ساحر لدھیانوی کا باورچی
پرکالا پروڈکشن کے دو حصے دار تھے ’داؤد مکرانی اور سندر بس جانی۔ دونوں بے حد چلتے پرزے تھے اور ہرجیت کمار اور آرادھنا کو لے کر ایک فلم بنا رہے تھے۔ یہ جوڑی ان دنوں فلم انڈسٹری میں اعلیٰ درجے کی جوڑی سمجھی جاتی تھی۔ پرکالا پروڈکشن کا دفتر بے حد شاندار تھا لیکن داؤد اور سندر کا ذاتی کمرہ جو دفتر کے بالکل آخر میں تھا سب سے شاندار تھا اور اسے بہت کم لوگوں نے دیکھا تھا۔ آپس میں ذاتی گفتگو کے لیے داؤد اور سندر اسی کمرے کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اس پر ہر وقت تالا پڑا رہتا تھا۔ کمرے کی ایک چابی داؤد کے پاس تھی دوسری سندر کے پاس۔ تیسری چابی پلٹو کے پاس تھی۔ پلٹو پر کالا پروڈکشن کا چپراسی اور دونوں حصے داروں کا منہ چڑھا تھا کیونکہ اس کے پاس تیسری چابی تھی اور جب دفتر بند ہو جاتا اور سب لوگ چلے جاتے‘ اس کے بعد بھی داؤد اور سندر اسی کمرے میں بیٹھتے تھے۔ ایسے موقعوں پر پلٹو ہی ان کی خدمت کرتا تھا۔ چار گھنٹے محفل ناؤ نوش جمتی۔ گھروں پر بیویوں کو ٹیلی فون ہوتا کہ دفتر میں بہت کام ہے۔ فلم کے شوق میں دور دور سے اڑ کر آنے والی تتلیوں سے ملنے کا یہی وقت تھا۔ ایسے وقت میں پلٹو ہی خدمت کرتا تھا۔ میں بھی ایک عرصے سے پلٹو کی خدمت کر رہا تھا۔ آٹھ دس بار اسے بھیل پوری کھلا چکا تھا۔
ایک دن پلٹو نے مجھ سے کہا۔ ”آج دونوں سیٹھ خالی ہیں آٹھ بجے تک۔ اس لیے تم سات بجے آنا۔“ میں ساڑھے چھ بجے ہی پہنچ گیا۔ پلٹو اس وقت سوڈے کی بوتلیں ذاتی کمرے میں لے جا رہا تھا ’مجھے جلدی سے دفتر کے باہر اپنی کرسی پر بٹھا کر اندر چلا گیا۔ کوئی دس منٹ بعد ہنستا مسکراتا باہر نکلا اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے اندر بلانے لگا۔ ”اندر چلو‘ سیٹھ بلاتے ہیں۔ میں نے تمہارا انٹرویو مقرر کروا دیا ہے۔ مگر خبردار میری کوئی بات وہاں کاٹنا نہیں۔ جو میں کہوں ہاں میں ہاں ملاتے جانا ورنہ تو پٹرا ہو جائے گا۔“ میں دھڑکتے دل سے اس کے ساتھ ساتھ چلا۔ تین عالی شان کمرے پار کر کے ہم سیٹھوں کے ذاتی کمرے کے باہر پہنچے۔ پلٹو نے دستک دی اور آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ میں اس کے پیچھے پیچھے۔ داؤد اور سندر دونوں ایک ہی صوفے پر بیٹھے تھے۔ سامنے کانچ کی ایک لمبی تپائی تھی جس پر فائلوں کی ایک چھوٹی سا طشت تھی۔ کونے میں ایک چھوٹی سی میز پر ایک ٹائپ رائٹر رکھا تھا۔ ایک کونے میں مخمل کا دیوان تھا ’دو صوفے تھے‘ چند کرسیاں اور ایک لوہے کی الماری سیٹھوں کے صوفوں کے پیچھے پورے کمرے کی لمبائی میں ایک پھول دار پردہ پڑا تھا۔ نیلے رنگ کے اس دبیز پردے کے پیچھے کیا تھا ’یہ معلوم نہ ہو سکا۔ ہاں وہاں سے روشنی چھن کر آ رہی تھی جس سے معلوم ہوتا تھا کہ ادھر بھی کچھ ہے۔ میں نے ایک لمحے میں کمرے کا جائزہ لیا۔ پلٹو بولا۔ ”یہ میرا دوست ہے پینٹ ماسٹر‘ اعلیٰ درجے کے گیت لکھتا ہے۔ تین سال ساحر لدھیانوی کا باورچی رہ چکا ہے۔“ ”ساحر کا باورچی؟“ داؤد نے حیرت سے میری طرف دیکھ کر کہا ’میں نے حیرت سے پلٹو کی طرف دیکھا۔ سندر نے جلدی سے مجھے ایک کرسی پر بیٹھ جانے کا اشارہ کیا‘ میں جلدی سے بیٹھ گیا۔ سیٹھ داؤد کی آواز کڑوی اور کھوکھلی تھی۔ ”ساحر ہر گانا کسی کو سنانے سے پہلے اسے سناتا تھا۔ یہ اجازت دیتا تھا ’تو کسی دوسرے کو سناتا تھا۔“ پلٹو کہتا رہا اور سندر کا منہ کھلنے لگا۔ ”اب یہ محض کہنے کی بات نہیں ہے۔“ پلٹو بولا۔ ”ساحر کا تاج محل اسی کا لکھا ہوا ہے۔“ ”تاج محل اس کا لکھا ہوا ہے؟“ داؤد حیرت سے چیخا۔ ”پلٹو تو بلنڈر تو نہیں پھینکتا ہے؟“ ”نہیں سیٹھ۔“ پلٹو نے فائلیں ایک کنارے پر رکھ کر کانچ کی لمبی تپائی پر خالی گلاس سجاتے ہوئے کہا۔
”اپنے کو جھوٹ سے کیا ملنے والا ہے؟ یہ میرا دوست گجب کا گیت کار ہے۔“ ”لیکن تاج محل تو ساحر نے برسوں پہلے لدھیانے میں لکھا تھا‘ ایسا میں نے سنا ہے۔“ داؤد سیٹھ بولا۔ ”پلٹو نے کہا۔“ یہ بھی لدھیانے کا رہنے والا ہے۔ دونوں ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ دونوں شاعر تھے پھر یہ تو اپنی اپنی قسمت کی بات ہے ’ایک آج آسمان پر ہے دوسرا فٹ پاتھ پر۔ ”سندر بس جانی نے مجھے ہمدردی کی نظر سے دیکھا۔“ لدھیانے میں اس نے ایک گیت لکھا تھا‘ راج محل ’جسے توڑ موڑ کے ساحر نے تاج محل کر دیا۔ تم سناؤ پینٹ ماسٹر انہیں راج محل۔” پلٹو نے آخر فقرہ مجھ سے مخاطب ہو کر کہا۔ میں راج محل سنانے لگا۔ ساحر نے تاج محل کو توڑ موڑ کے لکھا تھا یا نہیں‘ یہ تو مجھے نہیں معلوم مگر میں نے تاج محل کو توڑ موڑ کر ’راج محل‘ ضرور بنا دیا۔ راج محل سننے کے بعد داؤد اور سندر دونوں نے دانتوں تلے انگلی دبا لی۔ داؤد بولا۔“ وہی جات کی گجل معلوم ہوتی ہے۔ ”سندر بولا۔“ اور زیادہ سمجھ میں بھی آتی ہے۔ ”داؤد نے کہا۔“ صاف دکھتا ہے ’راج محل کا تاج محل بنا دیا ساحر نے۔”
پلٹو نے فتح مند نگاہوں سے میری طرف دیکھا اور کہا۔“ اب اندر کی بات کیا بتاؤں سیٹھ۔ جب یہ ساحر کا باورچی تھا‘ وہ روج اس سے ہر گانے پر صلاح لیتا تھا۔ کئی اچھے سے اچھے ٹکڑے دیے ہیں اس نے ساحر کی گجلوں میں۔ اندر کی بات بتا رہا ہوں۔ پر قسمت دیکھیو بے چارہ فٹ پاتھ پر ہے۔ اس کو ایک چانس جرور دو سیٹھ۔ ”پلٹو نے بات ختم کی اور وہسکی کی بوتل تپائی پر رکھ دی۔“ اچھا تم باہر جاؤ۔ ”داؤد نے پلٹو سے کہا۔“ ہم اس کے سنگ بات کرتا ہے۔ ”پلٹو نے بہت ہوشیاری سے مجھے آنکھ ماری اور پھر باہر چلا گیا۔ پلٹو کے جاتے ہی داؤد ذرا سا کھانسا۔ سندر بس جانی نے اپنے گلے کی ٹائی درست کی۔ داؤد بولا۔“ اور کیا کیا لکھان کرتے ہو؟ ”
