آدھے مسلمان
راجہ رجب سے اپنی پرانی یاد اللہ ہے۔ اب کافی عمر رسیدہ ہیں۔ گھر سے کم کم نکلتے ہیں۔ میں ہفتے دس دن میں ان سے ملنے ان کے گھر چلا جاتا ہوں۔ دو دن قبل گیا تو بڑے رنجیدہ دکھ رہے تھے۔ وجہ پوچھی تو اپنا موبائل فون میری طرف بڑھاتے ہوئے بولے، یہ تصویر دیکھیں۔ اداکار عامر خان کی بیٹی ایک ہندو لڑکے سے بیاہی جا رہی ہے۔ یہاں یہ بھی لکھا ہے کہ عامر خان مولانا ابوالکلام آزاد کے نواسے ہیں (عامر خان مولانا آزاد کے نواسے نہیں، دور کے عزیز ہیں: مدیر)۔
ع، حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
میں نے عرض کی غالب کے مصرعے پہ بات ختم کر کے میری توجہ چچا کی طرف لے جانے کا شکریہ۔ دراصل وہ مولانا ابوالکلام ہوں یا ان کی کلاس کے دوسرے مسلمان، یہ سب غالب کی طرح آدھے مسلمان ہوتے ہیں اور ان کے طرز زندگی پہ اسلام کی چھتری کچھ اس انداز سے نہیں تنی ہوتی جیسی یہ ہم اور آپ جیسے نمانڑے مسلمانوں کے ہاں تنی ملتی ہے۔ یہ بھی گزارش کر دوں کہ یہ سوچنا بھی خام خیالی ہو گی کہ ”آدھے مسلمان“ تقسیم کے نتیجے میں واہگہ کے پار رہ گئے۔ یاد کیجیئے دینی مدارس کا پس منظر رکھنے والے دو مولانا حضرات جو میدان سیاست کے بڑے شہسوار مانے جاتے تھے، ایک کو تو ان کے وزیر اعظم نے مولانا وہسکی کا نام دے رکھا تھا اور دوسرے کو ایک با اثر خاتون نے اسلام آباد پولیس کی مدد سے ایک معروف شاہراہ پہ جبہ و دستار تار تار کرا کے ہاتھوں میں تھما دی۔
ایک اور بات بھی قابل توجہ ہے۔ انڈو پاکستان میں نمانڑے لوگ چاہے مسلمان ہوں یا ہندو، انہیں بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے شادی تو کیا نین مٹکے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ اگر آپ نے ”لو جہاد“ کی نئی وضع کردہ ترکیب کا نام سن رکھا ہے تو شاید ایسے کچھ پریمیوں کے انجام کی بھی خبر رکھتے ہوں گے۔ کہنے لگے، آپ نے بیان کو کچھ زیادہ ہی طویل کر دیا۔ میرے لیے تو یہ بات انتہائی اطمینان بخش ہے کہ ہم نے پاکستان حاصل کر کے اسلامی طرز حیات کی حفاظت کر لی۔
میں نے کہا، طرز زندگی کو تو نہیں البتہ آپ نے ظاہری اسلام کو اچھا خاصا تگڑا کر لیا ہے اور ایسا تگڑا کہ کمزور مسلمان ہوں یا غیر مسلم دونوں کے لیے موقع کی مناسبت سے ایک جیسا خطرناک ثابت ہوتا ہے۔
تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر بولے، دل آزاری کی باتیں تو آپ پر بس ہیں جی۔


