الیکشن یا سلیکشن


اپریل 9، 2022 کو چشم فلک نے اس ملک میں وہ دیکھا جو شاید کسی کے گمان میں نا تھا۔ صبح وزیر اعظم ہاؤس کے وسیع و عریض لان کا ایک منظر ہے جہاں وزیر اعظم عمران خان نئے آرمی چیف کی تعیناتی اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے تعلقات سمیت ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے حوالے سے گفتگو کر رہے اور اسی ہی شام اس کے بالکل برعکس پارلیمنٹ ہاؤس کا منظر ہے جہاں رات کے 12 بجنے کے قریب ہیں اور سپیکر اسد قیصر اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں اور اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ جو صبح سے جاری تو ہے مگر اس میں وقفے پر وقفہ آ رہا ہے جس میں ایک نئی تبدیلی بھی رونما ہوئی کہ بالآخر سپیکر اسد قیصر جذبات سے بھری آواز میں مخاطب ہو کر اپنے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے سپیکر کی کرسی چھوڑ گئے۔

اپوزیشن جو اس وقت اسمبلی میں سراپا احتجاج تھی انہوں نے اپنی ہی اسمبلی لگا کر اپنا سپیکر منتخب کر لیا اور تحریک عدم اعتماد پر خود ہی ووٹنگ کروا لی۔ اسی دوران ایک منظر عدالت عظمی کا بھی ہے جہاں سے رات کی تاریکی میں عدالت کھلنے ججز کے پہنچنے، پولیس وین پہنچنے کی خبریں بھی گردش کرتی رہی اس دن کا اختتام وزیراعظم عمران خان کا وزیراعظم ہاؤس سے رخصت ہونے پر ہوا۔

اگلے دن عمران خان کی جماعت تحریک انصاف نے حزب اختلاف میں جانے کی بجائے ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا وہیں ملک کی باقی تمام سیاسی جماعتوں نے عمران خان کے خلاف اتحاد بنا کر پی ڈی ایم نما نئی سیاسی جماعت بنا کر ایوان چلانا شروع کر دیا۔ کیوں کہ سب اتحاد پر مشتمل تھا تو سب نے اپنی اپنی مرضی کی وزارتیں لپیٹنا شروع کر دیں کوئی وزیراعظم تو کوئی وزیر بن گیا اور کسی کو باقی فرمائشی عہدوں سے نواز دیا گیا سب کا مقصد چونکہ عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی، مہنگائی، معیشت کی بہتری کا نعرہ تھا مگر ایوانوں سے چمٹے رہنے اور وزارتوں کے مزے لینے میں انہوں نے معیشت، شرح نمو جو عمران خان % 6 پر چھوڑ کر گیا وہ صفر ( 0 ) کر دی۔

عمران خان کے دور میں غیر ملکی ذخائر جو تقریباً 10 بلین ڈالر تھے وہ صرف 3 بلین رہ گئے۔ مہنگائی کی شرح جو عمران خان کے دور میں 13 فیصد تھی سے تاریخ ساز مہنگائی 34 فیصد کر دی۔ پٹرول جو عمران خان کے دور میں 170 روپے میں دستیاب تھا وہ 320 روپے لیٹر تک جا پہنچا۔ جو ڈالر عمران خان کی حکومت میں 170 روپے میں دستیاب تھا وہی ڈالر اس پی ڈی ایم نما سیاسی اتحاد نے 300 روپے تک پہنچا دیا۔ غرض اقتدار کے مزے میں ملک کا وہ حال کر دیا جس سے عمران خان کو ان کے خلاف بیانیہ بنانے میں تقویت ملی۔

وہ عمران خان جس کو یہ نئی سیاسی جماعت نا اہل دکھاتی رہی کہ اس نے معیشت تباہ کر دی ہے، اس نے مہنگائی کر دی، اس نے پاکستان کو دنیا میں اکیلا کر دیا ہے اس لیے اسے اقتدار سے نکالنا ضروری ہے انہوں نے ہی عدم اعتماد کے بعد جب اقتدار سنبھالا تو نا ان کے پاس کوئی واضح مستقبل پلین تھا نا ہوئی کوئی پالیسی تو ملک کو ہر محاذ پر نقصان تو ہونا ہی تھا۔ ان نا دانوں کی بدولت ملک کی معیشت کا جو نقصان ہوا سو ہوا اس سب کا سیاسی فائدہ عمران خان کو ہوا۔ وہ عمران خان جس کی شہرت اقتدار سنبھالے ہوئے شاید 30 سے 40 فیصد تک رہ گی تھی اقتدار سے نکالے جانے کے بعد اس میں بے پناہ اضافہ ہوتا چلا گیا جو اس کے سیاسی حریفوں کے لیے پریشان کن بنتا گیا۔

