8 فروری کے بعد کیا ہو گا؟
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی گھبراہٹ، تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی جھنجھلاہٹ اور مسلم لیگی (ن) قیادت کی پراسرار ’مسکراہٹ‘ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں کچھ ’بڑا‘ ہونے والا ہے۔ ایک پارٹی کی غیر متوقع کامیابی کے ساتھ ملک میں ’مستحکم‘ حکومت کے قیام کے علاوہ کوئی ایسا انتظام دیکھنے میں آ سکتا ہے جس میں احتجاج اور ملکی نظام کو چیلنج کرنے کے پرانے طریقے بروئے کار نہیں لائے جا سکیں گے۔
گویا انتخابات اور عوام کے ووٹوں کے نام پر ایک ایسا انتظام مسلط کرنے کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے، جس میں آمرانہ ماحول جیسا سناٹا ہو گا اور آزادی اظہار اور جلسوں و ریلیوں کے ذریعے احتجاج نوٹ کروانے کے مسلمہ جمہوری طریقے بروئے کار لانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ سارا انتظام ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے کے نام پر کیا جائے گا لیکن ملکی تاریخ میں پہ تجربہ شاید پہلی مرتبہ ہو گا کہ جمہوری انتخاب کو ’آمرانہ ہتھکنڈوں‘ کا جواز بنا لیا جائے۔ اس سے پہلے انتخابات میں دھاندلی، انتخابات سے پہلے الیکٹ ایبلز اور چھوٹی پارٹیوں کے ذریعے کسی ایک سیاسی گروہ کی کامیابی یقینی بنانے کی کوششیں اور منتخب حکومت قائم ہو جانے کے بعد اسے دباؤ میں رکھنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے اختیار کیے جاتے رہے ہیں۔ جیسا کہ عمران خان نے حال ہی میں ایک میڈیا بات چیت میں اعتراف کیا ہے کہ 2018 میں حکومت بنانے کے بعد تحریک انصاف کی حکومت کو مسلسل سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دباؤ کا سامنا رہا اور وہ خود مختاری سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عمران خان کی حکومت فوجی اثر و رسوخ کے بغیر پارلیمنٹ میں کوئی قانون سازی کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھی۔
البتہ 2024 کے انتخابات کے رونما ہونے والی صورت حال شاید 2018 کے بعد سامنے آنے والے سیاسی حالات سے مختلف ہوگی۔ اب یہ بات تو خود تحریک انصاف کے لیڈر بھی مان چکے ہیں کہ انہوں نے عسکری قیادت کے ساتھ مل کر حکومت قائم کی تھی ورنہ یک و تنہا تحریک انصاف انتخابات میں بڑی پارٹی بن کر سامنے نہ آتی اور نہ ہی چھوٹی پارٹیاں اور آزاد ارکان پارلیمانی اکثریت کے لیے اس کی حمایت میں ہاتھ کھڑا کرتے۔ 2024 میں ممکنہ طور پر جو تجربہ کیا جائے گا، اس کے نتیجے میں ایک پارٹی ایسی بھاری اکثریت سے کامیاب ہو سکتی ہے کہ باقی سب پارٹیاں چھوٹی دکھائی دیں اور سیاسی لحاظ سے بے اثر ہوجائیں۔ غالباً یہ سوچ قوی ہو رہی ہے کہ یہ اکثریت اس قدر زیادہ ہو کہ ایک پارٹی یا ’ہم خیال پارٹیوں کے اتحاد‘ کے پاس قومی اسمبلی میں اتنی بھاری اکثریت ہو کہ وہ مناسب آئینی ترامیم کرنے کے بھی قابل ہو۔ یہ طریقہ شاید ملک میں جمہوری روایت مستحکم کرنے کے لیے تو استعمال نہ ہو سکے لیکن یہ طاقت جمہوریت کا گلا گھونٹنے اور اعلیٰ عدلیہ کو ’غیر موثر‘ بنانے کے لیے ضرور استعمال ہو سکتی ہے۔
