ان سردیوں سے کہہ دو کہیں دور جا بسیں
کہاں ہیں وہ دھوپ کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور سردیوں کو حرز جاں بنانے والے شاعر؟ کہاں ہیں، ماواں ٹھنڈیاں چھاواں، کا بیانیہ دینے والے اور، شا االلہ تینوں تتی ہوا نہ لگے، کی دعائیں دینے والے۔ نا جانے اقبال کا ادھر ڈوب کر ادھر نکلنے والا وہ خورشید کہاں روپوش ہے؟ یقیناً ان میں سے کچھ شعراء کنج مزار میں پاؤں پھیلا کر سو رہے ہوں گے تو باقی لحافوں میں دبکے پڑے ہوں گے۔ اس زمستاں کی سرد ناک سردی نے عام لوگوں کو چھٹی تو کیا، گیارہویں کا دودھ بھی یاد دلا کر شعراء کو بھی سردی کی بابت اپنے شعری نظریات سے یوٹرن لینے پر مجبور کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اڑنے والی سردی کی ہولناک و تاریخ ساز وعیدوں نے خاص و عام کے خوب ”تراہ“ نکالے رکھے اور آخر، شیر آ ہی گیا۔ ماضی میں آتشیں حسد و عشق میں جلے بھنے شعراء سرد اور برفاب موسم کو باعث راحت مانتے تھے۔ کبھی سرد ہوا یار کو یاد کرنے کا موجب بنتی تو کبھی سردی کی آمد پہ محبوب سے ملاقات کی بنتی کی جاتی۔ جبکہ گرمیوں کو کسی نے بھی لائق تحسین نہ جانا۔ دسمبر کے تو اتنے گن گائے گئے کہ وہ ناز سے اترانے لگا اور کچھ مدت کے لئے ٹھنڈا ہونا بھی چھوڑ دیا۔
نا معلوم جنوری کی شان میں کیوں نہ لکھا۔ غالباً نحیف و ناتواں شعراء کے دسمبر کے اندر ہی کام، بن، یا پھر تمام ہو جاتے ہوں گے۔ اب کے سال سرما میں خورشید کا نور ظہور بھی عید کا چاند ٹھہرا۔ اندھا دھند، دھند نے دھند میں تارے دکھا دیے۔ دیکھا جائے تو دن کو تارے نظر آنے والا محاورہ قصہ پارینہ ہوا اور اس بار تو رات کو بھی تارے نظر نہ آئے۔ ٹمپریچر نے اس حد تک کم ظرفی دکھائی کہ اپنی اوقات سے بھی زیادہ گر گیا۔
یوں مزید درجہ حرارت گرنے کے خوف سے عشاق بے چارے سرد آہیں بھرنے سے بھی معذور ہیں۔ عشق کو تپتے ہوئے صحرا سے تشبیہ دینے والے عشاق بھی جاڑے سے دانت بجانے لگے۔ گویا جانداروں پر کپکپاہٹ، دندناہٹ اور یخ یخاہٹ کا دور دورہ ہے۔ کھانسنا، چھینکنا اور کھنگھارنا تو اوڑھنا بچھونا ٹھہرا ہے جبکہ ناک کی نم ناک روانی اسے اس قدر خطر ناک بنائے ہوئے ہے کہ عاشق و معشوق سب، ناک، چھپائے پھرتے ہیں۔ شاعر چکرائے اور دسمبرائے ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔
اس سردی میں محبوباؤں کی خوش ادائی، خوش اندامی و خوش خرامی وغیرہ کا ستیا ناس ہو جاتا ہے مگر بصیرت و بصارت سے محروم شعرا ء پھر بھی ان سے چمٹنے کے در پے ہوتے ہیں۔ حالانکہ اس جاڑے میں عاشق و معشوق سب کی ہی قلفی جمی ہے۔ اکثر معشوق سردی میں نہانا دھونا ترک کر دیتے ہیں تو ان کے حسین گیسو چند مائیکرو آرگنز اور سکری کی آماجگاہ بن جاتے ہیں اور زلفوں کے ساتھ سکری اور جوئیں بھی سر سے گر کر شانوں سے اٹکتی رہتی ہیں۔
