ہم اور ہمارا ووٹ


کم علمی اور جہالت کو سادگی کا نام کبھی نہیں دیا جا سکتا کیونکہ کم علمی تو ایک خامی ہے، عیب ہے۔ یہ جہالت جب قوموں کی جانب سے ہو تو ان کے تقدیر کے فیصلے نا اہل قیادت کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں۔ الیکشن، انتخابات اور ان کے نتیجے میں بننے والی حکومت باشعور قوموں کی ترجیحات ہیں۔ ہمارے ہاں تو کسی سے اس بارے میں بات کریں تو یا تو لوگ لڑنے مرنے پہ تل جاتے ہیں اور ایک دوسرے کا موقف تسلیم کرنا تو دور کی بات سننا بھی گوارا نہیں کرتے اور یا پھر سیاست سے یہ کہہ کر لاتعلقی کا اظہار کر دیتے ہیں کہ ہمارا اس سے کیا لینا دینا کہ کس کی حکومت بنتی ہے، سبھی ایک جیسے ہیں۔

یہ رویہ سراسر کم علمی اور جہالت کا عکاس ہے ورنہ ووٹ کے ذریعے حکومت بنانے کا عمل کسی ملک کی عوام کے لئے کبھی بھی غیر اہم نہیں ہو سکتا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کے لئے ہر طرح کے قوانین بنانے ہیں۔ غلط لوگوں کو اسمبلیوں میں بھیج کر درست فیصلوں کی امید کہاں کی دانشمندی ہے یا پھر اس عمل سے لاتعلق رہ کر آپ غیر موزوں لوگوں کی مقتدر حلقوں میں انٹری کو آسان بناتے ہیں۔ امریکہ میں ووٹنگ کے مساوی حقوق کے حصول کی عظیم جدوجہد کرنے والے جان لویس نے 1965 میں ووٹنگ ایکٹ پاس کروانے کے بعد نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ووٹ انتہائی قیمتی چیز ہے، ایک جمہوری معاشرے میں یہ ایک طاقت ور ترین غیر متشدد ہتھیار ہے جسے ضرور استعمال کرنا چاہیے۔“

خوراک، صحت، تعلیم اور روزگار تک جتنے بھی مسائل ہیں ان کا براہ راست تعلق ان پالیسیوں سے ہوتا ہے جو حکومت بناتی ہے۔ حکومت کی ترجیحات ہی قوموں کے مستقبل کا تعین کرتی ہیں تو ایسے میں قابل لوگوں کو ووٹ کے ذریعے انتخاب عوام کی وہ ذمہ داری ہے جس کو پورا کر کے وہ بعد ازاں اپنے حقوق کے لئے تگ و دو کرتے ہیں۔

آپ کے کیا حقوق ہیں اور فرائض ہیں۔ الیکشنز کیوں ہوتے ہیں اور ان کی کیا اہمیت ہے۔ اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت کی کیا ذمہ داریاں ہیں اور اپنے منتخب کردہ لوگوں کی کب اور کیسے جوب طلبی کرنی ہے اس بنیادی سیاسی شعور کا حصہ ہے جو ہر شہری کے پاس ہونا چاہیے۔ اسی طرح نظام ترقی کرتا ہے اور چیزیں بہتر ہوتی ہیں ورنہ چہرے بدل بدل کر فرسودہ اور بے سود نظام قوموں کا مقدر ٹھہرتا ہے اور دنیا بھر میں ذلت اور رسوائی اس قوم کے ان افراد کا بھی پیچھا کرتی ہے جو اپنے ووٹ کے ذریعے تبدیلی کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ اپنے ملک کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں اور مضبوط جمہوری اقدار کا فروغ اور وقت کے جدید تقاضوں کے مطابق چلنا چاہتے ہیں تو خدارا ووٹ کی اہمیت کو سمجھیں اور خاندانی، علاقائی اور مذہبی عقیدتوں سے بالاتر ہو کر اس کا درست استعمال کریں۔

Facebook Comments HS