اس طریقہ کی حکمت اور عواقب پر غور کرنے سے پہلے یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ گزشتہ دہائی سے کچھ زیادہ مدت کے دوران میں ملکی نظام کے حوالے سے نہ تو سیاسی جماعتوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، نہ سپریم کورٹ خود کو محض قانونی معاملات تک محدود رکھتے ہوئے عدالتی وقار میں اضافہ کا سبب بنی اور نہ ہی عسکری قیادت نے ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے منتخب حکومتوں کو کسی حد تک آزادی سے کام کرنے کا موقع دیا۔ تحریک انصاف کی حکومت کے بارے میں تو اب عمران خان خود ہی اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ اس وقت کے آرمی چیف کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی تھی۔ اس سے پہلے 2008 اور 2013 میں بالترتیب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قائم ہونے والی حکومتوں کے خلاف ہونے والی سازشیں اور ریشہ دوانیاں اب قومی حافظے کا حصہ ہیں۔
ماضی قریب کے سیاسی واقعات کا احاطہ کرتے ہوئے آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ملک میں طاقت کے سب مراکز یعنی سیاسی پارٹیوں، عدلیہ اور فوج نے اس رسہ کشی میں حصہ ڈالتے ہوئے ’قومی مفاد‘ کو محض اپنی مخصوص عینک سے دیکھا اور یوں ایک طرف ملکی سیاسی نظام کمزور ہوا بلکہ انارکی کا شکار رہا تو دوسری طرف آئین و قانون کی بالادستی کے نام پر یکے بعد دیگرے دو وزرائے اعظم کو نا اہل کیا گیا اور سپریم کورٹ نے ضرورت پڑنے پر آئین کی من چاہی تشریح کی۔ اور ایسے فیصلے مسلط کیے گئے جن سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا اور ملکی معیشت مسلسل زیر بار ہوتی رہی۔ آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے قرضے ہر بار ’بحران‘ سے نکلنے کا وسیلہ بنے لیکن سیاسی طوائف الملوکی کی وجہ سے چونکہ معاشی منصوبہ بندی نہیں ہو سکی اور کوئی غیر مقبول فیصلہ نافذ نہیں کیا جا سکا، اس لیے ملکی معیشت محض قرضوں کی محتاج ہو کر رہ گئی۔
پیداوار میں مسلسل کمی، حکومتی آمدنی میں اضافہ کی ہر کوشش بے سود اور قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ میں اضافے نے ملک کو اس انتہا تک پہنچا دیا کہ یہ مباحث دیکھنے میں آنے لگے کہ ملک حقیقی طور سے دیوالیہ ہو چکا ہے لیکن اس کا اعلان نہیں کیا جاتا۔ اور کہیں سے یہ آواز سنائی دیتی کہ شاید غیر ملکی قرضوں سے نجات حاصل کرنے کا ایک ہی ذریعہ بچا ہے کہ ملک دیوالیہ ہو جائے اور بیرونی قرض واپس کرنے سے انکار کر دیا جائے۔ غنیمت جاننا چاہیے کہ کسی بزرجمہر نے ایسا قدم اٹھانے کی شعوری کوشش نہیں کی اور مانگ تانگ کر ہی سہی کسی بھی طرح ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا جاتا رہا۔ البتہ معاشی لحاظ سے صورت حال اس حد تک دگرگوں ہو چکی ہے کہ مضبوط حکومت کے قیام اور سیاسی استحکام کے بغیر معاشی بحالی کا کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہو سکتا۔ کوئی عالمی ادارہ کسی ایسی حکومت کے ساتھ معاہدہ نہیں کرے گا جس کے بارے میں مسلسل خطرہ لاحق رہے کہ اسے فوج نہیں ہٹائے گی تو سپریم کورٹ فارغ کردے گی۔ اور اگر یہ دونوں ضبط سے کام لیتے ہیں تو سڑکوں پر احتجاج کی صورت حال بے یقینی میں اضافہ کرے گی اور حکومت با اختیار ہونے کے باوجود بے بس ہوگی۔
اسی پس منظر میں عام انتخابات کے بعد اب کوئی ایسا ’بڑا‘ ہونے کا اندیشہ شدت سے محسوس کیا جاسکتا ہے جس میں مستقبل کی حکومت پر عالمی اعتماد و بھروسا قائم کروایا جا سکے۔ اس انتظام میں صرف اس ایک نکتے پر غور کیا جا رہا ہے کہ اسلام آباد میں ’مستحکم اور طاقت ور‘ حکومت قائم ہو، اور سیاسی احتجاج کے نام پر ہنگامہ آرائی سے نجات مل جائے تو دوست ممالک سے سرمایہ کاری کا انتظام ہو سکتا ہے جس سے ایک بار پھر ملکی معیشت کا پہیہ چلنے لگے گا۔ اسی صورت میں ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور پرسکون ماحول ہی کی وجہ سے قومی پیداوار بڑھے گی اور مالی ادارے مستحکم ہو سکیں گے۔ پیداوار بڑھنے سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو گا جو وہ قرض اتارنے کے علاوہ عوامی بہبود کے لیے صرف کرسکے گی۔