“ گجل گیت ’گانا‘ دو گانا ’تیگانہ‘ سب لکھتا ہوں۔ ”میں نے کہا۔“ یہ تیگانا کیا ہوتا ہے؟ ”سندر نے پوچھا۔ سندر اور داؤد میں ’سندر ٹھیٹ بزنس مین مانا جاتا تھا اور داؤد کی رائے فلمی کہانی مکالمے‘ گیت کے بارے میں مستند سمجھی جاتی تھی۔ میں نے کہا۔“ دو گانا تو ہیرو ہیروئن کا ہوتا ہے۔ تیگانے میں ولن بھی بیچ بیچ میں گاتا ہے جیسے میں نے ایک تیگانا لکھا ہے۔ پہلے ہیرو گاتا ہے پھر ہیروئن ’آخر میں ولن۔ ذرا سنیے گا۔ ”ہیرو:“ میں کہتا ہوں ڈنکے کی چوٹ‘ تو ہے زہر کی پوٹ۔ ”ہیروئن:“ میں کہتی ہوں ڈنکے کی چوٹ ’تیرے من میں ہے کھوٹ ”ولن:“ دھت تیرے کی۔ ”ولن دھت تیرے کی‘‘ پر داؤد اچھل پڑا۔ میری بدصورت لمبے لمبے ناخنوں والی میل سے بھری انگلیاں چوم کر بولا۔
دھت تیرے کی ’کیا گجب کا ٹکڑا ہے دھت تیرے کی‘ آگے سناؤ۔“ میں آگے سنانے لگا۔ ”ہیرو: میں نے کھو دیا دس کا پتا ’میں نے کھو دیا سو کا نوٹ۔“ ہیروئن: ”کھائی حسن کی چوٹ‘ میرے آنچل کی اوٹ“ ولن: ”پڑ گئی ٹھرے کی ٹوٹ ’دھت تیرے کی۔“ ٹھرے کی ٹوٹ‘ اور اس پر دھت تیرے کی؟ ”دونوں سیٹھ اچھل پڑے۔ جلدی سے ایک گلاس میں میرے لیے وہسکی انڈیلی دوسرے میں اپنے لیے ’تیسرے میں داؤد کے لیے اتنی انڈیلی کہ اسے کہنا پڑا۔“ بس جانی۔” بس جانی نے ہاتھ روک لیا۔ پھر دونوں میں نہ جانے کیا خفیہ اشارہ ہوا کہ سندر نے ایک دم اپنا لہجہ بدل دیا۔ اپنے گلے کی ٹائی اور بھی ڈھیلی کرتے ہوئے بولا۔“ اچھا ہے مگر بہت اچھا نہیں ہے‘ ٹھیک ہے مگر بہت ٹھیک نہیں ہے۔ چلے گا مگر بہت نہیں چلے گا۔ ”“ ہاں اچھا ہے مگر کچھ اچھا ہے۔ مجے کا ہے مگر کچھ کسر ہے ’ابھی تم کو بہت محنت کرنا پڑے گا۔ ”داؤد سیٹھ بولا۔“ وہ بھی کر لوں گا‘ سیٹھ۔ ”میں نے کسی قدر لجاجت سے کہا۔ حالانکہ اندر سے مجھے بہت غصہ آ رہا تھا۔ “اس کو ایک چانس ملنا چاہیے۔ ”سیٹھ داؤد نے سندر بس جانی سے سفارش کی۔“ اس کی شاعری میں دم معلوم ہوتا ہے۔ ”“ پھر ساحر کا باورچی رہ چکا ہے۔ ”سندر بس جانی سے غور کرتے ہوئے کہا۔“ تو ایک چانس دے دو اسے۔ ”پر چانس ہے کدھر؟“ سندر نے داؤد سے کہا۔ ”بڑے والا فلم تو خود ساحر لکھ رہا ہے۔“ ”تو چھوٹا والا اس کو دے دو جوتم آگل مہینے میں شروع کر رہے ہو۔“ داؤد ایسے بولا جیسے اس کا اگلی فلم سے کوئی تعلق نہ ہو۔
