دھند پہ کمند
جو لاہور کا ہو جاتا ہے وہ پھر کسی اور کا نہیں ہو سکتا۔ لاہور کا باسی دنیا میں کہیں چلا جائے اس کا دل نہیں لگتا، اسے تو ہر وقت بس یہی فکر لگی رہتی کہ کب کوئی موقع بنے اور وہ کونجوں کی ڈار کی طرح اڈاریاں مارتا ہوا لاہور پہنچ جائے۔ کونج غالباً واحد پرندہ ہے جو اپنی زندگی میں صرف ایک بار ہی جوڑا بناتا ہے۔ دوسرے ساتھی کی جدائی کا غم وہ مرتے دم تک ساتھ لئے چلتا ہے یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ساتھی کی جدائی کا غم اسے موت تک پہنچا دیتا ہے۔ لاہور کے عاشق کا بھی ایسا ہی حال ہے، شہر لاہور اس کونج کے جوڑے کی طرح کا دوسرا ساتھی ہے۔ بظاہر تو وہ شخص دوسرے بدیسی ملکوں میں زندگی گزار رہا ہوتا لیکن اصل میں لاہور سے دوری کا غم اسے گزار رہا ہوتا۔
ایسی ہی سردیوں کی ایک شام تھی کہ جب دفتر کے ضروری کام کاج نپٹاتے ہوئے موبائل فون کی سکرین روشن ہوئی۔ دوسری طرف سے تیاری کا حکم صادر ہوا کہ کسی عزیز کو آخری سفر درپیش ہے، جلد از جلد پہنچنا ہے۔ لیکن دفتری کام کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ کام ادھورا بھی نہیں چھوڑا جا سکتا تھا اور پھر حکم (امر) تو کسی طور بھی نہیں ٹالا جا سکتا تھا۔ اپنی دانست میں سب کام جلدی سے سمیٹا اور ساتھ ہی ہیلپ لائن سے معلومات بھی لے لیں کہ دھند کا راج کہاں کہاں ملے گا۔ مزید تاخیر سے بچنے کے لئے دفتری حلیے میں ہی حاضر ہو گئے۔ حاضری کب حضوری میں بدل جائے، کون جانتا ہے۔ پہنچتے ہی عرض کی کہ سفر کے لئے تیار ہیں۔ جواب ملا جب ایفائے عہد کا وقت آ جائے تو جانا ہی ہوتا ہے۔ لہجے کی غمگینی اور رندھی آواز سے وہ شام کچھ زیادہ ہی اداس ہو گئی تھی۔
جونہی لاہور کا مضافاتی علاقہ شروع ہوا تو پنجاب کی سردیوں کے رنگ نظر آنا شروع ہوئے۔ دھند آہستہ آہستہ بڑھنے لگی، میدانی علاقے ہوں تو دھند کا راج اور بھی زور پکڑ لیتا ہے۔ جیسے جیسے دھند کثیف ہوتی جا رہی تھی ویسے ویسے گاڑی کی رفتار نحیف ہوتی جا رہی تھی۔ کئی جگہوں پہ حد نظر صفر تک بھی پہنچ جاتی رہی۔ دھند کی وجہ سے عمومی رفتار سے گاڑی چلانا مشکل ہو رہا تھا۔ پھر شاید قدرت کو ہمارے حال پہ ترس آ گیا۔ ایک گاڑی ساتھ سے گزری تو دیکھا کہ اس نے دھند میں دیکھنے لئے مخصوص لائٹس لگا رکھی ہیں اور اسی لئے وہ اس دھند میں بھی بہترین رفتار سے چل رہی ہے۔ رات کی تاریکی اور دھند کے اندھے پن سے بچنے کے لئے یہی نسخہ کارآمد لگا کہ اپنی گاڑی کو مناسب فاصلہ رکھ کے اس کے پیچھے پیچھے چلایا جائے۔
یہ فارمولا کامیاب رہا، نصف سے بھی زیادہ سفر اس گاڑی کی معیت میں طے کیا۔ حیران کن بات تھی کہ عام حالات میں وہ فاصلہ جتنے وقت میں طے ہوتا اس خراب موسم کے باوجود بھی وہ فاصلہ نسبتاً کم وقت میں طے ہو گیا۔ شاید دھند اور سردی کی وجہ سے ٹریفک کم تھا اور ہمیں مخصوص دھند کی لائٹس کی سہولت بھی حاصل ہو گئی تھی۔
آج کی بھاگم بھاگ زندگی میں بھی کبھی کبھار راستے ناپید نظر آنے لگتے ہیں، امکانات کم ہونے لگتے ہیں، باہر کے ساتھ ساتھ اندر کی سنسانی بھی بڑھنے لگتی ہے، جذبوں میں، رویوں میں حدت کم ہونے لگتی ہے، اپنی کاوشیں بے ثمر دکھائی دینے لگتی ہیں، احساسات و خیالات پہ نا معلوم سی دھند چھانے لگتی ہے تو یہی وہ وقت ہے جس میں صبر سے کام لیتے ہوئے اپنی توانائی کو ازسرنو اکٹھا کر کے کوئی ایسی ’خاص روشنی‘ ڈھونڈنی ہے جو راستوں کو واضح کر دے، دستیاب وسائل کا بہترین منظرنامہ دکھا دے اور ہمت و حوصلے کو ایسی جلا بخشے کہ ان مشکل حالات سے بآسانی نکل کر زندگی کی رونقیں پھر سے بحال کی جا سکیں۔
وہ روشنی اپنے ہی من کے اندر بھی ہو سکتی ہے اور کہیں گردونواح میں باہر بھی۔ ہر دو صورتوں میں لیکن اسے ڈھونڈنا ہی پڑے گا۔ ہر شخص اپنی فہم و ادراک کی مناسبت سے وہ روشنی پا سکتا ہے۔ روشنی کے منبع تک پہنچ سکتا ہے۔ اگر نامساعد حالات کے باعث خود سے تلاش کرنے کی سکت بھی باقی نہ رہی ہو تو اتنی کوشش ضرور کریں کہ جس کے پاس پہلے سے وہ روشنی دستیاب ہو اس کے پیچھے پیچھے چلا جائے، قوی امید ہے کہ منزل کی راہ کھوٹی نہیں ہوگی۔


