ایران پاکستان اور بلوچ


ایران پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا ناصرف یہ بلکہ ایران ان معدودے ممالک میں شامل تھا جس نے پاک بھارت جنگوں میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ تاریخی طور پر ایران تنازعہ کشمیر پر بھارتی مذمت بھی کرتا رہا ہے جب کہ بھٹو دور کی بلوچستان شورش میں بھی شاہ ایران نے پاکستان کے ساتھ تعاون کیا تھا۔ یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نا ہو گا کہ شاہ ایران وہ پہلے غیر ملکی سربراہ ریاست تھے جنہوں نے پاکستان کا دورہ کیا اور اشتراکی روس کو پیغام دیا کہ پاکستان پر حملہ ایران پر حملہ تصور ہو گا تو پھر ایسا کیا ہوا کہ ایران نے پاکستان کی علاقائی خود مختاری اور سالمیت کے خلاف پاکستان پر حملہ کر دیا۔

اس سلسلے میں جند اللہ جو اب جیش العدل میں بدل چکی ہے اور بلوچ علیحدگی پسند تحریک کا معاملہ قابل غور ہے۔ بہت عرصے سے جیش العدل اور اس طرح کی دیگر دہشت پسند تنظیمیں مثلاً انصار الفرقان وغیرہ نے بلوچستان میں اپنا ٹھکانہ رکھا ہوا ہے اور وہ سرحد پار ایران میں جا کے اپنی دہشتگردانہ کارروائیاں سرانجام دیتی رہی ہیں دوسری طرف بلوچ علیحدگی پسند تحاریک یا پاکستان ریاست مخالف تحاریک ہیں انہوں نے ایران میں پناہ لے رکھی ہے۔

حیران کن طور ہر بالکل اسی دن ڈیوس میں ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور پاکستانی وزیراعظم انوار الحق کاکڑ جو خود بھی بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں کہ ملاقات ہوتی ہے اور اسی رات پاکستان پر حملے بھی ہوئے تو کیا یہ ایک امکان ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ پاکستانی اجازت سے انہوں نے یہاں پر حملے کیے ہوں اور ان حملوں کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان ایک ہم آہنگی ہو کہ اس کے نتیجے میں پاکستان نے بھی ایران کے اندر حملے کر دیے۔

پاکستان کے ایران کے اندر حملے چند اہم پہلوؤں کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک تو اس وقت اسلام آباد میں بلوچ مظاہرین کا جبری گم شدہ افراد کی گمشدگی کے خلاف دھرنا جاری ہے تو ایسا ہو سکتا ہے کہ یہ بلوچ علیحدگی پسندوں کو سبق سکھانے کا ایک نادر موقع ہو جسے پاکستانی مقتدرہ ضائع نہ کرنا چاہتی ہو تاکہ بلوچ احتجاج کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اس کے علاوہ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چونکہ اس وقت ملک کے مجموعی سیاسی حالات کی وجہ سے موجودہ انتظامیہ کے خلاف عوام میں رنج و غم پایا جاتا ہے تو عوامی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کے لیے جذبہ حب الوطنی کی مدد لینے کے لیے بھی ایسا کیا جا سکتا ہے تاکہ عوام کا رجحان سیاسی منظر نامے سے ہٹ کے بین الاقوامی منظر نامے پہ چلا جائے۔

اس سارے پس منظر میں ایران کے اندرونی سیاسی معاملات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس وقت ایران میں ملائیت کی سیاست ہے اور ملائیت اور انقلاب کی سیاست کو برقرار رکھنے کے لیے اکثر محاذ جنگ کو گرم رکھنا پڑتا ہے تو چونکہ ایران عراق اور دیگر عرب ممالک سے پہلے لڑ چکا ہے تو اس لیے ایسا ہو سکتا ہے کہ ایران اپنا مشرقی محاذ بھی گرم کرنا چاہتا ہو تاکہ ملائیت کی سیاست کو ایک جواز فراہم ہو سکے اور انہیں سیاسی نشو و نما اور سانس لینے کا موقع مل جائے۔ ویسے بھی اس تنازعے میں پاکستانی اور ایرانی اہداف مختلف ہیں کیونکہ ایران فرقہ وارانہ بنیادوں پر بلوچوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے جب کہ پاکستان سیاسی بنیادوں پر بلوچ مزاحمت کو خطرہ سمجھتا ہے۔ لہذا ایران کا سنی بلوچوں کو نشانہ بنانا ایران کے اندرونی شیعہ ملائیت کی سیاست کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔

پھر اس معاملے میں ایک اور بہت اہم بات افغان دار اندازی ہے۔ ماضی میں افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں ہوتے رہے ہیں جیسے سلالہ چیک پوسٹ پہ حملے میں 26 فوجی جوانوں کی شہادت تھی یا جیسے ایبٹ آباد آپریشن ہوا یا جیسے ڈرون اٹیکس وغیرہ تو پاکستان نے کبھی اس پہ کوئی خاطرخواہ جواب نہیں دیا یا اس طرح سے کسی فوجی کارروائی کا ارادہ ظاہر نہیں کیا۔ لیکن جب بالاکوٹ پہ بھارت نے حملہ کیا تو پاکستان نے اس کا منہ توڑ جواب دیا۔

افغانستان میں امریکی موجودگی کے دوران تو شاید پاکستان بین الاقوامی سطح پر تو اپنے خلاف دشمنی پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اب پاکستان ایران میں اس جوابی حملے سے یہ افغانستان کو یہ پیغام بھی دینا چاہتا تھا کہ علاقائی سطح پر پاکستان بہرحال ایک طاقت ہے اور پاکستان اپنے وقار اور سالمیت پر کوئی حملہ برداشت نہیں کرے گا اور کبھی بھی افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

مندرجہ بالا معاملات ہی تمام پہلو نہیں ہیں اس کے علاوہ بھی بہت سارے پہلو ہو سکتے ہیں۔ تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ طرفین کے حملوں میں دونوں طرف سے بلوچ ہی مارے گئے ہیں اور دونوں ہی ممالک کو اپنی اپنی سرزمین پر موجود دوسرے ملک کو مطلوب افراد کی موجودگی کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ مضحکہ خیز امر یہ بھی ہے کہ کبھی بھی دونوں ممالک نے بارڈر اسمگلنگ کو روکنے یا اپنے بلوچ سرحدی علاقوں میں شورش کی اہم معاشی، سماجی و سیاسی وجوہات کو ختم کرنے کے لیے ایسا کوئی آپریشن نہیں کیا۔

Facebook Comments HS