”“ ہاں وہ چھوٹی فلم۔ اس میں تم خود کو آزما سکتے ہو۔ ”سندر بس جانی سے مجھ سے کہا جیسے مجھ پر بڑی مہربانی کر رہا ہو۔“ پر وہ بہت چھوٹی تصویر ہے۔ اس کو ہم اس لیے شروع کر رہے ہیں جو نئے لوگ ادھر ادھر سے تمہاری طرح فلم کے کام کی تلاش میں آتے ہیں ان کا کچھ بھلا ہو جائے۔ اپنے کو کچھ کھانے کمانے کا نہیں ہے اس دھندے میں دو چار لاکھ بنا ڈالیں گے نئے لڑکے لڑکیوں کو لے کر۔” “ سب نئے لوگوں کو چانس دیا ہے اس فلم میں۔ تم کو بھی دے لے گا۔ ”داؤد نے پچکار کر کہا۔“ اس کا کنٹریکٹ بناؤ جی ’ابھی۔” “شرائط تو طے کر لیں۔ ”سندر بس جانی کسی قدر کڑوے لہجے میں بولا۔ ہم پچاس روپیہ ایک گانے کا دیں گے‘ ہے تو بہت کم ’پر تمہاری اشتہار بازی پر بہت خرچ جو کرے گا۔“ ”کیا اشتہار بازی کرو گے؟“ میں نے جل کر کہا۔ یہی لکھو گے کہ ہماری پہلی فلم ساحر لدھیانوی لکھ رہا ہے اور دوسری اس کا باورچی؟ ”“ تم تو خفا ہو گئے پینٹ ماسٹر۔ ”داؤد نے ہنس کر میرے شانے پر ہاتھ رکھ دیا۔
پھر سندر سے مخاطب ہو کر بولا۔“ ہم جانتا ہے‘ یہ شاعر لوگ کا دل بہت پتلا ہوتا ہے ’جرا سی بات پر بھڑک جاتا ہے۔ اس کو اور وہسکی دو‘ سندر! ”سندر نے میرے لیے اور وہسکی انڈیلی۔ اپنے اور داؤد کے لیے بھی۔ داؤد کو پھر کہنا پڑا۔“ بس جانی۔ ”سندر نے غور سے میرے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔“ ہم کاہے کو ایسی مشہوری کرے گا جس سے تمہاری اور ہماری بدنامی ہو ’ہم تو کسی سے بولے گا تک نہیں کہ تم ساحر کے باورچی ہو۔ ہم تو ساحر سے بھی نہیں بولے گا۔ ہم ایسا منصوبہ کرے گا تم جیسے ساحر کے دوست رہ چکے ہو۔ لدھیانے کے ہم جماعت ہو۔ دونوں دوست دونوں شاعر۔ اب دونوں ایک ہی کمپنی میں دو الگ الگ فلموں کے گانے لکھتے ہیں۔ ایک میں ایک نے لکھا راج محل‘ دوسرے نے لکھا تاج محل۔ عوام ٹوٹ پڑے گی دیکھنے کے لیے کہ تم دونوں میں سے کون سا اچھا ہے۔ تم بات سمجھتے نہیں ہو کیا؟ ”میں اب سمجھ گیا۔ سندر واقعی ٹھیٹ بزنس مین تھا۔“ اور تمہارا نام بھی بدلنا پڑے گا۔ ”داؤد سیٹھ بولا۔ “ یہ پینٹ ماشٹر نہیں چلے گا۔ تمہارا نام رکھا جائے گا بجلی بھوپالی۔ ”“ بجلی بھوپالی؟ ”میں نے پوچھا۔“ ہاں بجلی بھوپالی۔ ”داؤد نے کڑک کر کہا اور پھر داد طلب نگاہوں نے سندر کی طرف دیکھ کر بولا۔“ کیوں؟ ”“ بجلی بھوپالی ’بہت اچھا نام ہے۔ ”سندر بولا۔“ جب مشہوری میں آئے گا‘ سالا بجلی کی مافق چمکے گا بجلی بھوپالی ’واہ!” سندر سیٹھ نے داؤد سیٹھ کے ماتھے پر ہاتھ مار کہا۔“ کیا فنکارانہ نام ہے۔ مانتا ہوں سیٹھ‘ فن کے معاملے میں تمہارا دماغ بہت چلتا ہے۔