یوں لگتا ہے کہ ایسی ’مضبوط و مستحکم‘ حکومت قائم کرنے کے لیے صرف تحریک انصاف ہی کے بارے میں شبہات موجود نہیں ہیں بلکہ ووٹروں پر بھی مکمل اعتبار کرنے میں ’خطرہ‘ محسوس کیا جا رہا ہے۔ ایک تو یہ اندازہ ہے کہ اگر شفاف انتخاب ہو گئے تو شاید معلق پارلیمنٹ وجود میں آئے گی اور قومی اسمبلی میں روزانہ کی بنیاد پر جوتوں میں دال بٹا کرے گی۔ یوں بھی ملک میں شفاف انتخابات کی بات تو بڑے دعوے سے کی جاتی ہے لیکن نہ تو سیاسی قیادت ایسی ذمہ داری و اصول پرستی کا مظاہرہ کر سکی ہے کہ مسلمہ اصطلاح میں منصفانہ انتخابات کا ’خطرہ‘ مول لیا جائے۔ اور نہ ہی ماضی میں منعقد ہونے والے واحد آزادانہ و شفاف انتخابات کا تجربہ خوشگوار ثابت ہوا تھا۔ 1970 میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ ان میں ریاستی اداروں نے کوئی مداخلت نہیں کی تھی۔ البتہ ان کے نتیجے میں عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کر کے اقتدار پر قبضہ کا حق مانگا تو اسے ناجائز مطالبہ سمجھ لیا گیا۔ حتی کہ ملک تقسیم ہو گیا اور اپنی اپنی حکومت قائم کرلی گئی۔ یقین کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں فیصلہ ساز قوتیں ایسے ’شفاف انتخابات‘ کا اہتمام کرنے پر راضی نہیں ہوں گی۔
یہ بھی جائز و درست ہے کہ موجودہ سیاسی و معاشی مسائل پیدا کرنے میں سیاست دانوں اور عدلیہ کا بھی حصہ تھا لیکن سب سے اہم کردار اسٹبلشمنٹ یا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے الفاظ میں فوج کا تھا۔ اسے ستم ظریفی ہی کہا جائے گا کہ اس وقت معاملات طے کرنے میں سب سے اہم کردار فوج ہی کا مانا جا رہا ہے۔ انتخابات کے نتیجے میں جو محیر العقل نتیجہ سامنے آنے والا ہے، وہ فوج کی رضامندی و خواہش کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ البتہ یہ اہتمام کیا جا رہا ہے کہ اس کا ’سہرا عوام کے حق انتخاب‘ کے سر باندھا جائے۔ انتخابات کے نتیجہ میں ایسی مضبوط حکومت قائم ہو جائے جو معاشی ایمرجنسی کے نام پر بنیادی حقوق جیسی ’عیاشی‘ کو تسلیم کرنے سے انکار کرسکے۔ تاکہ معیشت کو پٹری پر ڈالا جا سکے۔ اس وقت یہ مانا جا رہا ہے کہ نواز شریف ہی شاید وہ واحد سیاسی لیڈر ہیں جو یہ معجزہ دکھا سکتے ہیں۔ اسی لیے ان کے لیے لاڈلا کا لفظ استعمال ہو رہا ہے اور انہیں مستقبل کا حکمران مانا جا رہا ہے۔
کچھ ہفتے پہلے تک یہ سیاسی نظریہ لانچ کرنے کی منظم کوشش کی جا چکی ہے کہ سب سیاسی پارٹیاں کسی معاشی پلیٹ فارم کر متفق ہوجائیں اور اہداف حاصل کرنے کے لیے، سیاسی اتفاق رائے کر لیا جائے۔ اور فروری کے انتخابات کے نتیجے میں قومی حکومت طرز کی کوئی ’مضبوط‘ حکومت قائم ہو جائے۔ اس میں سب پارٹیوں کو بقدر جثہ حصہ مل جائے گا اور قومی مسائل بھی حل ہوجائیں گے۔ تاہم بوجوہ یہ تجویز کوئی عملی صورت اختیار نہیں کر سکی۔ ملک میں سیاسی انتشار کی کیفیت میں یہ واضح ہو گیا کہ اگر کوئی اتحادی حکومت قائم ہو بھی گئی تو اپنے اپنے حصے کے سوال پر تو تکار جاری رہے گی۔
لگتا ہے کہ اب یہ امید دم توڑ چکی ہے کہ اور انتخابات کے بعد مضبوط و مستحکم حکومت کے لیے کسی ایسے متبادل پر کام ہو رہا ہے جس سے نواز شریف کے علاوہ سب سیاسی لیڈروں کو پریشانی لاحق ہے۔


