تحریک انصاف کے انتخابات منسوخ کرنے کے الیکشن کمیشن کے دوسرے آرڈر کی تفصیل


پس منظر

الیکشن کمیشن نے جب اپنے 23 نومبر، 2022 کے آرڈر میں پی ٹی آئی کے 10 جون، 2022 کو مبینہ طور پر کروائے گئے پارٹی انتخابات کو مختلف قانونی ضابطوں کی خلاف ورزی اور شکوک و شبہات کی بنیاد پر منسوخ کرتے ہوئے 20 دنوں کے اندر دوبارہ قانون اور پی ٹی آئی پارٹی آئین کے مطابق الیکشن کروانے کا حکم دیا تو تحریک انصاف نے 2 دسمبر، 2022 کو دوبارہ پارٹی انتخابات کروائے جس میں بیرسٹر گوہر علی خان پارٹی چیئرمین منتخب ہوئے۔

اس بار انتخابات سے متعلق کاغذات تو مقررہ وقت پر وضع کردہ قانونی طریقہ کار کے مطابق الیکشن کمیشن کو جمع کروا دیے گئے تھے لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پولیٹیکل فائنانس ونگ اور پی ٹی آئی کے ایک درجن سے زائد باغی ارکان جن میں بانی رکن اکبر اویس بابر سرفہرست تھے، کے اٹھائے گئے اعتراضات و سوالات نے دوبارہ پارٹی انتخابات منسوخ کروا دیے۔ ذیل میں اس سب کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے۔

کیس کے بنیادی حقائق و سوالات

الف: پی ٹی آئی پارٹی آئین کے آرٹیکل 6 ( 9 ) کے مطابق پارٹی انتخابات کروانے کے لئے ’پی ٹی آئی فیڈرل الیکشن کمیشن ”نامی ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو کہ چیف الیکشن کمیشن اور مختلف صوبوں سے لیے گئے چھ کمشنرز پر مشتمل ہو گا اور ان سب ارکان کے نام پارٹی آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت سیکٹری جنرل، پارٹی چیئرمین اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی منظوری کے بعد نیشنل کونسل سے وضع کردہ طریقے سے منظور کروائے گا۔

اب پارٹی آئین کے تحت منتخب ہونے والے پارٹی الیکشن کمشنر جمال اکبر انصاری تھے جنہوں نے 23 نومبر، 2023 کے منسوخ ہونے پارٹی الیکشن بھی کروائے تھے اور ان کے عہدے کی مدت باقی تھی، لیکن پارٹی آئین کے بر خلاف 2 دسمبر، 2022 کو پارٹی انتخابات نیاز اللہ نیازی نے بطور چیف الیکشن کمشنر کروائے۔ اس خلاف ورزی سے متعلق دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر درج ذیل حقائق الیکشن کمیشن کے سامنے آئے :

1: دوران کیس ایسی کوئی دستاویز سامنے نہیں آئی جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ آخری منتخب ہونے والے الیکشن کمشنر جمال اکبر انصاری نے یا تو استعفی دیا یا پارٹی آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت نیشنل کونسل نے اس کو عہدے سے ہٹایا ہو۔

2: پارٹی آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت مذکورہ الیکشن کمشنر کا نام پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیشنل کونسل سے منظور کرواتا ہے اور پارٹی آئین کے تحت سیکٹری جنرل اسد عمر تھے، لیکن نیاز اللہ نیازی (مبینہ پارٹی چیف الیکشن کمشنر) کی تقرری کے وقت نا صرف نیشنل کونسل اپنی میعاد ختم ہونے کی بنا پر غیر موجود تھی بلکہ ان کی تعیناتی عمر ایوب جس نے بطور سیکرٹری کی تھی، جبکہ خود عمر ایوب کی تقرری بطور سیکرٹری جنرل مجاز اتھارٹی کی جانب سے نہ ہوئی تھی یعنی قانونی نہ تھی۔

