فرانس کا نو عمر ترین وزیراعظم اور سیاسی کشمکش

یورپ نے تقریباً 500 سال قبل اندھیروں سے نکل کر روشنی کی دنیا کی جانب اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ نشاۃ ثانیہ یعنی حیات نو کے طویل دور میں فکری، ادبی اور فنون لطیفہ کے شعبوں میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ جرمن راہب اور مصلح مارٹن لوتھر نے 95 نکات پر مشتمل ایک دستاویز تحریر کر کے ریاست پر پوپ کی بالا دستی کے خاتمے کی، تحریک اصلاح کی کامیابی کی راہ ہموار کر دی تھی۔ ان گزری صدیوں میں لیو نارڈو ڈیونچی، گیلیلو، کوپر نیکس، مائیکل انجیلو، جان لاک، والٹیر اور روسو جیسے کئی عظیم اور تاریخ ساز لوگ پیدا ہوئے۔
صنعتی انقلاب برپا ہوا اور پیداواری نظام یکسر بدل گیا، انقلاب فرانس نے بادشاہ کی بالا دستی اور بادشاہت کے ادارے پر کاری ضرب لگائی اور جاگیر دار اشرافیہ کا خاتمہ کر دیا۔ ڈارون، فرائیڈ اور کارل مارکس کے افکار نے دنیا میں انقلاب پر پا کر دیے۔ نوآبادیاتی دور کا آغاز اسی خطے سے ہوا اور تین چوتھائی دنیا پر چند یورپی ملکوں نے قبضہ کر لیا۔ دو ہلاکت خیز عالمی جنگوں کا مرکز بھی یورپ تھا۔ ہیجان خیز تلاطم کا یہ دور بیسویں صدی کے اختتام تک بڑے جوش و خروش سے جاری رہا۔ امید پیدا ہوئی کہ اب دنیا، سکون اور چین کے دور سے گزرے گی لیکن ایسا نہ ہو سکا ’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘ ۔
21 ویں صدی کے شروع ہوتے ہی سائنس اور ٹیکنالوجی کے حیرت انگیز انقلاب کے آثار تیزی سے نمودار ہونے لگے۔ ڈیجیٹل انقلاب نے سرحدوں کی اہمیت ختم کر دی جس سے نسلی، لسانی، مذہبی اور ثقافتی شناختوں کے لیے شدید خطرات ابھرنے لگے۔ یورپی ملکوں میں انتہائی دائیں بازو کی حمایت میں عوامی مقبولیت کی ابھرتی لہر کی وجہ بھی یہی مظہر ہے۔ یورپ کے تمام ملکوں میں اس وقت، نئی دنیا کو قبول یا اس کی مزاحمت کے حوالے سے سنگین سیاسی کشمکش جاری ہے جس کی ایک مثال ان دنوں فرانس میں دیکھی جا سکتی ہے۔
کسی بھی حکومت کی کابینہ میں رد و بدل ایک معمول کا عمل ہے لیکن گزشتہ دنوں جب فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے وزیر اعظم الزیبتھ بورن کی جگہ 34 سالہ گیبریل اٹل کو حکومت کے دوسرے سب سے بڑے عہدے پر فائز کرنے کا اعلان کیا تو نہ صرف فرانس اور یورپ بلکہ پوری دنیا کے سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو بڑے تجسس سے دیکھا گیا۔
9 فروری کو گیبریل اٹل، فرانس کی تاریخ کے پہلے سب سے کم عمر اور علانیہ ہم جنس پرست وزیراعظم کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔ یورپ کی سیاست میں ہم جنس پرست ہونا کوئی اہم بات نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں بیلجیئم، آئر لینڈ، آئس لینڈ، لیٹویا اور لکسمبرگ سمیت کئی ملکوں کی حکومتوں کے سربراہ ہم جنس پرست سیاست دان ہیں یا رہ چکے ہیں۔ صدر میکرون نے اس تقرری کے ذریعے دراصل، فرانس کے نوجوانوں کو دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں کی جانب جانے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔ پچھلے دس برسوں کے دوران گیبریل کی انتظامی اور سیاسی کارکردگی بے مثال رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی مقبولیت کے جائزوں کے مطابق وہ فرانس کے مقبول ترین سیاستدان ہیں۔
