ایرانی جنگی تیاریاں
جب سے غزہ میں غارتگری شروع ہوئی ہے دنیا کی ساری توجہ اسی جانب مبذول ہوگی ہے۔ جبکہ اردگرد کے دوسرے مسائل اور اعمال پہ بھی غور و فکر کی ضرورت ہے۔ ایران کے بارے میں حالیہ کچھ ماہ قبل از طوفان غزہ امریکیوں نے یہ جانے کیسے یقین کر لیا تھا کہ ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام سے ہٹ گیا ہے لہذا اس کے دیرینہ طلب مطالبے کو پورا کر دیا یعنی پورے چھ ارب ڈالر کی خطیر رقم بذریعہ قطر ایرانیوں کے حوالے کردی اور یہ یقین کر لیا کہ ایرانی پروگرام کو ایک مخصوص مقام پہ روک دیا گیا ہے جبکہ درحقیقت ایسا ہرگز نہیں ہوا نہ ہی ایسا ہونا تھا۔
اب عالمی انسپیکٹروں کے مطابق ایران نے وہ مقام حاصل کر ہی لیا ہے اور اب چند ہفتوں کی دوری پہ ہے کہ وہ اپنا ایٹم بم بنا لے۔ امریکی انٹیلی جنس کو اب یقین ہوا ہے کہ دراصل معاملہ اس نہج پہ پہنچ گیا ہے۔ دوسرے ایران اپنے ہم خیال لوگوں کی آبیاری کرتا ہے اور انہیں مختلف گروہوں کی شکل میں سپورٹ کرتا رہتا ہے جو اپنے ہاں مختلف ملیشیا کی صورت میں کام کرتے ہیں اور ایرانی مقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ اب باب المندب ہو، بحیرۂ روم ہو یا بحیرۂ احمر یا ریڈ سی ہو ہر جگہ یہی ملیشیائی فوج کام میں مصروف ہے جس سے عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
بالخصوص اس تجارتی شاہراہ کی بندش کا سب سے بڑا نقصان عرب تجارت کا ہو گا۔ حوثی باغیوں کی حمایت و نصرت ہمیشہ سے ایرانی رہی ہے اور ایک طویل جنگ عرب ممالک کے اتحاد اور یمن کے مابین رہی ہے اب اس کی گھن گرج ابھی تھمی نہ تھی کہ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا جس کا جواب امریکی و برطانوی حملوں میں دیا گیا لیکن حوثیوں کو اتنا جلدی کوئی قابل ذکر نقصان نہیں ہوا ایرانی امداد کی مقدار بڑھنے اور مزید ہلہ شیری جاری رکھنے کے امکانات ہیں۔
بحرین میں امریکی پانچواں بحری بیڑہ عرصۂ دراز سے لنگر انداز ہے۔ کتیب حزب اللہ عراق میں ایک نمایاں طاقتور گروہ ہے جس کے سربراہ جعفر الحسینی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ امریکی اڈوں پہ حملوں میں تیزی لائیں گے۔ الھشد الشھابی نے بھی عراق اور بلاد شام میں کئی امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی اس وقت براہ راست اس تنازعہ میں گھسنا نہیں نہیں چاہتے مگر انہیں کسی نہ کسی طور اس میں الجھایا جا رہا ہے اگرچہ امریکی حکومتی ترجمان جان کر بی کہتا ہے کہ وہ تنازعے سے دور رہنا چاہتا ہیں مگر حالات ایسے نہیں کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ زیادہ دیر تک کرے۔ پچھلے چند ماہ میں دنیا بھر کی توجہ غزہ میں جاری غارتگری پہ مرکوز تھی مگر جب سے ریڈ سی میں حوثیوں نے جہازوں کا شکار کرنا شروع کیا ہے تب سے ساری توجہ ہٹ کر اب یمن کی جانب مبذول ہو گئی ہے اور اسرائیل کو اور کیا چاہیئے تھا۔
اب دیکھنا ہے کہ اگر ایرانیوں کے ہاتھ نیوکلیئر ہتھیار آ گیا تو کیا امریکی ان کو براہ راست یا ان کے بنانے اور سدھائے ہوئے ملیشیا جتھوں کے خلاف کچھ قابل عمل لائحہ عمل کرسکے گا یا نہیں اسرائیلی حکومت کے ایک وزیر نے تو فلسطینیوں کے خلاف نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ اسرائیل اب تک 23,000 لوگوں کو مار چکا ہے 8,000 افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں 2,000 پونڈ وزنی بم مارے جاتے ہیں 10,000 بچے شدید زخمی ہوئے ہیں، نیز 60000 دیگر افراد زخمی ہیں جن کے علاج کے لئے مناسب ادویات کی کمی ہے۔
غزہ کے اسپتال ناکارہ ہوچکے ہیں اور آخری افراد رب کے آسرے پہ کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔ ایران اور امریکہ دونوں بیانیہ یہ بنا رہے ہیں کہ وہ غزہ کے تنازعے کا کوئی حتمی حل چاہتے ہیں۔ یہ دونوں کے مفاد میں ہو گا کہ وہ اپنے زیر سایہ پروان چڑھنے والوں کو محاسبہ کریں تاکہ آگ و خون کے شعلے ان کے دامن کو دریدہ نہ کر دیں۔ ایران کو یہ کوشش کرنا ہوگی کہ اس خطے میں کسی کے پاس انسانیت کش ہتھیار نہ ہوں۔ مزید نفرت انگیزی مزید فساد فی الارض کو جنم دیتی ہے۔ اسرائیلی مظالم کو لے کر عالمی عدالت انصاف میں کیس تو چل رہا ہے اللہ کرے اس کا کوئی مثبت فیصلہ سامنے آئے تو شاید اس قتل و غارتگری میں کسی طور کمی آئے ورنہ یہ کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔


