جرمنی: فاشسٹ جماعت کے خلاف مظاہرے، جرمن نیشنلٹی کے قانون میں ترامیم


جرمن قوم کی بدقسمتی کہ جرمن پارلیمان کے اندر، گزشتہ دو قانون سازی کے دورانیے (لیجسلیٹو) سے، نیو نازی نظریات کی حامل، چند فاشسٹ باشندوں کی نمائندگی کرتے ہوئے، اے ایف ڈی نامی جماعت، ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے۔ اس جماعت کے فاشسٹ ہونے کا ثبوت، انہوں نے گزشتہ نومبر میں ہونے والی ایک خفیہ میٹنگ میں خود مہیا کیا ہے۔ ویسے ایک عدالتی حکم کے مطابق اس جماعت کو ”فاشسٹ“ کہا جا سکتا ہے۔ اس خفیہ میٹنگ میں آسٹرین نژاد مارٹن سیلنر جیسے بہت سے دائیں بازو کے شدت پسند شرکاء کے علاوہ، جرمن پارلیمان میں حزب اختلاف سی ڈی۔ یو نامی جماعت کے دو ارکان بھی موجود تھے۔ میڈیا ہاؤس correctiv کی تحقیقاتی ٹیم کے مطابق اس میٹنگ میں داخلے کے لئے پانچ ہزار یورو کا عطیہ دینا مطلوب تھا۔ وہاں شرکاء نے ایک غیر انسانی ماسٹر پلان بنانے کا ایجنڈا پاس کیا جس کے مطابق جرمنی میں رہنے والے تمام غیر جرمن نژاد بشمول جرمن قومیت کے حامل غیر ملکیوں کو بھی remigration یعنی جرمنی سے نکالنا مقصود تھا۔

اس خفیہ میٹنگ کے فاشسٹ نظریات کے منظر عام پر آنے کے بعد ، جرمنی کے تمام جمہوریت پسند باشندے، لاکھوں کی تعداد میں، اے۔ ایف۔ ڈی کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں۔ کافی دنوں سے جرمنی کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں پر امن مظاہرے ہو رہے ہیں۔ 19 جنوری بروز جمعہ، جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں بہت بڑا مظاہرہ ہوا جس میں دس ہزار باشندے آنا تھے اور ایک لاکھ تیس ہزار لوگ شامل ہوئے۔ منتظمین کو، بغرض حفظ ما تقدم کہ کھلبلی نہ مچے، یہ مظاہرہ قبل از وقت ختم کرنا پڑا تھا۔

اس چوتھے کیلنڈر ویک میں بھی جرمنی کے تمام شہروں میں اے ایف۔ ڈی جماعت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ان مظاہروں میں، ”دودھ کا جلا چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے“ کے مصداق، لوگ اے ایف ڈی جماعت کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اور یہ کہ ہٹلر کی این ایس ڈی۔ اے۔ پی؛ نازی جماعت کے نظریات کی طرح نیو نازی اے۔ ایف۔ ڈی جماعت کو، کسی قیمت پر پذیرائی نہیں ملنی چاہیے۔ ان مظاہروں میں سہ جماعتی حکومتی راہنماؤں کے علاوہ زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ لوگ شامل ہو رہے ہیں۔ وفاقی وزیر محنت جناب ہیر ہائیل اور وفاقی تحفظ آئین ادارے کے صدر جناب ہیر ہالڈن وانگ نے کہا ہے کہ جرمن باشندوں کو، اپنی خامشی توڑ کر، اے ایف ڈی کے خلاف آواز بلند کرنا ہو گی۔

ان حالات کے پس منظر میں، کافی عرصہ سے پارلیمان میں، کھٹائی میں پڑے ہوئے جرمن قومیت میں ریفارمز کے قانون کو پارلیمان سے پاس کیا گیا ہے ۔ جو سینٹ (Bundesrat) سے گزرنے کے بعد باقاعدہ قانون بن جائے گا۔ اس قانون کے مطابق جرمنی میں رہنے والے غیر ملکیوں کو، آٹھ سال کی بجائے پانچ سال بعد جرمن قومیت حاصل ہو سکے گی۔ بلکہ جو غیر ملکی، جرمنی میں انضمام کی شرائط پر پورا اتریں گے ان کے لئے تین سال بعد بھی جرمن قومیت کا حصول ممکن ہو گا۔ مستقبل میں غیر ملکیوں کو اپنی اصلی اور وطنی قومیت چھوڑنا نہیں پڑے گی اور وہ دوہری شہریت کے حامل قرار پا سکتے ہیں۔

جرمن قومیت کے حصول کے لئے کچھ شرائط بھی ہیں مثلاً جو شخص ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کے حق میں ہو یا جرمنی کے بنیادی قانون کے مطابق مرد و زن کی برابری سے انکاری ہو، اسے قومیت نہیں ملے گی۔ مزید شرائط میں جرمنی کی لبرل بنیادی جمہوری ترتیب کو ماننا؛ یہود مخالف یا نسل پرستانہ اقدامات کی وجہ سے کسی واقعے کا ہونا؛ جرائم کا نہ ہونا اور اپنے نان نفقہ کی خود ذمہ داری اٹھانا یعنی جرمن حکومت سے کسی قسم کی سوشل مراعات نہ لینا، شامل ہیں۔

اس آخری شرط میں استثنائی طور پر مہمان ورکرز شامل ہیں جو 1990 سے پہلے سابقہ مشرقی جرمنی یا/اور 1974 تک سابقہ مغربی جرمنی میں آ چکے ہیں ؛ یا جو لوگ گزشتہ دو سالوں میں کم از کم بیس مہینے تک فل ٹائم جاب کر رہے ہیں یا فل ٹائم کام کرنے والے شادی شدہ جوڑے اور نابالغ بچوں والے غیر شادی شدہ جوڑے بھی شامل ہیں۔

اس قانون کے حق میں سہ جماعتی حکومتی ارکان کے 382 ووٹ، اور حزب اختلاف، سی ڈی یو اور اے ایف۔ ڈی جماعتوں کے مخالف 234 ووٹ پڑے، 23 آزاد اراکین نے اجتنابی ووٹ دیے جبکہ 97 نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔

جرمنی میں ترکش تنظیموں کے مطابق اگلے ایک۔ دو سالوں میں پچاس ہزار سے زیادہ ترک باشندے، جرمن قومیت کے لئے درخواستیں دے سکتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments