پولیو زدہ پاکستان


گرم کمرے میں چائے کا کپ سامنے رکھے انتہائی انہماک سے میں ایک آرٹیکل لکھنے میں مصروف تھی کہ گیٹ کی گھنٹی نے ٹن ٹن بجائی۔ بادل نخواستہ میں اٹھی اور گیٹ کی طرف چل پڑی۔ گیٹ پر جا کر دیکھا تو تیس سال کی عمر کے لگ بھگ دو خواتین پولیو ویکسین کا تھرماس، کچھ کاغذات اور ایک چاک لئے جنوری کی یخ بستہ سردی میں کھڑی تھیں۔ گیٹ کھلتے ہی انھوں نے سوال کیا، کیا گھر میں پانچ سال سے کم عمر کے بچے ہیں۔ میں نے کہا بھئی میرے بچے تو اب جوان ہو گئے ہیں۔ انھوں نے پوچھا اگر کوئی مہمان بچہ ہو تو ۔ میں نے خوش مزاجی سے کہا نہیں ہے پر میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ نے اتنے احساس سے یہ معلوم کیا۔ میں نے انھیں چائے پینے کی دعوت دی جس سے انھوں نے سلیقے سے معذرت کر لی۔ گیٹ پر کچھ اندراج کیا اور خداحافظ کہ کر اگلے گھر کی طرف بڑھ گئیں۔

میری یہ عادت ہے کہ گیٹ پر پولیو ورکرز آئیں، ڈینگی کا سروے کرنے والے آئیں یا کسی اور حکومتی سروے کے لئے کوئی آئے، میں ہمیشہ خندہ پیشانی سے ان کے سوالوں کے جواب دیتی ہوں۔ میرا یہ ماننا ہے کہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر یہ افراد بہت بڑی سماجی خدمت سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں ان کی خدمات کو سراہنا چاہیے اور ان سے عزت و احترام سے پیش آنا چاہیے۔ پھر وطن عزیز میں پولیو ورکرز نے تو اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران جانوں کا نذرانہ تک پیش کیا ہے۔

آج کل بھی ٹی وی سکرین پر پولیو ورکرز دور دراز علاقوں میں مطلوبہ سہولیات کی عدم دستیابی کے باوجود برف میں چلتے ہوئے اپنے فرض کی ادائیگی میں مشغول نظر آتے ہیں۔ شدید سردی ہو یا شدید گرمی یہ اپنے فرض کی بجا آوری میں غفلت نہیں برتتے۔ پولیو ورکرز ہمارے بچوں کو مفلوج ہونے سے بچانے کے لئے مشکل حالات میں ہمارے دروازے پر آتے ہیں۔ ہمیں ان کا خوش اخلاقی سے استقبال کرنا چاہیے اور بچوں کو قطرے ضرور پلوانے چاہیے۔

بچوں کو مفلوج کر دینے والے پولیو سے بچانے کے لئے 2024 کی پہلی ملک گیر ویکسینیشن مہم آٹھ جنوری سے شروع ہو چکی ہے۔ ملک بھر میں جاری اس مہم کے دوران پانچ سال تک کے چار کروڑ تینتالیس لاکھ بچوں کو پولیو ویکسینیشن کے قطرے پلائے جائیں گے۔ چار لاکھ سے زائد ویکسینیٹرز بچوں کے گھروں کی دہلیز پر ویکسین لا رہے ہیں۔ والدین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے گھروں کے دروازے ان ویکسینیٹرز کے لئے کھول دیں تاکہ بچے یہ ضروری قطرے حاصل کر سکیں۔

ڈاکٹر شہزاد بیگ، نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر برائے پولیو کا خاتمہ کے کوآرڈینیٹر کے مطابق، ”پولیو ایک تباہ کن بیماری ہے جو بچوں کو نہ صرف انفرادی سطح پر متاثر کرتی ہے۔ بلکہ پورے خاندان کی زندگی بدل دیتی ہے“ ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ”ویکسین اس بیماری سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ یہ بچوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع دیتی ہے۔ لہٰذا میں ملک بھر میں والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں سے التجا کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے ہر موقع سے فائدہ اٹھائیں“ ۔

