ونڈو شاپنگ
یہ اتوار بھی دراز پر نت نئے لیپ ٹاپ دیکھتے گزر گیا۔ تلاش تو ایک کروم بک کی تھی جس پر مضامین پڑھے اور لکھے جا سکیں اور جس کا وزن بھی نہ ہونے کے برابر ہو اور جس پر دیگر ٹامک ٹوئیاں بھی ماری جا سکیں۔ پھر بھیا کا میسج آ گیا کہ فلاں کورس کر لو، اس کی مدد سے تم کمپیوٹر نیٹ ورکس کی مہارت حاصل کر لو گے۔ اب انہیں کیسے بتائیں، اپنی عمر ہو گئی۔ اب تو ہم مریضوں کے ہی ناز اٹھائیں گے، اسکول لائف والی بے فکری اب ہمیں کہاں نصیب۔
آخر یہی طے ہوا کہ سستا کمپیوٹر لینے کا مطلب ہے غبی عورت سے شادی جس سے بچنے میں ہی عافیت ہے۔ مستقبل کے خدشات تو سب کو ہوتے ہیں اور لوگ سگریٹ وغیرہ بھی پیتے ہیں لیکن پریشان ہوتے ہیں تو ہوا کریں، ہم بھی مایوس ہو لیں گے۔ ارے بھائی، سب کو دلاریاں کھانی پسند ہیں، پھر پکتی تو ایسے مشقت ہی سے ہیں۔ تو کیا بتائیں ہوسٹل میں زندگی گھڑی کے ڈائل جیسی ہوتی ہے۔ ظالموں نے واش بیسن والا بلب فیوز کر دیا ہے۔ اور کپڑے سوکھنے کے نہیں۔
اور گرو جی نے جو ٹاپک دیے تھے وہ بھی نہیں پڑھے، بس دن ڈرامے دیکھنے میں گزر گیا۔ میرے پاس ایک ذخیرہ ہے کتب کا جو میں باہر نہیں پھینکنا چاہتا اور انہیں پڑھنا بھی محال ہے۔ کسی لاطینی امریکہ کے ہسپتال کی لائبریری کا پلندا، فکشن ہے لیکن سمجھ سے باہر۔ میرے قریب تو دریا بھی نہیں جہاں پھینک آؤں۔ مزید یہ کہ کورس کی کتابیں نہایت سوکھی طبیعت کی ہیں۔ اور یہ کہ یوٹیوب سے ریویو دیکھ لینے سے خریداری کی ہوک جاگ اٹھتی ہے لیکن میرا غبی بیوی والی مثال نے جی ہی مار دیا ہے۔
مضامین موبائل پر بھی لکھے کہ سکتے ہیں۔ اور پڑھے بھی جا سکتے ہیں۔ اچھی اچھی کتب بھی مل جاتی ہیں، جیسے گرو جی مجھے قرآن پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں، بقول ان کے اگر اللہ میاں سے رابطہ بحال ہو تو بندہ مطالبات کر سکتا ہے اور جنت کے امکان بھی روشن رہتے ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے اللہ میاں روشن خیال سے بندے ہیں۔ ان کا ذہنی افق وسیع ہے اور وہ فروعی چیزوں سے دور ہی رہتے ہوں گے۔ میرا خیال ہے کہ ایک ہی دفعہ شعلہ فشاں پھٹنے سے بہتر ہے اگر بتی سلگتی رہے۔ اس سے رونق لگی رہتی ہے۔ ابھی اس خیال کے مندرجات کا مجھے صحیح سے ادرک تو نہیں لیکن ایک دھڑکا سا لگا رہتا ہے۔ قوانین فطرت ہماری مرضی سے تو نہیں چلتے، یہاں ہٹ اینڈ ٹرائل چلتا ہے۔ آخری لمحے تک سٹوری کا پانسہ بدل سکتا ہے۔ وش لسٹ میں کیوٹ سا ٹفن، ماسک، مکینیکل آرم، اور بھی تو ڈھیر ساری چیزیں ہیں۔
میں انہیں گھما پھرا کر مغربی لٹریچر کی طرف لاتا ہوں، جسے وہ اینٹی سمیٹک خیالات سے منہ پھر لیتے ہیں۔ ان کے پاس مغرب کی رد کرنے کی ہر دلیل ہے۔ اور وہ جنگ عظیم دوم سے بھی انکاری ہیں، کیا ہمارے بڑے جانتے ہیں تو نوجوان نسل کے خیالات کیا ہیں۔ ان کی زندگی کا تجربہ برحق ہے، لیکن یہ یہ خلیج کیا رنگ لائے گی۔ میں کب تک ان کے زیر اثر رہوں گا۔ یہ ہر گھر کی کہانی ہے۔ انقلاب کس نوعیت کا ہے آپ کو پتہ ہے۔ کیا پتہ جنت میں انسٹاگرام چلتا ہے کہ نہیں۔
ان کے پاس زندگی کو اصول تھے۔ جنہیں ہم نے دقیانوسی سمجھ کے رد کر دیا۔ اور یوٹیوب نسل لے آئے۔ جو قول و فعل میں خود مختار ہے۔ نشہ کتنا عام ہوا، شراب اور دوسری سماجی برائیاں۔ لیکن یہ تو پہلے بھی ہوتی تھی۔ اور ان کو شرفا کی پشت پناہی تھی۔ اب عام آدمی نے بھی اپنا لی ہیں۔ انسانی مجموعی فطرت میں تغیر نہیں آیا۔ بس پہلے چھپ کر پیتا تھا اب دھڑلے سے پیتا ہے۔ نانا ہمیشہ نماز ادا کرتے تھے۔ ابا نہیں تھے کرتے، ہم بھی نہیں کرتے، لیکن وقت کے ساتھ ابا بھی کرنے لگے اور ہم بھی، اس کی کوئی نفسیاتی توجیہ بھی موجود ہے۔ لیکن اگلی نسل کیا کر رہی ہے، آپ بھی دیکھ لیں۔ کب تک ونڈو شاپنگ کرو گے، آخر اٹھا کر لے ہی آؤ گے۔


