رمضان شامل
عمرہ کے سفر سعادت پر مدینے میں موجودگی کے دوران ایک روز نماز تہجد کے بعد اذان فجر اور نماز فجر کے لیے منتظر مسجد نبوی میں موجود تھے۔ میرے ساتھ ہی ایک باریش اور بارعب خوبصورت انسان بیٹھے ہوئے تھے جنہوں نے سلام دعا کے بعد اپنا تعارف رمضان کے طور پر کروایا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ امام شامل کی نسل اور اولاد سے تعلق رکھتے ہیں۔
امام شامل کا نام تو میں نے سن رکھا تھا تاہم ان کے بارے میں تفصیلی معلومات نہیں تھیں۔
گفتگو کے دوران رمضان شامل نے بتایا کہ ان کے آبا و اجداد قفقاز اور داغستان کے خطے سے ہجرت کر کے ترکیہ آ گئے تھے اور شہر برصہ میں قیام پذیر ہو گئے۔ مزید یہ کہ وہ بھی وہیں برصہ میں مقیم ہیں اور فن خطاطی و سجاوٹ کے پیشے سے منسلک ہے۔
اس دوران رمضان شامل نے امت مسلمہ کی موجودہ صورتحال پر بڑے افسوس کا اظہار کیا اور امت محمدیہ کی زبوں حالی کا تذکرہ کرنے لگے۔ فلسطین کے مسلمانوں کا بڑے درد بھرے انداز میں ذکر کیا۔ میں نے بھی یہی کہا کہ ہاں آج اگر مسلمان متحد ہوتے تو کبھی اسرائیل کو غزہ پر یوں وحشیانہ بمباری کی جرآت نہ ہوتی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اگر تمام مسلمان ممالک متحد ہوتے تو یہ صورتحال اور یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ میں نے ان سے اتفاق کیا۔
امام شامل داغستان اور قفقاز کے خطے میں نقشبندی سلسلے کے تیسرے امام اور اپنے علاقے کے حکمران تھے۔ انہوں نے نہ صرف وہاں اسلام کی خدمت کی اور شریعت لاگو کی بلکہ علاقے کا انتظام و انصرام بھی بڑے احسن طریقے سے چلایا۔ ان کے زیر سایہ لوگ بہت خوش اور خوشحال تھے۔
جب روس نے اس علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو امام شامل اور ان کے پیروکاروں نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور یہ مزاحمت کئی سالوں تک جاری رہی۔ آخر کار روسی فوجوں نے انہیں قید کر کے نظر بند کر دیا۔ اس دوران انہوں نے روسی حکام کی رضامندی سے حج کی نیت سے حجاز کا سفر کیا اور مکہ روانہ ہو گئے۔
حج کے فرائض ادا کرنے کے بعد جب وہ مدینہ منورہ پہنچے تو وہیں ان کا انتقال ہو گیا اور انہیں جنت البقیع، مدینہ منورہ میں دفن کر دیا گیا۔
جنت البقیع میں مدفون ہونا یقیناً ایک بہت بڑی سعادت ہے جو امام شامل جیسے عظیم انسانوں کو ہی نصیب ہو سکتی ہے۔ یقیناً انہیں یہ سعادت اسلام اور مخلوق خدا کی خدمت کے صلے میں اس دنیا میں نصیب ہوئی ہوگی اور یقیناً آخرت میں بھی خدا انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے گا۔
وہی جنت البقیع جو مسجد نبوی کے قریب تھی اور جہاں ہم بیٹھے امام شامل کے نواسے رمضان شامل سے امام شامل اور امت مسلمہ کے بارے میں محو گفتگو تھے۔
اتنے میں مسجد نبوی کے میناروں سے اذان فجر کی صدا بلند ہوئی۔ سنتیں ادا کرنے کے بعد ہم نے اکٹھے باجماعت نماز ادا کی اور کچھ دیر مزید امت مسلمہ کی صورتحال اور اس کے حل کے بارے میں گفتگو کرتے رہے۔
آخر کار ہم ایک دوسرے کے گلے ملے اور اجازت چاہی۔