آہستہ آہستہ عمران خان نے عوام میں اپنا بیانہ بنانا شروع کر دیا کہ کیسے غیر ملکی سازش کو ہمارے اپنے لوگوں کی شمولیت کے ذریعے کامیاب بنایا گیا اور مجھے اقتدار سے نکالا گیا۔ ایک کے بعد ایک نئے رازوں سے پردہ اٹھانا شروع کر دیا کہ مجھے کیسے ڈیل کے ذریعے منایا جاتا رہا کبھی کشمیر پالیسی پر سمجھوتا تو کبھی اسرائیل کو تسلیم کرنے پر پریشر تو کبھی امریکہ کو جنگی مقاصد کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے دینا۔

اب چونکہ وہ اقتدار سے نکالے جانے کے بعد براہ راست عوام میں آ چکا تھا اس کے تاریخ ساز جلسے ہو رہے تھے پبلک جوق در جوق اس کی طرف راغب ہو رہی تھی اس نے اپنا مزید پریشر بنانے کے لیے اپنی صوبائی حکومتیں تحلیل کرنا شروع کر دیں تاکہ دوبارہ الیکشن کی راہ ہموار کی جا سکے۔ عوام میں عمران کی اس قدر مقبولیت نے سب کو خوفزدہ کر رکھا تھا۔ بند کمروں میں اسے توڑنے کے لیے سازشیں تیار ہونے لگیں۔ عمران خان پر مقدموں، پرچوں، سیاسی کیسوں کی دو عدد سینچریاں کر ڈالیں۔ بات یہاں بھی نا رکی تو اس پر قاتلانہ حملہ بھی کروایا گیا مگر یہ وہاں سے بھی بچ نکلا۔ اب یہ اپنے سیاسی مخالفوں اور غیر جمہوری طاقتوں کے لیے لاحق خطرہ بنتا جا رہا تھا جسے روکنا ان سب کے لئے محال ہو گیا تھا

پی ڈی ایم نما سیاسی اتحاد اور ڈھکے چھپے سازشی کرداروں کا صبر بھی جواب دے رہا تھا تو مملکت خداداد میں 9 مئی واقع ہو گیا۔ اس 9 مئی کو ایک غیر جمہوری طاقت جو عمران کی حکومت سے نکالے جانے کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ مکمل سیاسی ہو چکا تھا نے بغیر کسی جرم/ثبوت کے دن دیہاڑے جمہوریت کا قتل کیا، آئین کو روند ڈالا اور عمران کو عدالتی احاطے سے دن دیہاڑے گریبان سے گھسٹتے ہوئے اٹھا لیا۔ یہ حالات کسی بھی جمہوری ملک کے ہوتے تو شاید یہی ہوتا جو یہاں ہوا۔

اس پارٹی، لیڈر کے جانشین نعرہ حق بلند کرتے اپنا جمہوری حق استعمال کرنے احتجاج پر نکل پڑتے۔ سازشی کردار جو پہلے سے موقع کی گھات لگائے بیٹھے تھے انہیں عوامی ردعمل اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا موقع ملا اور انہوں نے عوامی جوش و خروش کو انتشار میں بدل ڈالا۔ اور وہ سب ہو کیا جو کسی کہ گمان میں بھی نا تھا مشتعل ہجوم نے جنونی سپورٹرز کو ورغلایا اور عسکری عمارتوں پر دھاوا بول دیا۔ آج اس واقعے کو 8 ماہ ہو چکے ابھی تک اس کی کوئی تفتیش تو نا ہوئی البتہ دوسری طرف عمران خان اور اس کی پارٹی کا نقشہ ضرور بدل ڈالا لوگوں کو گرفتاریوں کے لیے دن رات چھاپے مارے گئے گھر، چادر، چار دیواری کا تقدس پامال کیا آئین و قانون کی دھجیاں اڑائیں گئیں۔ یہاں تک کہ عدالتوں کے احاطوں سے گرفتاریاں کیں عدالتوں کے فیصلوں کی حکم عدولی کی گی معاشرے میں خوف کی فضا قائم کی گئی۔

