جمہوریت اور عمومی رویے
جمہوریت کے عشاق کا اک سیل رواں ہے، ملک میں جمہوریت کے بارے میں بزرگان جمہور کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ یہ جب جب پاؤں جمانے کی کوشش کرتی ہے اسے ہاتھ آئی دوشیزہ سمجھ کر اوباش فطرت طاقتور جب چاہتے ہیں کھیت میں گھسیٹ لے جاتے ہیں اور عصمت تار تار کر کے سڑک کنارے پھینک دیتے ہیں، جمہوریت جمہوریت کے شور نے وہ رن ڈالا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ جمہوریت کے نام پر روز اول سے جاری اقدامات پر نگاہ ڈالو تو ابکائی آنے لگتی ہے۔
یہ نہیں بتاتے کہ اس نے تو جنم لیتے ہی بلا کسی معقول وجہ اپنی ہی بنگالی اکثریت پر دس فیصد سے کم اقلیتی زبان ”اردو“ تھوپ ماری تھی، لیکن عقل اس وقت تک ٹھکانے نہیں لگی جب تک فساد برپا نہیں ہو گیا۔ بنگالی نژاد خواجہ ناظم الدین کی منکسر المزاجی اور اعلی ظرفی دیکھیے کہ صرف بلوے ٹالنے کے لیے اردو کو واحد قومی زبان قرار دینے کو تیار ہو گئے تھے۔
عاشقان جمہوریت یہ بھی نہیں بتاتے کہ وزیراعظم اول خان لیاقت علی خان سلطانی جمہور کے اتنے دلدادہ تھے کہ اپنا وہ حلقہ انتخاب جو سرے سے موجود ہی نہیں تھا ترتیب دینے کے لیے مقامی آبادی کی شماریات بدلنے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار رہے۔
نا ہی یہ بتاتے ہیں کہ عوام کی کثرت رائے نے ملک پر حکومت کرنے اور حزب اختلاف میں بیٹھنے کا جسے اختیار دیا تھا اس کے برعکس اکثریتی رائے کو کاٹ پھینکا اور حزب مخالف کو دوبارہ انتخابات کروا کر پاکستان کا اقتدار گلے لگا لینے سے نہیں روکا۔
جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کی ستم ظریفی دیکھیے کہ اکثریت پر جور و ستم کے خلاف اور حزب مخالف کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر سے صدر اور پھر وزیراعظم بننے سے روکنے کے لیے کبھی نعرہ حق بلند کیا ہو، صرف یہی نہیں بلکہ مجال ہے کہ ملک دولخت ہو جانے پر عوام سے رجوع کرنے کے لیے فوری طور پر دوبارہ انتخابات کے لیے ان جمہوریت کے دیوتاؤں نے کبھی چوں بھی کی ہو۔
کبھی خیال گزرا ہو کہ عوام کے جم غفیر کو اپنا حامی بتانے والے کو لاکھوں بنگالی بھائیوں کے قتل عام کے ذمہ دار المعروف ”بنگالیوں کا قصائی“ اور قتل عام کے چیف آرکیٹیکٹ کو کمانڈر انچیف، مشیر برائے ”امور قومی سلامتی“ کے فرائض کیوں سونپے گئے۔
مزدور ریلیوں پر گولیاں برسانے، حق طلب کرنے والے بلوچ بھائیوں پر بمبار طیاروں سے حملے، سیاسی مخالفین پر تشدد، نیپ پر پابندی، بائیں بازو کے سیاسی کارکنوں کو کچل دینے کے رویے کے خلاف کبھی آواز اٹھائی ہو، سردار عطا اللہ مینگل کے جواں سال بیٹے کو کراچی سے جبری گمشدہ کر کے قتل کر دیا جائے، 50 برس بیت جانے کے باوجود آج تک لاش نہ ملی ہو، ضیاء الحق اگر اتنا ہی طاقتور کمانڈر انچیف تھا کہ اسے ذمہ داروں کے خلاف اقدامات کا حکم جاری نہیں کیا جا سکتا تھا تو کیا وزرات عظمی سے استعفی بھی ممکن نہیں تھا؟ جمہوریت کی عطا دوربینی تو دیکھیے کہ ٹکا خان کو پنجاب کا گورنر اور آگے بڑھ کر پارٹی کا سیکرٹری جنرل مقرر کر دینے پر ان جمہوریت کا واویلا مچانے والوں نے کبھی ان اقدامات پر احتجاج ریکارڈ کروایا ہو، کیا یہی جمہوری رویہ ہے؟
استعفی دے کر دوبارہ انتخابات میں جانے کی جرات کرنے کے بجائے حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کو خفیہ رکھنے، این آر اوز پر تکیہ کرنے، خود آگے بڑھ کر جمہوریت کا حقیقی چیمپیئن ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس کو خدا حافظ کہہ کر عوام کو اپنے حق میں اکٹھا کرنے کے بجائے ملک کے ”کسی وزیراعظم کو میعاد پوری نہیں کرنے دی گئی“ کا ساز بجاتے رہنے کے شوق کی روایت البتہ رقص میں مصروف ملے گی۔
جمہوریت آمریت کی رد ہے، اسے اقتدار کے بلند ایوانوں کی فصیلوں کے پیچھے بیٹھ کر کیے جانے والے خفیہ فیصلوں سے شدید الرجی ہے، درپردہ مکالمہ سے وجود میں آنے والی جمہوریت ہائبرڈ یا دوغلی ہی رہے گی، اسے قاضی کی عدالت کی طرح شفاف اور شہریوں کی نگاہوں کے سامنے رہنے کی ضرورت ہے، جمہوریت کے علمبردار بے داغ ہوں گے تو کڑی نگرانی بھی کچھ نہیں بگاڑ پائے گی، نا ہی عدالت کو سو موٹو لینے کی ضرورت باقی رہے گی، بصورت دیگر جمہوریت اسی طرح ہائبرڈ یا دوغلی بھی رہے گی اور کھیتوں میں ایسے ہی عصمت لٹواتی رہے گی جیسے لٹواتی رہی ہے۔


