پڑوسی بدلے نہیں جا سکتے
دنیا کی موجودہ جغرافیائی حیثیت اب ایک اٹل حقیقت ہے۔ دنیا کے سارے ممالک کسی نہ کسی حوالے، ضرورت اور تعلق سے آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور اس دور میں آپ دنیا سے کٹ کر نہیں رہ سکتے اس لیے بہتری اسی میں ہے کہ ساری دنیا سے بنا کر رکھیں۔ باقی دنیا سے پہلے ضروری ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ ہمارے معاملات درست ہوں اس لیے کہ ہم چاہ کر بھی پڑوسی بدل نہیں سکتے۔ یورپ نے اس بات کو سمجھ کر بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ پاکستان کے پڑوسی افغانستان، ایران، چین اور ہندوستان ہیں۔
چین کو چھوڑ کر باقی سب کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب ہیں۔ ان خراب تعلقات کے یقیناً وجوہات ہیں۔ مگر یہ وجوہات ایسی بھی نہیں ہیں کہ ان پر بات نہ ہو سکے، ان کو کم یا ختم نہ کیا جا سکے۔ پاکستان چوبیس کروڑ افراد کا ملک ہے اور ہمارے اڑوس پڑوس میں تین ارب سے زیادہ انسان بستے ہیں یعنی دنیا کی نصف آبادی ہمارے اردگرد رہتی ہے۔ وہ اقوام جنہوں نے اپنے تنازعات کو بات چیت کے ذریعہ حل کیا ہے اب سکون اور سہولت کی زندگی گزر رہے ہیں۔
جبکہ وہ اقوام جنہوں نے تنازعات اور جنگوں میں خود کو مصروف رکھا وہ اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ تنازعات کے شکار اقوام نے تجارت اور تعلیمی ترقی کی طرف توجہ نہیں دی اس لیے ان ممالک میں زندگی کی وہ سہولیات دیکھنے کو نہیں ملتیں جو ان اقوام کو حاصل ہیں جنہوں نے تنازعات کو چھوڑ کر اپنے وسائل اپنے اوپر خرچ کرنا شروع کیے۔ ایک صدی پہلے جاپان، جرمنی، روس، فرانس اور ترکی وغیرہ بھی بڑے بڑے تنازعات کا شکار تھے۔
ان قوموں نے اپنے مسائل اور تنازعات کا حل نکالا اور آج یہ خوشحال ہیں۔ جنوبی کوریا نے تنازعات میں پڑنے کے بجائے عوامی فلاح کا راستہ چنا اور شمالی کوریا نے ایسا نہیں کیا ان دونوں ممالک کو دیکھنے کا مجھے موقع ملا ہے۔ آپ یقین نہیں کر سکتے کہ ایک ہی نسل اور زبان بولنے والے ایک ہی جیسے خطے میں زندگی گزارنے والے ان کوریائی باشندوں کی زندگی میں کتنا فرق ہے۔ آپ پیانگیانگ اور سیول دونوں جاکر دیکھیں آپ کو لگے گا کہ جنت اور دوزخ کیسے ہوتے ہیں۔
جنگیں اور تنازعات آپ کی معیشت، تعلیم، ترقی اور ذہنی سطح کو ختم کر دیتے ہیں۔ آپ خوف کے ماحول میں صرف دشمن کو نقصان پہنچانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں سوچ سکتے۔ آپ کو ہر انسان دشمن نظر آتا ہے۔ یوں آپ جنگ نہ ہوتے ہوئے بھی مسلسل حالت جنگ میں ہوتے ہیں۔ آپ کے خوابوں پر بھی لڑائی جھگڑوں، ٹینکوں، بندوقوں، اور وحشت کا قبضہ ہوتا ہے۔ اسی کے تابع ہو کر آپ کا واحد مقصد تباہی پھیلانا رہ جاتا ہے۔ جاپان کے معمر افراد نے جو اپنے تجربات بیان کیے ہیں وہ سب اقوام کے لیے سبق ہیں کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں ہر جاپانی کی سب سے بڑی خواہش کسی کو مارنے کی ہوتی تھی۔
جبکہ آج کا کوئی بھی جاپانی ایسا سوچنے کو گناہ تصور کرتا ہے اس لیے آپ کو جاپان میں ہرن بھی بازاروں اور سڑکوں پر بے خطر چلتے نظر آئیں گے۔ 2015 میں جب جاپان اپنے امن کی سترویں سالگرہ منا رہا تھا مجھے بھی بطور مندوب کے ان تقریبات میں شرکت کا موقع ملا تھا۔ تب پورے جاپان میں صرف بیس فیصد وہ افراد رہ گئے تھے جو یا تو جنگ سے براہ راست متاثر ہوئے تھے یا جنگ کی وجہ سے ان کو کوئی نقصان پہنچا تھا۔ یہ سارے لوگ سخت افسردہ تھے۔
