پاکستان سعودی تعاون


پاکستان اور سعودی عرب میں دیرینہ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ درحقیقت یک جان دو قالب جیسی کیفیت ہے۔ اب ایک خوشخبری ہے کہ سعودی عرب کی سرکاری تیل و گیس کمپنی آرامکو نے پاکستان میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو ہماری معاشی مشکلات سے نکلنے کا سبب بنے گا۔ جن ممالک نے بھی ترقی کی ہے وہ بیرونی سرمایہ کاری سے ہی کی ہے۔ آرامکو دنیا بھر میں دوسری بڑی کمپنی ہے۔ اس کا قیام 1932 میں ہوا تھا اور وہ تیل و گیس کی دریافت اور ترسیلات کا کام بڑی سرعت سے کرنے میں مشاق ہے۔

اس کا مرکزی دفتر سعودی شہر دہران میں واقع ہے۔ یہ سالانہ منافع کمانے کے لحاظ سے دنیا کی بہترین کمپنی مانی جاتی ہے۔ اس کے تیل کے ذخائر 270 ارب بیرل ہیں اس کی آئل فیلڈ سو سے زائد ہیں۔ اس کے گیس کے ذخائر 288.4 ارب مربع فٹ ہیں۔ کاروباری دنیا کے سب سے معروف رسالے فوربز کے مطابق یہ پوری دنیا میں سب سے دوسری بڑی کمپنی ہے۔ آرامکو اب پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے ایک معاہدہ کرچکی ہے جو پاکستان آئل اینڈ گیس کمپنی کے 40 فیصد شیئر خریدے گی۔

یہ خوش آئند اقدام ایسے مشکل حالات میں ہوا ہے جب بہت سے کمپنیاں یہاں سے کوچ کرنے کے لئے پر تول رہی ہیں۔ اس ماحول میں یہ معاہدہ سعودی عرب کی پاکستان سے ازلی والہانہ محبت کو ظاہر کرنے کی ایک شاندار مثال ہے۔ ڈاکٹر علی عواد العسیری جو اسلام آباد میں 2001 تا 2009 سعودی سفیر تعینات رہے نے ایک حالیہ مضمون میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات پہ خاصی جامع روشنی ڈالتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کی معیشت پہ گہری نظر رکھتے ہوئے ہر مشکل میں برادرانہ مدد کی ہے۔

یہ برادرانہ تعلقات قیام پاکستان سے بھی پہلے کے ہیں جب 1940 میں شہنشاہ سعود الفیصل نے کراچی کا تاریخی دورہ کیا اور اپنی تمامتر مدد و تائید کا اظہار مسلم لیگ کے ساتھ ظاہر کیا ہے اسی وجہ سے کراچی میں 1954 میں سعود آباد کے نام سے کالونی بنائی گئی۔ قحط بنگال کے دوران خطیر امداد دی گئی۔ 1946 میں اقوام متحدہ میں شہزادہ فیصل بن عبدالاعزیز نے قیام پاکستان کے لئے مکمل سیاسی و سفارتی تائید و حمایت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

قیام پاکستان کے بعد سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم بھی سعودی عرب نے کیا۔ 1950 میں دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارتی معاہدہ ہوا۔ 1965 کی جنگ کے دوران بھی پاکستان کے ساتھ ڈٹ کے کھڑا رہا۔ 1967 میں دونوں ممالک نے باہم دفاعی معاہدہ بھی کیا تھا۔ شاہ فیصل کے حکم سے اسلام آباد میں 1974 میں فیصل مسجد کی بنیاد رکھی گئی جو ایک شاندار دوستی کا انمول تحفہ ہے۔ موجودہ وزیراعظم محمد بن سلیمان فخریہ اپنے آپ کو پاکستان کا سعودی عرب میں سفیر کہلاتے ہیں۔ انہوں نے 6 ارب ڈالر کی امداد بھی دے کر روایتی دوستی و باہم الفت کو مزید اجاگر کیا۔ 20 ارب ڈالر کا تجارتی معاہدہ طے پایا جو دونوں ممالک کے درمیان محبت و الفت اور احترام کا مظاہرہ ہے۔ توقع ہے کہ آنے والے دنوں اور سال میں یہ رشتۂ الفت مزید پروان چڑھے گا جس سے عوامی فلاح و بہبود کو مہمیز ملے گی۔

Facebook Comments HS