” “سالا ہم گلت لین میں آ گیا۔ ”داؤد کسی قدر مایوسی سے بولا۔“ ہم کو ٹیم نہیں ملتا ہے کاروبار سے۔ نہیں تو ہم سچ کہتا ہے ہمارا مگج میں ایسا اشٹوری بھرا ہے کہ ایک دفعہ لکھ دیوے تو سارے ریٹر لوگوں کی گردن توڑ دیوے۔ اکھا ریٹر لوگ بمبئی چھوڑ چھوڑ کر بھا گ جاوے۔” وہ تھوڑی دیر چپ رہا پھر اداس ہو کر بولا۔“ پر کیا کرے ہم کو اس دھندے سے ٹیم نہیں ملتا ہے۔” سیٹھ داؤد کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ تھوڑی دیر ہم دونوں اس آدمی کے المیے پر غور کر رہے تھے جو ’ریٹر‘ بنتے بنتے بزنس مین بن گیا تھا۔
داؤد سیٹھ نے بھی جب اور غور کیا تو اس میں زیادہ وزن نہ پایا۔ فوراً ایک لمبا گھونٹ لے کر پینترا بدلا اور میری طرف دیکھ کر بے حد ہشاش بشاش ہو کر بولا۔“ تم کو چانس مل گیا تو ہمارے بولنے پر ایک بات ہماری بھی رکھنی ہو گی۔” “کیا؟” میں نے داؤد سیٹھ سے پوچھا۔“ پیسہ ملے گا گانے کا پچاس روپیہ ’پر رسید دو گے پانسو کی۔ ”“ وہ کیوں؟ ”“ ارے بابا! ”داؤد سیٹھ نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا۔“ ہم یہ بڑا فلم شروع کر کے مصیبت میں پھنس گیا ہے‘ اب تو یہ مصیبت ہے کہ کسی چوپڑی میں جگہ نہیں ہے ’کسی مد میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا۔ یہ نیا فلم شروع کرتا ہے کہ تم نئے لوگ کو چانس دے گا اور تھوڑا بلیک ٹھیک کرے گا ورنہ اپنے کو اس دھندے سے کچھ کمانے کا نہیں ہے۔ ”
”سمجھ گیا۔“ میں نے کہا ”تم نئے لوگوں کو چانس دے گا اور پرانا بلیک ایڈجسٹ کرے گا۔ ”“ تم ٹھیک سمجھا ہے۔ ”سندر بس جانی نے کہا۔“ میں جاتا ہوں۔ ”میں نے اٹھتے ہوئے کہا۔ سندر نے جھٹ مجھے بازو سے پکڑ لیا۔ ’“ کدھر جاتا ہے؟ ”“ واپس فٹ پاتھ پر۔ ”
”پاگل ہوا ہے؟“ ”ہاں، پاگل ہے ہم۔ پچاس روپے لے گا تو پچاس کی رسید دے گا۔ پانسو لے گا تو پانچ سو کی رسید دے گا۔ ہم کالا دھندا نہیں کرے گا۔“ اس پر وہ دونوں پہلے تو چپ رہے پھر ایک دم زور زور سے ہنسنے لگے۔ اتنا ہنسے اتنا ہنسے کہ ان کی آنکھوں میں پانی آ گیا‘ ہنستے ہنستے دونوں میری طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر اشارہ کرتے جاتے تھے اور کہتے تھے۔
”بالکل بچہ ہے۔“
”ایک دم کچا ہے۔“
”سالا گدھا ہے۔“
”نرا الو کا پٹھا ہے۔“
”سالا تم کس دنیا میں رہتا ہے؟“ سیٹھ بس جانی نے مجھے ایک بیزار کن نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”رسید کے بغیر میں آپ کو اس کی اجازت نہیں دوں گا۔“
وہ حیرت سے میرا منہ دیکھنے لگے۔ ایسے جیسے کسی پاگل کو پاگل خانے میں دیکھ رہے ہوں۔ پھر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کہ آیا وہ جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ واقعی ان کے سامنے کرسی پر موجود ہے۔ ”
”میں اپنے اصول توڑ نہیں سکتا۔“ میں نے بہت سختی سے کہا۔
”ہم اپنے نہیں توڑ سکتے۔“ سندر بس جانی نے جواب دیا۔
”میں تو جاتا ہوں۔“
”تو جاؤ۔“ سندر بولا۔
