انتخابات اور سپریم کورٹ کا فیصلہ
بالآخر پاکستان تحریک انصاف سے بلے کا نشان چھن گیا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے فیصلے نے تحریک انصاف کے بطور پارٹی انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔ پی ٹی آئی جو لیول پلیئنگ فیلڈ مانگنے کے لئے پہلے ہی سپریم کورٹ میں تھی اس کے نیچے سے پورا فیلڈ کھینچ لیا گیا ہے۔ اب اس کے امیدواران آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں۔ ان کو مختلف قسم کے نشانات الاٹ کر دیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اس غیر متوقع فیصلے نے سول سوسائٹی اور جماعت کے ووٹرز کو مایوسی سے دوچار کر دیا ہے۔
جماعت نے آخری لمحات میں پی ٹی آئی نظریاتی کے نشان بلے باز پر الیکشن لڑنے کی کوشش کی مگر الیکشن کمیشن فوراً حرکت میں آیا اور اس نے اپنے ایک فیصلے میں آر اوز کو یہ نشان پی ٹی آئی ممبران کو الاٹ کرنے سے روک دیا ادھر نظریاتی گروپ کے سربراہ نے پریس کانفرنس کر کے یہ نشانات دینے کی تردید کر دی اس طرح پی ٹی آئی کا پلان بی بھی ناکام بنا دیا گیا۔
اب پی ٹی آئی کا پلان سی کیا ہو گا؟ فی الحال تو جماعت نے آزادانہ حالت میں اپنے امیدواران کو میدان میں اتار دیا ہے اور الیکشن کا بائیکاٹ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد جماعت کے الیکشن میں کامیابی کے امکانات کیا رہ جاتے ہیں۔ بظاہر تو جماعت کو مخصوص سیٹوں میں اپنے شیئر سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ اگر پی ٹی آئی کے امیدواران آزاد حیثیت میں کامیاب ہوتے ہیں اور پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہیں تو کیا ان کو مخصوص سیٹوں سے شیئر ملے گا؟
اس کے بھی امکانات کم ہیں اور عدالتوں سے ان کو ریلیف ملنے کے امکانات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں اس سلسلہ میں پی ٹی آئی سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ریویو میں جانے کا ارادہ بھی ظاہر کر چکی ہے۔ پی ٹی آئی کے مخالفین خوشیاں منا رہے ہیں۔ بلاول نے بلا چھن جانے کے بعد پنجاب میں ڈیرے ڈال لیے ہیں ان کے خیال میں تحریک انصاف میدان سے آوٹ ہو چکی ہے اور اب مقابلہ مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی میں ہو گا۔ چیف جسٹس جو ہمیشہ سول سوسائٹی کے پسندیدہ رہے ہیں ان کے اس فیصلے پر کئی غیر جانبدار اور تحریک انصاف کے مخالف سمجھے جانے والی شخصیات نے بھی تنقید کی ہے اور اس کو جمہوریت کے لئے اور موجودہ الیکشن کی ساکھ کے لئے تباہ کن قرار دیا ہے۔
حامد میر اور مطیع اللہ جان نے اس فیصلے پر سوال اٹھائے ہیں کہ اس کے ذریعے دستور میں دی گئی بنیادی حقوق کی نفی کی گئی ہے۔ تو کیا مخالفین کی خوش فہمیاں درست ہیں اور تحریک انصاف اس شدید دھچکے سے جانبر ہو سکے گی۔ کیا ووٹرز ایک متفقہ نشان کی غیر موجودگی میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ووٹ نہیں ڈال پائیں گے؟ یہ ضرور ہے کہ اب پی ٹی آئی کے امیدواروں کو پہلے سے زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔ اپنے اپنے نشانات کی بہت زیادہ تشہیر کرنی پڑے گی۔
خاص کر کم پڑھے لکھے دیہاتی علاقوں میں لوگوں کو اپنے نشان پر مہر لگانے کے لئے ان کو زیادہ رابطوں کی ضرورت ہو گی۔ اس طرح مخالفین کے اس بیانیہ کو بھی تقویت ملے گی کہ با اختیار حلقے کبھی پی ٹی آئی کو حکومت میں نہیں آنے دیں گے۔ مگر اس فیصلے کے بعد پارٹی کے سپورٹرز میں جو غم و غصہ پایا جاتا ہے وہ ان کو الیکشن کے دن زیادہ تعداد میں باہر نکلنے پر بھی آمادہ کر سکتا ہے۔ پی ٹی آئی امیدواران زیادہ محنت کر کے اپنے اپنے نشانات کو عوام میں زیادہ مقبول بنا سکتے ہیں۔
اور مخالفین کو پچھاڑ بھی سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کا ووٹ بنک زیادہ تر نوجوان اور پڑھے لکھے طبقے پر مشتمل ہے جن کو نشان کی تبدیلی سے زیادہ اثر شاید نہ پڑے۔ شہری حلقوں میں بھی بلے کی بجائے کسی دوسرے نشان پر مہر لگانے میں اتنی کنفیوژن نہیں ہو گی۔ سوشل میڈیا کی موجودگی نے اب تشہیر کو آسان کر دیا ہے اور لوگوں کو زیادہ باخبر بنا دیا ہے۔ اس لئے بلاول بھٹو کی یہ خوش فہمی کہ تحریک انصاف انتخابات سے آؤٹ ہو چکی ہے درست نہیں ہے پنجاب میں اب بھی مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواران کے درمیان محاذ سجے گا۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی بیشتر سیٹوں پر کامیابی سمیٹنے کی پوزیشن میں ہے۔ کراچی اور شمالی پنجاب میں بھی پی ٹی آئی آگے ہے۔ اصل محاذ سنٹرل پنجاب اور جنوبی پنجاب میں لگنا ہے۔ اگر پی ٹی آئی کو منظم انداز میں مہم چلانے کی اجازت مل جاتی ہے اور وہ پنجاب میں بھی جلسے جلوس کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کی کامیابی کو روکنا بہت مشکل ہو گا۔ مسلم لیگ نون کو اس حوالے سے سخت مقابلے کا سامنا ہو گا اور ان کو بھرپور انتخابی مہم چلانی پڑے گی۔ الیکشن کی کریڈیبلٹی قائم رکھنے کے لئے اب سب جماعتوں کو اپنی اپنی مہم چلانے کی اجازت ہو نی چاہیے۔ اگر الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہ کیا گیا تو ملک اسی طرح عدم استحکام کا شکار رہ سکتا ہے۔