یاد رہے عمر ایوب کی تعیناتی گو کہ عمران خان نے 27 مئی، 2023 کو کی تھی لیکن پی ٹی آئی کا اپنا آئین جو 1 مئی، 2019 کو منظور کیا گیا تھا کے مطابق عمر ایوب کی بطور سیکرٹری جنرل تعیناتی صرف پارٹی چیف آرگنائزر کر سکتا تھا، لیکن چیف آرگنائزر کے عہدے پر کبھی کسی کو تعینات کیا ہی نہیں گیا تھا۔

3: پارٹی آئین کے مطابق پارٹی انتخابات کے انعقاد اکیلا چیف الیکشن کمشنر نہیں کروانے کا مجاز نہیں جب تک باقی چھ کمشنرز اور پورے الیکشن کمیشن نہ ہو اور سارا انتخابی عمل ان کے مشورے اور رضا سے ہونا ضروری ہے، لیکن دستیاب ریکارڈ کے مطابق 2 دسمبر کے پارٹی الیکشن کے لئے چیف الیکشن کمشنر نیاز اللہ کو اکیلے منتخب کیا گیا۔

4: پی ٹی آئی کے وکیل نے گو کہ اس بات کو تسلیم کیا کہ نیاز اللہ نیازی کو آرٹیکل 9 میں دیے گئے طریقہ کار کے تحت منتخب نہ کیا گیا لیکن انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کے ”پی ٹی آئی رولز“ کے رول نمبر 28 کے تحت سیکرٹری جنرل بوقت ضرورت چیف الیکشن کمشنر تعینات کر سکتا ہے، لیکن الیکشن کمیشن کے مطابق ایک تو خود سیکرٹری جنرل عمر ایوب کی تعیناتی پارٹی آئین کے مطابق نہ تھی، دوسرا کوئی رول، آئین یا قانون کی کسی شق میں دیے گئے واضح طریقہ کار پر فوقیت حاصل نہیں کر سکتا، اور پی ٹی آئی کے آئین میں چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے، نیا لگانے کے واضح طریقہ کار پر رول نمبر 28 کے طریقہ کار کو فوقیت نہیں دی جا سکتی، نہ ہی پارٹی آئین کے تحت ایسے کوئی رولز بنانے کا اختیار کسی اتھارٹی کو دیا گیا ہے۔

ب: اس کے علاوہ تحریک انصاف کے باغی ارکان کے مطابق پارٹی انتخابات خفیہ انداز میں، بنا کوئی اشتہار اخبار میں دیے یا پارٹی سیکرٹریٹ کے نوٹس بورڈ پر کوئی نوٹس لگائے اور ان کو کاغذات نامزدگی کی فراہمی کیے بغیر منعقد کیے گئے، جو کہ پارٹی آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے۔

یاد رہے کہ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 208 ( 2 ) کے تحت تمام پارٹی ممبرز کو پارٹی انتخابات میں حصہ لینے کی آزادی ہونی چاہیے۔

الیکشن کمیشن کا فیصلہ

مندرجہ بالا حقائق کی بنا پر الیکشن کمیشن نے یہ قرار دیا کہ تحریک انصاف 23 نومبر، 2023 کو الیکشن کمیشن کی طرف سے دیے گئے آرڈر پر عمل کرنے اور اپنے پارٹی انتخابات الیکشن کمیشن ایکٹ 2017 اور پارٹی آئین کے مطابق کروانے میں ناکام رہی ہے، اس لیے نہ صرف 2 دسمبر، 2023 کو تحریک انصاف کی طرف سے کروائے گئے انتخابات اور اس سے متعلق الیکشن کمیشن کو جمع کروائے گئے کاغذات مسترد کیے جاتے ہیں بلکہ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 215 ( 5 ) کے تحت اس کو انتخابی نشان لینے کے لیے بھی نا اہل قرار دیا جاتا ہے۔

اس آرڈر کو الیکشن کمیشن کے خیبر پختونخوا سے ممبر جسٹس ریٹائرڈ اکرام اللہ خان نے تحریر کیا ہے اور 2023 / (Case۔ No۔ 5 ( 1 یا 2002 / (Case۔ No۔ F 3 ( 10 تحت سرچ کیا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS