رسیاں لاؤ، لیکن ذرا مضبوط رسیاں!

اسے شیشم کے درخت سے کس کے باندھو اور کستے ہوئے رسی کھینچو! اب دو بندے رسی کو پکڑے رکھو۔ ادھر آ، ابے خبیث! تو کیوں مست ہاتھی کی طرح مچل رہا ہے۔ اس کی بھی ٹانگیں باندھو۔ (ٹانگے باندھ دی گئیں۔ ) چارپائی پر بیٹھے دلاور نے پوچھا ”میں کیا کروں؟“ تو کچھ نہ کر بیٹا بس ہمیں کام کرتا ہوا دیکھ۔ رسیاں پکڑے لوگوں میں سے ایک چلایا استاد جی! سوا لے آؤ، اگر بیل بھاگ گیا تو

Read more

منٹو کا خط

جھوٹی دنیا کے جھوٹے لوگوں! آپ کو ایک سچے شخص سعادت حسن منٹو کا سلام! کاشف! مجھے تمہارا خط موصول ہوا، جس میں تم نے لکھا تھا کہ ”میں تمہیں اپنے بارے میں بتاؤں“ یعنی میں کون تھا، کیا تھا، کیوں تھا اور کیسا تھا۔ میرے خیال میں تم ایک نادان اور کم فہم لڑکے ہو کیونکہ تم معاشرے پر سوال اٹھانا چاہتے ہو۔ سنو! تم نے ابھی اپنے سماج کا مکروہ چہرہ نہیں دیکھا۔ خیر سنو! میں تمہاری جھوٹی

Read more