بریانی۔ ہماری شہ رگ
بریانی کے مشہور ہوٹل پہ بیٹھ کر میں نے فیصل سے کہا کہ
برصغیر میں شاید ہی کوئی اس بات پہ مکمل دسترس رکھتا ہو کہ بریانی کب سے رواج پائی۔ سب کے پاس متضاد اطلاعات ہیں۔
لیکن وہ آیا۔
اس نے دیکھا۔ اور چھا گیا۔ اگر یہ مثال کھانوں میں پروسی جائے تو بریانی اس مثال پہ پوری اترتی ہے۔
یار اطلاعات جو بھی ہوں مگر بریانی کی حرمت پہ آنچ نہ آئے، فیصل نے کہا۔
تمہیں بریانی بھی پسند ہے؟ میں نے فیصل سے پوچھا۔ (اور بریانی کا آرڈر بھی دے دیا)
تم جانتے ہو، دیکھنے میں دلکش ہو، گرم ہو اور مونث ہو، اور میں انکاری ہو جاؤں! ؟ یہ ممکن نہیں۔
خیر یہ بریانی کی حرمت سے کیا مطلب ہے؟
بھائی عقیدت سی ہے اس کھانے سے۔ اس کا احترام ہی الگ ہے۔
بابرکت اتنی کے جمعہ کو سب سے زیادہ کھائی جاتی ہے۔ اکثر دوستوں کے ہاں تو یہ کھانا بعد از نماز جمعہ وجوب کا درجہ رکھتی ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے اس کی بہت فضیلت آئی ہے،
اور ایک وقت تھا مجھے تو شب جمعہ کو خواب بھی بریانی کا ہی آتا تھا۔ اس لیے اس کی حرمت مجھے بہت عزیز ہے۔
یار فیصی تم تو بہت سیریس لگتے ہو اس معاملے میں۔
جی کسی میت کی بریانی کی طرح بہت سنجیدہ۔
ارے! میت کی بریانی سنجیدہ ہوتی ہے؟
ہاں یار وہ شادی کی بریانی کی طرح کھلی کھلی خوش خوش نہیں ہوتی چاول مایوس پڑے ہوتے ہیں اور بوٹی کی کمی یا غیر موجودگی کو باقاعدہ محسوس کر رہے ہوتے ہیں، ایسے میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ چاولوں کا اکیلا پن آلوؤں سے دور کیا جا تا ہے۔ اور آلوؤں کی جسامت اور تعداد میں کثرت ہوتی ہے۔
اور بوٹیوں کی آمیزش پہ تو
شوق بہرائچی نے کہا تھا
ساتھ تسبیح کے دانوں کے سنا ہے ہم نے
شیخ بریانی کی بوٹی بھی گنا کرتے تھے
یہ دیکھو پلیٹ میں بوٹی کس شان سے اپنے آلو جو بمعنی پیادے موجود ہیں کیسے غرور کے ساتھ موجود ہے کیسا حسین منظر ہے۔ جیسے پلیٹ سے باقاعدہ آواز آ رہی ہو۔ آؤ مجھے کھاؤ بلکہ محض کھاؤ نہیں بلکہ مجھے پھوڑو۔ بتاؤ بھلا کسی کھانے سے ایسی آواز سوچی بھی جا سکتی ہے؟
ہاں کہہ تو صحیح رہے ہو کراچی میں بروز جمعہ بریانی کا واقعی اک سما بندہ جاتا ہے۔
ایمی بریانی ہے ہی کراچی کی خاص ڈش۔
یار میں نے اور بھی شہروں میں کھائی ہے۔ (میں نے کہا)
دیکھ بھائی!
دوستی یاری اپنی جگہ مگر یاد رکھنا، بریانی کی توہین برداشت نہیں ہوگی۔
بریانی کے نام پر جو چاول ماسوائے کراچی کے اس مملکت خداداد میں کھلائے جا رہے ہیں وہ بدعت ہے۔ اس سے جتنی جلدی ہو سکے توبہ کی جائے، اس معاملے میں قبلے کا درست سمت میں ہونا بہت ضروری ہے۔
یار بدعت حسنہ بھی تو ہو سکتی ہے؟
بریانی کو لے کر جو بدعت رائج ہے اس معاملے میں مجھے اہل حدیث سمجھو۔ جن کے نزدیک بدعت نہ تو حسنہ ہوتی ہے نہ سئیہ بلکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کراچی کے اہل ایمان اس معاملے میں متشدد ہیں کہ بریانی اور کہیں اپنی اصل حالت میں موجود نہیں۔
ایمی ایسا ہی ہے فی الوقت یہ دعوی اپنی پوری سند اور آب و تاب کے ساتھ رائج ہے۔
تم بتاؤ تمہارا کیا موقف ہے۔
یار فیصل تمہاری جتنی گہری اور متشدد نظر تو نہیں بریانی پر مگر میں بریا نی کو خوشی ہو یا غم دونوں میں مواقف حال پایا ہے۔ لوگ بریانی میں اتنے کمفرٹیبل ہو گئے ہیں کہ شادی و جنازہ پہلا دھیان ہی بریانی پہ جاتا ہے، یعنی آپ انسان پرستی، انسان دوستی دیکھئے۔ یہاں بین المذاہب ہم آہنگی کے دعویدار تو بہت مولوی اور جماعتیں ہیں مگر یقین کر یار یہ بریانی ہی ہے جو بین المذاہب ہم آہنگی میں یکساں مقبول ہے مجلس ہو کہ میلاد شہدا کا ماتم ہو یا جشن ولادت بریانی اپنا رنگ بھرپور جماتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے خدا کی یہ وہ نعمت ہے جس پہ بنی نوع انسان بغیر رنگ، نسل، مذہب، قوم کے متفق ہے۔ یہ ہے وہ اجماع امت جس میں رتی بھر بھی اشکال نہیں۔
یہ کہہ کر میں نے بریانی کی پلیٹ کو نہایت مایوسی سے ختم ہوتے دیکھا۔
فیصل نے کاندھا تھپک کے کہا اور منگواتے ہیں نا۔
اتنے میں برابر میں ایک فیملی بیٹھی تھی اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ جیسے ہی بریانی کی پلیٹ آئی اس چھوٹے بچے کے منہ سے نکلا
بابا برجانی۔
دیکھ ایمی یہ ہوتی ہے مقبولیت، شہ رگ سے قریب