میں اٹھنے لگا تو سیٹھ داؤد بولا۔ ”پر یہ تیگانہ تو دیتے جاؤ۔ ہم تم کو اس کے پچاس کے بدلے پچھتر دیں گے اور پانسو کے بدلے تین سو کی رسید لیں گے۔ ”
”جی نہیں ’اس گانے کے سو روپے لوں گا اور سو کی رسید دوں گا۔ بس۔“
دونوں نے ایک دوسرے کی طرف مایوس ہو کر دیکھا۔ اتنے میں سیٹھ داؤد نے پھر کوئی خفیہ اشارہ کیا۔ سیٹھ نے جیب سے سو کا نوٹ نکال کر میری طرف بہت بیزاری سے پھینک دیا۔ میں نے نوٹ جیب میں رکھا اور رسید لکھ کر دے دی۔ گانا لکھ کر دیا اور پتلون جھاڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
اتنے میں پلٹو نے دروازہ کھولا۔ اس کے پیچھے پیچھے نہایت شاندار لباس میں ملبوس وہ لڑکیاں اٹھلاتی ’بل کھاتی‘ لچکتی ’ہنستی مسکراتی کسی تمہید و تعارف اور اطلاع کے بغیر اندر داخل ہوئیں۔ ان دونوں کی ساڑھیوں کے گرد چھ فٹ تک کسی خوشبو کا ایک نہ دکھائی دینے والا ہالا لرز رہا تھا۔ انھیں دیکھ کر داؤد اور سندر دونوں اپنے صوفے سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں تو خیر پہلے ہی سے کھڑا تھا۔ ان میں سے ایک لڑکی جو دوسری سے قد میں زیادہ لمبی تھی اور نازک سی تھی اور لباس بھی شاندار پہنے ہوئے تھی‘ میری طرف دیکھ کر کچھ ہچکچائی پھر مڑ کر اپنی سہیلی کا تعارف کرانے لگی۔ ”یہ میری سہیلی جیولی ہے آج ہی جبل پور سے آئی ہے اسے فلم میں کام کرنے کا بہت شوق ہے۔“
دونوں سیٹھوں نے شگفتہ مسکراہٹ سے ان دونوں کا استقبال کیا۔ پھر پہلی لڑکی نے میری طرف غور سے دیکھا۔ سندر نے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا۔ ”یہ ساحر کا باورچی ہے۔“ میں جلدی سے ہاتھ جوڑ کر کمرے سے باہر نکل آیا۔ میں تیز تیز قدموں سے واپس لوٹ رہا تھا اور میری آنکھوں میں آنسو تھے ’یکایک میرے پیچھے لڑکیوں کی ہنسی اور قہقہوں کا طوفان سا برپا ہو گیا۔ وہ لوگ کسی بات پر اتنے زور زور سے ہنس رہے تھے‘ سیٹھوں کے قہقہے بھی ان میں شامل تھے۔ کیا وہ لوگ میری حماقت پر ہنس رہے تھے ’ایسا‘ چانس ’کوئی احمق ہی رد کر سکتا ہے۔ پلٹو کیا کہے گا؟ بے چارے نے کیسا کیسا دھوکا کر کے مجھے کام دلوا ہی دیا تھا۔ فلم میں پہلا‘ چانس ’۔
او پینٹ ماشٹر! یہ اصول تیرے کس کام کے ہیں؟ کیا تو انھیں چاٹ سکتا ہے؟ کیا ان کی بتی بنا کے جلا سکتا ہے؟ کیا انھیں کھا سکتا ہے؟ انھیں ایک گدے کی طرح فٹ پاتھ پر بچھا سکتا ہے؟ کیا ان اصولوں سے ان لڑکیوں کی خوشبو آتی ہے جن کے قہقہے اب تک تیرے کانوں میں گونج رہے ہیں؟
پھر کب تک ان اصولوں کا کفن سر سے باندھے آرزوؤں کے میلے میں گھومے گا؟ اب بھی پلٹ جا اور دستخط کر دے اس معاہدے پر ’اور شامل ہو جا اس حمام میں جہاں سب ننگے ہیں۔