اس آئین و قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو دیکھتے ہوئے وکلاء نے سر پر کفن لپیٹا اور انصاف کے ترازو کو جھنجھوڑا۔ دوبارہ سے آئین و قانون کا پرچار کرنے کی کوشش کی۔ بظاہر وہ اپنے اس مقصد میں اس حد تک کامیاب نا ہو سکے کیونکہ ایک طرف وہ اپنے مدعی کا مقدمہ جیتتے تو دوسری طرف منہ ڈھانپے وہ نا معلوم لوگ جو سب کو معلوم ہیں وہ پہلے سے ہی گھات لگائے بیٹھے ہوتے جیسے ہی مدعی کامیابی کا جشن مناتا وہ اسی لمحے ان نقاب پوشوں سے دن دیہاڑے دھر لیا جاتا جس پر وکیل کیا قاضی بھی احتجاج کرتا نظر آتا مگر کہیں شنوائی نہیں ہو رہی۔

دوسری جانب پبلک جو یہ سب دیکھ کر تلملا رہی وہ اب پہلے سے کہیں زیادہ عمران کی طرف راغب ہو رہی۔ یہ بات نا صرف عمران کے سیاسی مخالفین بلکہ غیر جمہوری طاقتوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بن رہی تھی۔ آج اسے زندان میں ڈالے پانچ ماہ ہونے کو ہیں مگر نا وہ ایک قدم پیچھے ہٹ رہا ہے نا اس کی پبلک۔ کہتا ہے نا کوئی ڈیل نہیں کروں گا نا ملک سے بھاگوں گا جب تک مرضی زندان میں رکھو۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے ہر گلی کوچے میں صرف عمران خان، عمران خان ہو رہا ہے ہر سروے عمران خان کو نمبر ون بتا رہا ہے جس وجہ سے سروے کروانے بھی بند کروانے پڑ رہے ہیں۔ عمران کے نمائندے جو ان نقاب پوشوں کو چکما دیے ہوئے ہیں اگر وہ عمران کے نام سے کوئی ورچوئل اجلاس بلاتے جس میں اپنی پارٹی پالیسی بتانا چاہتے تو عوام کا ہجوم ادھر کو امڈ پڑتا ہے جس کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ بند کرنا پڑ جاتا ہے۔

عمران کا مقابلہ اس وقت ریاستی اداروں، آئین و قانون، نظام عدل و انصاف سے ہے۔  اسٹیبلشمنٹ اس پورے نظام کو کنٹرول کیے ہوئے ہے۔ ریاستی ادارہ الیکشن کمیشن جس کا کام ملک میں شفاف الیکشن کا انعقاد کرنا اور تمام سیاسی جماعتوں کے لیے برابر لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا کرنا ہے وہ عمران خان کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہے۔ وہ الیکشن کمیشن جس کی آئینی ذمہ داری تھی کہ عمران کے صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد آئین کے مطابق 90 روز میں الیکشن کروائے آج ایک سال گزر جانے پر بھی نا کروائے وہی الیکشن کمیشن عمران خان کی پارٹی کو انٹرا پارٹی الیکشن پر جنرل الیکشن سے ناک آؤٹ کر چکی ہے۔ وہ نظام عدل جس کا کام عدل کرنا اور معاشرے میں انصاف کا بول بالا کرنا ہے اس کے ترازو کا ایک جانب جھکاؤ واضح نظر آ رہا ہے جو صرف ایک ہی پارٹی کو نشانے پر رکھے ہوئے ہے

آج ملک میں الیکشن کا سماں ہے ویسے تو الیکشن کے بعد ہارنے والا شور کرتا ہے کہ میرے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے مگر اس بار تو انتخاب سے قبل ہی ایسی دھاندلی کی گی ہے کہ پوری دنیا کے جریدے اس الیکشن کے انعقاد سے قبل ہی اسے مذاق قرار دے رہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی پارٹی تحریک انصاف کو الیکشن سے ناک آؤٹ کر دیا گیا ہے اور پارٹی لیڈر عمران خان کو زندان میں رکھا ہوا ہے اس کو الیکشن کے لیے نا موزوں قرار دیا ہے اس پارٹی کا انتخابی نشان چھین لیا گیا ہے اس کے امیدواروں سے دن دیہاڑے الیکشن کاغذات نامزدگی چھینے جا رہے ہیں۔

اس کے امیدواروں کو جوتے، پیالہ، چارپائی جیسے انتخابی نشانوں سے نواز کر مذاق بنایا جا رہا ہے۔ اب چونکہ عمران کو سازشوں سے مائنس کر دیا گیا اور کسی اور کو فیورٹ/ سلیکٹ قرار دیا جا چکا ہے صرف اسی سلیکٹڈ کو الیکشن کمپین کا ماحول مہیا کیا گیا ہے مگر وہ گھر بیٹھا کہتا ہے ”ساڈی گل ہو گئی اے“ اس لیے کمپین کی ضرورت ہی نہیں مگر درحقیقت عوام کی ”عمران خان سے گل ہو گئی ہوئی ہے“

Facebook Comments HS