پی ٹی آئی اور انتخابی نشان


میں یقین کے ساتھ یہ بات تحریر کر رہی ہوں مستقبل میں تحریک انصاف کے ساتھ کی جانے والے تمام نا انصافیاں کتابی شکل میں میسر ہوں گی۔ مجاہد لاہوری کی کتاب ”بھٹو کے عدالتی قتل“ کی طرح۔

میرا خیال سے ہمارے ہاں یہ رسم بن گئی ہے۔ انتہا کی نا انصافیوں کے بعد تحریر یا کسی دستاویزی فلم کی شکل میں محفوظ کر دیں۔ کیوں کہ جس تحریک کا نام بذات خود انصاف ہو وہ محروم رہیں انصاف سے تو ذہن میں ایک ہی خیال آتا ہے

”چراغ تلے اندھیرا“
آج کے موجودہ دور میں بچہ بچہ جانتا ہے ہمارے ملک کے لیے بہترین کیا ہے کیا ہونا چاہیے۔
سابقہ دو سالوں سے (ایاک نعبدو و ایاک نستعین، ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ ) سے ابتدا کرنے والے لیڈر انتہا کی مشکلات دیکھنے کے باوجود ڈٹے رہے۔

موجودہ دنوں میں تحریک انصاف بلے کے نشان سے محروم ہونے کے خدشے میں ہے۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو پی ٹی آئی کے تمام ممبرز نے قبول کیا اور دوبارہ سے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا حق استعمال کرنے کا اعلان ہوا۔ اگرچہ بطور وکیل ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں معزز جج صاحبان کا فیصلہ دینا حق ہے اور رول آف لا پر آواز بلند کرنا ہمارا بنیادی اور آئینی حق ہے۔
بلے کا سیمبل واپس لینے کے بعد تحریک انصاف کے ممبرز الیکشن تو لڑیں گے مگر آزاد امید وار میں۔

گزشتہ دو سالوں میں ہر محبت وطن کے منہ سے تحریک انصاف کی صدا نکلی ہے اور موجودہ دورانیہ میں میں یقین سے کہہ سکتی ہوں اور عمران خان اپنے امیدواروں کی شناخت کے بغیر ووٹ کا حکم کریں تو پی ٹی آئی کے کارکن ووٹ اینڈ سپورٹ کریں گے۔

ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں
وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں

عمران خان ملک کی شان ہے آن ہے بلے کا نشان تو کیا اگر پی ٹی آئی کے ووٹرز سے ووٹ کا حق بھی چھین لیا گیا تو یہ پارٹی تب بھی ڈٹی رہے گی عمران خان کی بائیس سالہ محنت کاوشوں کی طرح۔

آپ باغ کے پھول توڑ تو سکتے ہیں مگر کھلنے سے نہیں روک سکتے۔ پاکستان تحریک انصاف کا شمار بھی ان پارٹیز میں ہوتا ہے لاکھ مشکلات ہوں یہ پارٹی ہر میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی۔

Facebook Comments HS