ٹرین ٹو لاہور – ایک سفر نامہ


mahmood ul-hasan khan mansehra

ریل چھوٹنے میں کوئی آدھا گھنٹہ تھا۔ ایک کندھے پر بیگ لٹکائے میں بھاگم بھاگ ٹکٹ کاؤنٹر پر پہنچا، جہاں لاہور جانے والے مسافروں کی ایک لمبی قطار کھڑی تھی۔

سٹیشن پر لوگوں کی ایک بھیڑ تھی۔ مسافر جوق در جوق آتے، ٹکٹ وصول کرتے اور پلیٹ فارم کی طرف گامزن ہو جاتے۔

دس منٹ کے انتظار کے بعد کاؤنٹر پر بیٹھی جامنی سکارف میں ملبوس ایک خاتون نے کچھ معلومات لی اور پھر ٹکٹ ہمارے ہاتھوں میں تھما دیا۔ راولپنڈی سے لاہور جانے والی یہ ٹرین پلیٹ فارم نمبر چار پر کھڑی تھی جسے نکلنے میں دس منٹ باقی تھے۔

بوگی نمبر 5 میں گھومتے گھومتے کچھ دیر بعد میں اپنی سیٹ پر براجمان ہوا۔ باہر پلیٹ فارم پر ابھی تک مسافروں کی گہماگہمی جاری رہی۔ کسی کی راہیں لاہور تک تو کسی کی منزل ملتان تھی۔ انہیں خیالوں میں گم تھا کہ ریل کی سیٹی بجی اور اب وہ کسی نحیف بزرگ کی مانند خراماں خراماں چلنے لگی۔

ریل کی کھڑکی سے باہر کا نظارہ بہت دلکش تھا، جس نے ایک لمحہ کے لیے دن بھر کی ساری تھکان دور کردی۔
سورج کی پچھم میں چھپتی ہوئی کرنیں،
دور افق سے نکلتی ہوئی سرمئی لہریں،
ریل کی پٹریوں کی کھٹ کھٹ۔
پھیری والوں کی آوازیں۔ ”پانی لے لو! چپس لے لو!“ نے ایک رومانوی سی کیفیت پیدا کردی تھی۔

ریل جب سٹیشن در سٹیشن رکتی تو لوگوں کا ایک ہجوم ٹوٹ پڑتا، دھکم پیل ہوتی اور مر مر کر کسی کو برتھ نصیب ہوتی۔ پانچ گھنٹے کے اس سفر نے ایک الگ دنیا دکھائی، ریل کے اندر ایک انوکھا ماحول ملا۔ بچپن کی وہ تمام یادیں امر ہو گئی جب میں کسی کتاب میں ریل گاڑی کا قصہ سنتا تو دل مچلتا اور پھر اپنے دوست سے پوچھتا ”علی! کبھی ریل میں سفر کیا ہے“ ۔ تو پھر وہ اپنے گاؤں جانے کا پورا قصہ سناتا اور میں بڑی دیر تک اسے ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہتا۔

……………………..

ریل کی سیٹی بجی، میں ایک جھٹکے کے ساتھ بیدار ہوا، لوگ آہستہ آہستہ ریل کے ڈبے سے نکلنے لگے۔ یہ لاہور کا ریلوے سٹیشن تھا جہاں مسافروں کا ایک ہجوم تھا، جو ملک کے مختلف علاقوں سے رات گئے تک یہاں پہنچے۔ میں نے اپنا سامان سمیٹا اور اس تاریک شام میں کسی گاڑی کو ڈھونڈنے نکلا جو مجھے منزل مقصود تک پہنچاتی۔ لاہور رات کے اس پہر بھی رونق  بھرا تھا۔ گاؤں کے برعکس یہاں پر دو طرح کی رونقیں تھیں، رات کی تاریکی میں گونجتے ہوئے قہقہے اور دن کے اجالے میں دوڑتی ہوئی زندگی۔

لاہور کی صاف ستھری کشادہ سڑکیں، خوبصورت فلائی اوور، اور بیچ میں چلتی ہوئی اورنج لائن ٹرین نے میرے چودہ طبق روشن کر دیے۔ جس پرانے لاہور کا میں تصور لے کر گیا تھا وہ تو پہلی نظر میں ہی ہوا ہو گیا۔ اب یہاں پر رکشوں کی وہ ٹرٹراتی ہوئی آواز بہت کم سننے کو ملی جو چھ سال قبل سنی تھی۔

ایک صبح ہم لاہور کے اس اندرون شہر دیکھنے نکل پڑے جس کے ساتھ برصغیر کی تاریخ اور ثقافت کی یادیں جڑی ہیں۔ کسی زمانے میں یہ مسلمانوں، ہندووں اور سکھوں کا اہم مسکن رہا ہو گا۔ یہاں کی بوسیدہ عمارتیں، ان پر لکھے ہوئے پرانے ناموں نے مجھے ہندوستان کی تقسیم کی ایک دردناک تاریخ یاد دلا دی۔ یہاں پر ابھی بھی بہت سی گلیاں سکھوں کے نام سے موسوم ہیں۔

دہلی گیٹ سے جیسے ہی اندر ہوا تو سڑک کے دو جانب کھڑی پرانی حویلیوں نے مجھے فلم ”امراؤ جان ادا“ میں لکھنؤ کی کھینچی ہوئی ایک تصویر یاد دلا دی۔ ان حویلیوں کے دامن میں کچھ لوگ ڈھابے پر لاہوری چنے اور بونگ پائے بیچ رہے تھے، جس کی پھیلتی ہوئی خوشبو سے میرے پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے۔

کچھ دیر میں ہم اندرون لاہور کی ان تنگ گلیوں میں گھومنے نکل پڑے جس کے بارے میں یوسفی صاحب لکھتے ہیں کہ اگر ایک طرف سے مرد اور دوسری جانب سے عورت آئے تو بیچ میں صرف ایک نکاح کی گنجائش بچتی ہے۔ اندرون شہر کی تنگ گلیوں کا ایک اپنا رومان ہے، اس کی پرانی عمارتیں ماضی کی ایک یاد ہے، جو پل پل ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کبھی بھی نہیں رکتی۔ کسی زمانے میں اس شہر پر ہندو بادشاہوں کی بادشاہت تھی، پھر مسلمان بادشاہوں نے اسے سرنگوں کیا، پھر ایک عرصے تک سکھوں کے زیر حکمرانی میں رہا، اب بھی یہ شہر رونقوں سے بھرپور ویسے ہی قائم و دائم ہے۔ بس اب وہ وقت بدل گیا ہے اور اس شہر میں نئے لوگ آ بسے ہیں ایک نئی تاریخ رقم کرنے۔

Facebook Comments HS