ہاتھ پاؤں کی انگلیاں chillblain کا شکار ہوتی ہیں تو سب ادائیں اور غزالی چالیں نو دو گیارہ ہوجاتی ہیں۔ حسینائیں ان انگلیوں سے ٹچ فون چلانے میں سخت دقت محسوس کرتی ہیں۔ گلاب کی پنکھڑیوں جیسے لب کٹ پھٹ کر دھتورے جیسے ہو جاتے ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ سردیوں میں میر تقی میر محبوب سے باوجوہ مل نہیں پاتے ہوں گے ورنہ جنوری میں لب کی نازکی والا مبالغہ نہ کرتے۔ جب سردیوں میں جاڑے سے پالا پڑتا ہے تو انگاروں اور چائے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔
اسی واسطے چائے کو اشرف المشروبات کا مرتبہ حاصل ہے اور ان دو ماہ میں یہ مسکین قوم اربوں کی چائے نوش کرچکی ہے۔ انڈا اور لنڈا فروشوں کی تو گرانی کے موجب چاندی ہوئی ہے۔ لنڈا کی مہنگائی کے پیچھے بھی انگریزوں کی سازش کار فرما ہے جبکہ انڈے کی ہوشربا قیمتوں کی وجہ حکومت کی نا اہلی اور مرغیوں کا بڑھتا ہوا شعور ہے۔ یعنی اب مرغیوں کے شعور اور تحت الشعور پہ بھی کرپشن کا بھوت سوار ہو چکا ہے۔ ان سرد ناک موسمی سازشوں کے باعث ہمارے خطے کے سورماؤں میں عجیب و غریب ٹرانسجینڈرانہ تبدیلیاں رونما ہونے لگی ہیں۔
حدت جذبات کے پیکروں کے ہاں جذبات کی یخ بستگی نے عاشقی و مردانگی کو ہی مشکوک بنا دیا ہے۔ تات مان نقطہ انجماد کے لگ بھگ ہونے کے باعث جذبات تو حیات سہی پر جملہ انسانی اثاثے منجمد ہو جاتے ہیں۔ اس حال میں کتاب تنہائی کی ساتھی ہے نہ وصل ہجر کا درماں ہے بلکہ صرف رضائی مقصود اور اٹیچ باتھ مطلوب ہے۔ واش رومز کی آمدورفت کے سوا رومانس، بجلی گھر اور گیس سپلائی وغیرہ سب ٹھنڈ کا شکار ہیں۔ حتیٰ کہ ایسی شب یلدائی ٹھنڈ نے سبھی کوایک دوسرے کا ، رضائی بہن بھائی، بنا کے رکھ دیا ہے۔
یہ عقدہ بھی عیاں ہوا کہ کمبل کو چھوڑنے کے باوجود کمبل کیوں نہیں چھوڑا کرتا گویا شب زفاف کی جگہ شب لحاف نے لے لی ہے۔ آج کل نہانا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں اور احباب غسل جنابت کے لیے تیمم کے لئے شرعی رخصت کی خاطر معتدل علما سے رابطے میں ہیں۔ اور تو اور ان سرد ناکیوں میں انسان کے سب سے بڑے ساتھی انٹر نیٹ کے سگنلز کی قویٰ بھی مضمحل ہیں۔ البتہ جلنے والوں کو سردی کا احساس ضرور کم ہوتا ہو گا۔ مزید براں سردیوں میں گرمی کی اذیت سے بھی جاں چھوٹ جاتی ہے۔
اصل میں منطقہ معتدلہ میں واقع ہونے کے موجب وطن عزیز میں سارے موسم ہی اپنے اپنے رنگ جماتے ہیں۔ ان دنوں شمالی نصف کرہ میں سردی تو جنوبی نصف کرہ میں گرمی ہے۔ سرما میں اس خطے میں سورج دیوتا کی بے رخی کے باعث دھرتی ماتا سے فاصلے کافی بڑھ جاتے ہیں اور وہ شدید سرد مہری پر اتر آتا ہے۔ دن چھوٹے اور راتیں اتنی لمبی ہو جاتی ہیں کہ علم ریاضی کے دعویدار بھی، طول شب فراق، ناپنے سے قاصر دکھتے ہیں۔ ہم اس خطے کے باسی ہیں کہ ابھی ایک موسم کے مطابق بمشکل سنبھل پاتے ہیں کہ دوسرا ظالم خبر لینے آ دھمکتا ہے۔