گزشتہ ہفتے کے اوائل میں وزیراعظٰم کے معاون خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی، مولانا طاہر اشرفی نے بھی اس حوالے سے لاہور میں ایک خصوصی تقریب میں شرکت کی۔ انھوں نے کہا ہمیں متحد رہنا چاہیے اور افواہوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ انھوں نے مصر میں ہونے والی علماء اور مفتیان کی کانفرنس کا حوالہ دیا جس میں پولیو ویکسین کو حلال قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ بچوں کی صحت کے لئے کسی طرح سے بھی نقصان دہ نہیں۔ ویکسین کو تولیدی نظام کے مسائل سے جوڑنے کے بے بنیاد دعووں کو مسترد کیا گیا ہے ۔ مولانا نے عوام کو تنبیہ کی کہ اگر ان کا بچہ ویکسین پلانے میں ناکامی کے باعث معذوری کا شکار ہوتا ہے تو والدین اور دیکھ بھال کرنے والے رب کے سامنے جوابدہ ہیں۔

پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو پولیو وائرس سے ہوتی ہے اور بنیادی طور پر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ وائرس اعصابی نظام پر حملہ کرتا ہے اور معذوری یا موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اگرچہ پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے تاہم ویکسینیشن بچوں کو اس معذوری سے بچانے کا موثر ترین طریقہ ہے۔ 1955 میں پولیو وائرس کی پہلی ویکسین ایجاد ہوئی جبکہ قطرے پینے والی پولیو ویکسین 1961 میں ایجاد ہوئی تو دنیا میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔

ہر دفعہ جب پانچ سال سے کم عمر بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں تو اس کے وائرس سے تحفظ میں اضافہ ہوتا ہے۔ بار بار کے حفاظتی قطروں نے لاکھوں بچوں کو اس مرض سے بچایا ہے جس سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو گئے ہیں سوائے دو ہمسایہ ممالک افغانستان اور پاکستان کے۔ اگر کسی ملک میں مسلسل تین سال تک پولیو کا کوئی کیس سامنے نہ آئے تو اسے پولیو فری قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں 2023 میں پولیو کے 6 کیسز رپورٹ ہوئے۔

4سے 13 دسمبر کے درمیان ٹیسٹ کیے گئے سیوریج کے چودہ نمونوں میں پولیو وائرس کا انکشاف ہوا ہے۔ وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم جان ملک کے مطابق پورے سال میں مثبت ماحولیاتی نمونوں کی تعداد 112 رہی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس سال ہم نے درآمدی وائرس کی متعدد شناختیں دیکھی ہیں جو اس بات پر روشنی ڈالتی ہیں کہ وائرس کی سرحد پار منتقلی ہر ملک کے بچوں کے لئے ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اس لئے والدین پولیو وائرس کے شدید خطرے کو سمجھیں اور اپنے بچوں کو پانچ سال کی عمر تک قطروں کی کئی خوراکیں پلائیں۔

اگرچہ پاک وطن میں پولیو کے حفاظتی ٹیکوں کی مہم 1974 میں شروع ہو گئی تھی لیکن قطرے پلانے کی با ضابطہ کوششیں 1994 میں شروع ہوئیں۔ صرف گزشتہ ایک دہائی میں ویکسینیشن کے 100 سے زائد راؤنڈز کے باوجود یہ انفیکشن پاکستان میں مو جود ہے۔ حکومت جاپان 1996 سے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے پروگرام میں معاون ہے۔ طویل عرصے سے جاری اس شراکت داری نے لاکھوں بچوں تک زندگی بچانے والی اس ویکسین کو پہنچنے میں مدد دی۔ پاکستان پولیو کے خاتمے کا پروگرام ایک پبلک پرائیویٹ پروگرام ہے جس کی قیادت حکومت پاکستان کرتی ہے۔ اسے عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، بل اینڈ میلینڈا گیٹس فاؤنڈیشن، روٹری انٹرنیشنل اور یو ایس سنٹرز فار ڈیزیز وغیرہ کی سپورٹ حاصل ہے۔

ہمیں اس بین الاقوامی تعاون کی قدر کرنی چاہیے اور ملک میں پولیو کے خاتمے کے لئے ہونے والی کاوشوں سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ پولیو سے پاک پاکستان کے لئے اجتماعی کوششوں کی فوری ضرورت ہے۔ مضبوط سیاسی عزم اور کمیونیٹیز کا بھر پور تعاون درکار ہے۔ اگر 2026 کے آخر تک پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آتا تو پاکستان پولیو فری قرار دیا جائے گا۔ اس جدوجہد میں مصروف پولیو ورکرز کو خراج تحسین! پولیو کے خاتمے کی راہ میں جانیں گنوانے والے افراد بشمول پولیو ورکرز، پولیس اور فوج کی قربانیوں کو خراج عقیدت!

Facebook Comments HS