یہ سال صدر میکرون کے لیے بہت اہم ہے۔ 6 جون کو یورپی پارلیمنٹ کے لیے انتخابات ہونے والے ہیں۔ میکرون اور ان کے سب سے بڑے حریف لی پین دونوں کی کوشش ہے کہ ان کی جماعتوں کے زیادہ سے زیادہ نمائندے یورپی پارلیمنٹ کے لیے کامیاب ہوں۔ یہ انتخابات ان کی عوامی مقبولیت کا سخت امتحان ثابت ہونے والے ہیں۔
فرانس کے نئے وزیر اعظم کے وکیل اور فلم ساز والد ایک تیونسی نژاد یہودی اور ان کی والدہ قدامت پرست عیسائی ہیں۔ خوش حال والدین نے گیبریل کو فرانس کی بہترین درس گاہوں میں اعلیٰ تعلیم دلائی ہے۔
گیبریل نے 2002 میں ژاں شیراک اور انتہائی دائیں بازو کے لی پین کے درمیان ہونے والے صدارتی معرکہ میں شیراک کی پرجوش حمایت کی۔ اس وقت موصوف صرف سترہ برس کے تھے۔ میدان سیاست میں یہ ان کا پہلا قدم تھا۔ بعد ازاں، گیبریل سوشلسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے۔ تا ہم، 2012 میں جب ان کی عمر 23 سال تھی، تو انہوں نے سوشلسٹ پارٹی چھوڑ کر میکرون کی اعتدال پسند (سینٹرسٹ ) پارٹی، ایل آر ای ایم میں شمولیت اختیار کر لی۔ سیاسی سوچ میں تبدیلی کے حوالے سے یہ ان کی زندگی کا بہت اہم فیصلہ تھا۔ ان کا فکری رجحان سینٹر۔ لیفٹ سے بدل کر سینٹر۔ رائیٹ کی جانب ہو گیا۔ سوچ کی یہ تبدیلی گیبریل کو بہت راس آئی اور ان کے سیاسی عروج کے نہ رکنے والے سفر کا آغاز ہو گیا۔
صدر میکرون ان دنوں بڑی مشکل میں ہیں۔ ان کی جماعت کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل نہیں۔ وہ مخلوط حکومت کے صدر ہیں۔ اب ان کے اقتدار کے آخری تین سال باقی رہ گئے ہیں لہٰذا وہ اپنے سیاسی پتے کافی محتاط ہو کر کھیل رہے ہیں۔ ملک میں بڑھتا ہوا افراط زر، امیگریشن پالیسی، پینشن کی تکلیف دہ اصلاحات، روس یوکرین جنگ سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل، دائیں بازو کی عوامی مقبولیت میں اضافہ جیسے مسائل صدر میکرون کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں وہ گیبریل اٹل پر کافی انحصار کر رہے ہیں۔ اس امر کا اظہار ان کے اس ٹویٹ سے ہوتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ گیبریل کے جذبے، توانائی اور لگن پر بہت اعتماد کرتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا صدر میکرون اور نوجوان وزیر اعظم مل کر فرانس کی سیاست میں اعتدال پسندی کی روایت کو دائیں بازو کی انتہاپسند یلغار سے بچانے میں کامیاب ہو سکیں گے یا نہیں؟
میکرون 2017 میں فرانس کے سب سے کم عمر صدر منتخب ہوئے تھے۔ 2024 میں انہوں نے گیبریل اٹل کو ملک کا نو عمر ترین وزیر اعظم بنایا ہے۔ کیا گیبریل مستقبل میں فرانس کے صدر بن سکیں گے؟ ایسا صرف اس وقت ممکن ہے جب اعتدال پسند طاقتیں عام انتخابات میں انتہا پسند قوتوں پر غالب آ جائیں۔ یہ کام مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں۔ دیکھیے کیا ہوتا ہے!