گویا زندگی موسموں کو بھگتنے میں بیت جاتی ہے۔ البتہ کڑاکے کے یہ موسم نحیف و ضعیف لوگوں کے لیے عذابوں سے مکتی کا ذریعہ ضرور بنتے ہیں۔ ادھر علمائے حق تو یقیناً سردی کے اس عذاب کو بھی عریانی، فحاشی اور جینز کی شامت گردانیں گے پر ان سے پوچھو کہ جنت میں شراب، کباب اور شباب کی کثرت کے باوجود موسم بہار اور دوزخ میں گناہ نہ ہونے پر بھی آگ کیوں ہوگی۔ اسی لیے اک قائد نے صرف قبر میں سکون کی وعیدانہ نوید سنا رکھی تھی۔ کوئی انہیں بتلاؤ کہ بعد از مرگ بھی، زم حریر، کا عذاب منتظر ہے۔ جانے اب اس دلگداز اور سرد ناک زمستاں میں ابوالکلام آزاد اور عرش صدیقی ایسے، ثناء خوان تقدیس سرما، کہاں ہیں؟ عرش صدیقی ہوتے تو قوم سے معافی مانگ لیتے اور اب کچھ یوں لکھ جاتے،
اسے کہنا کہ اب مت بات کر نا۔ اسے کہنا زمستاں آ چکا ہے
اسے کہنا کہ آ اب بات کر لے۔ اسے کہنا زمستاں جا چکا ہے
میر درد تو یوں کہہ اٹھتے،
سردیاں ہیں یا کوئی طوفان ہے ہم تو اس جاڑے کے ہاتھوں مر چلے
اس یخ بستگی کے عالم میں اگر کوئی شاکر و شاداں ہیں تو وہ نونہالان و معماران قوم ہیں۔ کیونکہ ایسے نازک حالات میں انہیں گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ تاہم اس بار وہ بھی تعطیلات زم حریر میں مزید توسیع نہ ہونے پر دل برداشتہ رہے۔ حالانکہ انھوں نے سوشل میڈیا پر جنوری کے وسط میں جنوبی پنجاب تک شدید برفباری کی خبریں بھی پھیلا رکھی تھیں۔ مگر محسن نقوی، شفقت محمود سے خاصا سیانا نکلا۔ واضح رہے کہ جب سردی آتا ہے تو چھٹیاں ہوتا ہے۔ اور جب زیادہ سردی آتا ہے تو زیادہ چھٹیاں ہوجاتا ہے۔ اور وطن عزیز میں سب سے مرغوب چیز چھٹیاں ہی تو ہیں۔
کاش چھٹیاں رہیں پچاس برس
ہر برس کے ہوں دن، پچاس ہزار
سب کچھ بجا سہی مگر سردیوں کے عذاب سے مفر نہیں ہے۔ یہ موسمیاتی تبدیلیاں جانے ہمیں کہاں لے جائیں گی۔ کیونکہ ہم ہر آفت اور ہر مصیبت کے پیچھے کسی نہ کسی خفیہ ہاتھ پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ کہیں بھارت تو کہیں امریکہ کا ہاتھ تلاش کر ہی لیتے ہیں۔ کچھ نہ ملے اسٹیبلشمنٹ تو ہمہ وقت دستیاب ہے۔ لہٰذا بعید نہیں کہ، یہ جو اتنی سردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے، کا سراغ بھی مل جائے۔ المختصر سردی نے جینا دوبھر کر رکھا ہے اور ماضی کے شعراء اگر آج ہوتے تو سوچ سمجھ کر لکھتے۔ بہادر شاہ ظفر ہوتے تو ضرور کچھ یوں کہہ اٹھتے،
ان سردیوں سے کہہ دو کہیں دور جا بسیں
اتنی سکت کہاں ہے طبع ناتوان میں


