رسیاں لاؤ، لیکن ذرا مضبوط رسیاں!
اسے شیشم کے درخت سے کس کے باندھو اور کستے ہوئے رسی کھینچو! اب دو بندے رسی کو پکڑے رکھو۔ ادھر آ، ابے خبیث! تو کیوں مست ہاتھی کی طرح مچل رہا ہے۔ اس کی بھی ٹانگیں باندھو۔ (ٹانگے باندھ دی گئیں۔ ) چارپائی پر بیٹھے دلاور نے پوچھا ”میں کیا کروں؟“ تو کچھ نہ کر بیٹا بس ہمیں کام کرتا ہوا دیکھ۔ رسیاں پکڑے لوگوں میں سے ایک چلایا استاد جی! سوا لے آؤ، اگر بیل بھاگ گیا تو
Read more