ان میں سے ہر ایک دوسرے جاپانی شہری کو جنگ کی ہولناکی اور تباہی کے بارے میں بتا رہا ہوتا تھا۔ جبکہ آج سے نو برس پہلے جاپان کی اسی فیصد لوگ ایسے تھے جنہوں نے کوئی جنگ کوئی تنازعہ نہیں دیکھا تھا۔ یہ وہ ملک ہے جس نے دنیا میں اپنے دو شہروں پر ایٹم بم کی ہولناک تباہی دیکھی ہے۔ مگر اس پورے ملک میں ایک بھی ایسا بندہ نہیں ملے گا جو کسی بھی دوسرے ملک یہاں تک کہ امریکہ جس نے ان پر ایٹم بم گرائے تھے سے بھی نفرت کرتا ہو۔
جاپانی قوم نے جنگ، نفرت اور اختلاف کو اپنے اندر سے ایسے اتار پھینکا ہے کہ انسان یقین نہیں کر سکتا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب انسان خوف کے ماحول سے نکل آتا ہے تو اسے حقیقی اور پائیدار زندگی نظر آتی ہے۔ وہ زندگی کی تمازتوں کو محسوس کر سکتا ہے، وہ خوبصورتی کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔ وہ انسانی فلاح و بہبود کا خیال رکھتا ہے۔ ان کے دلوں میں احترام اور انسانیت جنم لیتی ہے۔ دنیا میں جاپانی ایسی قوم ہیں جو اب امن پسند بھی ہیں اور قانون پسند بھی۔
دنیا گھومنے والوں میں بھی ان کا نام سرفہرست ہے۔ جنگ سے نفرت اور انسانیت پر ان کا بھروسا اتنا بڑھ گیا ہے کہ وہاں پرندے اور جانور بھی اب خوف نہیں کھاتے۔ اور ہماری بدقسمتی دیکھیں کہ ہم اپنے بچوں کو سکول بھیج کر ان کے صحیح سلامت واپسی کے لیے وظیفے پڑھتے رہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں فوج، پولیس اور مولوی تک محفوظ نہیں ہیں۔ یہاں طاقتور کے لیے سات خون معاف ہیں۔ جس کے پاس پیسہ ہے اس کو درجنوں کلاشنکوف رکھنے کی کھلی اجازت ہے۔
جس کے پاس پیسہ ہے وہ اپنی گاڑی کے شیشے کالے کروا سکتا ہے۔ یہاں قانون نام کی چیز صرف غریبوں کو تنگ کرنے کے لیے ہے۔ جو قانون کا پاس نہیں رکھتا وہ معزز ہے۔ یہاں ٹیکس صرف غریب سے لیا جاتا ہے اور ذلیل بھی صرف غریب ہی کو کیا جاتا ہے۔ یہاں سمگلروں کو وہ سہولیات حاصل ہیں جن کا تصور دنیا کے کسی بھی ملک میں نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں اشرافیہ کے بچوں کے لیے الگ سکول ہیں، ان کے لیے الگ ہسپتال ہیں، ان کی رہائش کے لیے الگ کالونیاں ہیں۔
اور غریب کا بچہ یا تو فٹ پاتھ پر بھیک مانگتا ہے یا کسی سیاسی یا جہادی تنظیم کا ہرکارہ بن جاتا ہے۔ ہمیں اندرونی طور پر بہت زیادہ مسائل کا سامنا ہے۔ غربت کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ملک کی صورتحال ہر برس بگڑتی جا رہی ہے۔ ملک میں بدامنی کی وبا ء چارسو پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں کی بیشتر آبادی کو پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے۔ لوگوں کی آمدنی اور قوت خرید میں فرق جس تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔
جس تیزی کے ساتھ ملک میں روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں وہ تشویشناک ہے۔ ملک میں تعلیم اور صحت پر وسائل کا ایک فیصد بھی خرچ نہیں ہو رہا۔ ہر طرف کرپشن اور اقرباء پروری کا بازار گرم ہے۔ یہاں انصاف کا حصول اتنا مہنگا ہے کہ نوے فیصد آبادی اس کے حصول کا تصور تک نہیں کر سکتی۔ ایسے بدتر حالات میں ہمیں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تنازعات ختم کر کے اپنے داخلی مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ ہم کسی بھی طرح جنگ لڑنے کی طاقت اور وسائل نہیں رکھتے۔
