کیوں مست ہاتھی کی طرح مچل رہا ہے۔ اس کی بھی ٹانگیں باندھو۔ (ٹانگے باندھ دی گئیں۔ )
چارپائی پر بیٹھے دلاور نے پوچھا ”میں کیا کروں؟“ تو کچھ نہ کر بیٹا بس ہمیں کام کرتا ہوا دیکھ۔
رسیاں پکڑے لوگوں میں سے ایک چلایا استاد جی! سوا لے آؤ، اگر بیل بھاگ گیا تو پھر یہ پکڑائی نہیں دے گا اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔ بھاری بھرکم استاد چارپائی سے اٹھا مونچھوں کو تاؤ دیتے ایک بڑا سا سوا اٹھائے جس کے پیچھے تین فٹ کی موٹی رسی تھی اس نے بیل کے قریب جاتے ہی بیل کو پیٹنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی بولے جا رہا تھا اب یہ ہمیں مشکلات سے دو چار نہیں کرے گا۔
پھر اس نے بیل کی ناک میں سوئے سے چھید کیا اور رسی کو چھید سے گزار کر بیل کے سینگوں کے پیچھے گردن میں لپیٹ دیا۔
لو بھائی! مبارک ہو بیل کو نکیل ڈال دی۔ گئی۔
پیارے دلاور! جاؤ اندر چائے مٹھائی کا بندوبست کرو۔
استاد جی! یہ نکیل کس کام کے لیے ہوتی ہے؟ دلاور نے استاد کو چائے پیش کرتے ہوئے پوچھا!
جب بچھڑا جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو اس کے اندر کا خون جوش مارتا ہے پھر یہ اپنے مالک کو پہچاننے سے انکار کر دیتا ہے، ٹکر مارتا ہے اور مالک کی نافرمانی کرتا ہے، جس نے اس زورآور بنایا، جوانی دی، اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھا، اس لیے ہم اسے نکیل دیتے ہیں کہ اپنا حکم اس پر صادر کریں۔
بیٹا یہ نکیل غلامی کی علامت ہے۔
دلاور سارے راستے سوچ میں گم استاد جی کی باتیں دہراتا چلا گیا جب گھر پہنچا تو گھر میں گہما گہمی تھی۔
جیسے کچھ ہو رہا تھا یا ہونے والا تھا۔
دروازے میں قدم رکھتے ہی ماں بولی دلاور پتر جا مٹھائی لے آ تیری بہن نے نتھلی کے لیے ناک چھدوانی ہے۔
دادی اماں چلا کر بولیں : ارے چھوریو! جاؤ اس کمینی کو اٹھا لاؤ اس کی ناک میں تو میں خود چھید کروں گی ولایت سے پڑھ کر آئی ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ ولایت کے قانون اور یہاں کے اصول بہت مختلف ہیں۔
دلاور دروازے پر سن کھڑا اپنے وہ سوال دہرانے لگا، جو اس نے استاد جی سے پوچھے تھے اور اب وہ استاد کے سارے جوابوں میں الجھ کر رہ گیا تھا