اس لیے کہ کسی بھی جنگ کی صورت میں موجودہ بدتر دور کے بھی ستر فیصد سے زیادہ جاری کام بند ہوجائیں گے۔ ملک میں زرمبادلہ کا آنا رک جائے گا۔ ہمارے پاس تیل خریدنے کے پیسے نہیں ہیں۔ جنگ کی صورت میں جو سب سے بڑی تباہی آئی گی وہ بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہوگی اس لیے کہ بھوکے لوگ ایک دوسرے کے گلے کاٹیں گے۔ اس لیے سوشل میڈیا پر ہنگامہ مچانے والے بے شعور پاکستانی اس بات کا ادراک کریں کہ جنگ سے کبھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
اس لیے کہ جنگ لڑ کر ہم کسی ملک کو فتح نہیں کر سکتے۔ جنگ پر کھربوں روپوں کے اخراجات آتے ہیں۔ ہم اس وقت آئی ایم ایف اور دیگر ممالک کی امداد سے ملک چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری معیشت امریکہ کی طرح نہیں ہے۔ جن ملکوں نے ماضی قریب میں جنگیں لڑی ہیں وہاں کے حالات دیکھ لیں۔ جنگ سے پہلے ذرا انٹر نیٹ پر فلسطین، شام، عراق اور لیبیا کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں کہ وہاں جنگ سے پہلے کیا حالات تھے اور جنگ کے بعد وہاں کی صورتحال کیا ہے۔
جنگ میں صرف جانی اور مالی نقصان ہی نہیں ہوتا۔ جنگیں انسانوں کی روحوں تک کو چھلنی کر دیتی ہیں۔ خدا کا شکر ادا کرو کہ اس وقت تمہارے بچے سہولت سے تمہارے گھروں میں ہیں۔ جنگ کی صورت میں یہ بچے یا تو کسی ہسپتال میں زخمی پڑے ہوں گے یا کہیں بھیک مانگ رہے ہوں گے۔ اور تمہاری عورتیں جو روز شام کو ٹی وی پر ڈرامے دیکھتی ہیں خدا جانے کس حال میں ہوں گی۔ اور جنگ کی صورت میں ہم ہجرت کر کے کس ملک جائیں گے کبھی کسی نے سوچا ہے۔
ہمارے چاروں اطراف ہمارے دشمن ہیں۔ اس لیے ہوش کے ناخن لیں اور ہیجان خیزی سے گریز کریں۔ مسائل کا حل ڈھونڈیں، خود کو تنازعات سے نکالنے کا انتظام کریں۔ داخلی مسائل پر توجہ دیں اور خارجی محاذ نہ کھولیں۔ اب دنیا میں جنگیں دیگر طاقتور ملکوں کے لیے غریب ممالک اپنی سرزمینوں پر لڑتی ہیں۔ نہ ایران ہمارا دشمن ہے اور نہ افغانستان ان دونوں ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات رکھے جائیں۔ جن معاملات میں اختلافات ہیں انہیں حقیقی معنوں میں دور کیا جائے۔
پاکستان کی سرحدوں کو سمگلروں اور بغیر کاغذات کے داخل ہونے والے غیر ملکیوں کے لیے مکمل بند کر دیا جائے اور دنیا کی دیگر ممالک کی طرح سفری دستاویزات پر ہی کسی کو اس ملک میں آنے یا یہاں سے جانے دیا جائے۔ اس ملک میں موجود تمام غیر ملکیوں کو فل الفور ان کے ملک واپس بھیجا جائے۔ چند شہروں کی جگہ ترقی کا دھارا پورے پاکستان کی طرف موڑا جائے۔ تعلیم پر کثیر سرمایہ کاری کی جائے۔ ملک میں ٹیکس کا یکساں نظام رائج کیا جائے۔ پورے ملک کے نظام کو دنیا کی طرح ڈیجیٹل کر دیا جائے۔
انصاف کی فراہمی کو آسان اور شفاف بنایا جائے۔ اس بوسیدہ سیاسی نظام کی جگہ ملک میں دیانت دار ماہرین کی حکومت لائی جائے تو یہ ملک مہینوں میں ٹھیک ہو سکتا ہے۔ ہم ہمسائیوں کو تو نہیں بدل سکتے لیکن ہم خود کو بدل سکتے ہیں۔ جیسا جنوبی کوریا نے بدلا ہے۔ وہ جنوبی کوریا جس کو ترقیاتی پلان پاکستان نے دیا تھا، جس کو صنعتیں لگانے کے لیے قرضہ پاکستان نے دیا تھا۔ جس کو سٹیل مل لگانے کے لیے تمام وسائل اور افرادی قوت پاکستان نے دی تھی۔ جس کو بنکاری نظام پاکستانی ماہرین نے بنا کر دیا تھا۔ آج وہ اک معاشی طاقت ہے۔ اور ہم دنیا کے لیے معاشی بوجھ بن چکے ہیں۔


