بلوچستان کا سوال اور اس کا حل کیا ہیں؟


منتخب حکومت کا قیام بس اب چند روز کی مسافت پر ہی رہ گیا ہے اور اس حکومت کو بلا مبالغہ جس سب سے بڑے چیلنج سے نبرد آزما ہونا ہے وہ تشویش ناک معاشی صورتحال ہے اور یہ حقیقت بھی مکمل طور پر واضح ہے کہ معاشی صورتحال، ترقی کے لئے بنیادی شرط امن و امان کی بہتر حالت ہے۔ جب تک وطن عزیز میں کسی بھی نوعیت کی دہشت گردی کا قلع قمع نہیں کر دیا جاتا اس وقت تک یہ گمان بھی کرنا کہ معاشی بہتری قائم کی جا سکتی ہے بس دیوانے کا خواب ہی ہو گا اور دہشت گردی کا جیسے ہی ذکر سامنے آتا ہے تو بلوچستان کا سوال سر فہرست دکھائی دیتا ہے۔ بد قسمتی کا امر یہ ہے کہ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جو آزادی کے بعد سے ہی بار بار سامنے آ کھڑا ہوتا ہے اور اس وقت سے آج تک اس کا ایسا حل تلاش نہیں کیا گیا کہ جو اس سوال کا مستقل بنیادوں پر جواب ہوتا۔

بلوچستان کا سوال کیا ہے؟ بلوچستان کا سوال یہ ہے کہ وہاں پر مستقل بنیادوں پر یہ تاثر موجود ہے کہ وہ پاکستان کی حکومت میں مشترکہ طور پر شامل نہیں ہے بلکہ ان کو، ان کی رائے کو پائمال کر دیا جاتا ہے اور اس پامال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بلوچستان کے معاشی حقوق سے اس کو محروم رکھا جائے اور ملک کی اشرافیہ ان وسائل سے اپنی ہوس کو پورا کرے اب یہ تاثر درست ہے یا غلط اس بحث کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ احساس موجود ہے اور اس کو دور کرنا قومی ذمہ داری ہے۔

جب یہ احساس محرومی پیدا ہوتا ہے تو اس کے کچھ منطقی نتائج سے بھی واسطہ پڑتا ہے بلوچستان یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر عبد النبی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ صوبے میں تعلیمی ترقی کا معیار تسلی بخش نہیں ہے اور انھیں صوبے کے نو جوانوں کا مستقبل تابناک نظر نہیں آتا ہے۔ نوجوانوں کے لئے نا تو تعلیمی ادارے ہیں اور نہ ہی استاد، اس کے باوجود بھی اگر کوئی نو جوان کسی نہ کسی طرح تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے لئے کوئی ملازمت نہیں ہے۔ بلوچستان کے نوجوان دوسرے صوبوں کے نو جوانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور یہ محرومی انہیں قوم پرست عسکریت پسند گروہوں کا حصہ بننے پر ابھار سکتی ہے۔

اور یہ ہی وہ وجوہات ہیں کہ جس کی وجہ سے بلوچستان کے تعلیمی یافتہ اور غیر تعلیمی یافتہ دونوں طبقات سے ایسے افراد ان عناصر کو حاصل ہو جاتے ہیں کہ جو صرف جذبات کا استعمال کرتے ہوئے ان کو مسلح کارروائیوں کی طرف راغب کر دیتے ہیں۔ قوم ملک مذہب کے نام پر مشتعل کرنا کسی حد تک آسان ہوتا ہے تاریخ کو اپنے زاویہ نظر سے پیش کیا جاتا ہے اور پھر صرف خون خرابہ مقدر بنتا ہے۔ اور اس میں مزید بد قسمتی کی بات یہ ہوتی ہے کہ کچھ افراد دانش ور بننے یا کہلانے کے شوق میں ان کا ساتھ دینا شروع کر دیتے ہیں اور ان کو مظلوم بنا کر پیش کر دیتے ہیں حالاں کہ اگر بلوچستان کی ترقی کے لئے کسی بھی نوعیت کی کوئی خواہش موجود ہے تو ان تمام طبقات سے کوسوں دور رہنا چاہیے جو کہ کسی بھی طرح کی دہشت گردی میں ملوث عناصر سے کوئی بھی تعلق رکھتے ہیں۔ اور ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرنی چاہیے کیوں کہ بلوچستان کے مسائل حل نہ ہونے کا سب سے بڑا سبب ہی یہ ہے کہ وہاں پر بار بار مسلح کارروائیاں شروع کردی جاتی ہے اور پھر ان دہشت گردی کے اقدامات کی وجہ سے یک طرفہ طور پر ریاست کو کارروائی کرنے سے بھلا کیسے روکا جا سکتا ہے؟

برطانوی نو آبادیاتی حکومت کے خاتمہ کے ساتھ ہی ریاستوں کے آئندہ کے معاملات طے کرنے کے انتہائی پیچیدہ مسائل سے سامنا کرنا پڑ گیا تھا مگر بلوچستان میں ان پیچیدہ مسائل کو طے کرنے کے لئے مسلح کارروائیوں کو بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا گیا۔ انیس سو اڑتالیس میں ہی شہزادہ عبد الکریم نے اپنے سات سو ساتھیوں سمیت افغانستان کی سرحد کو عبور کیا اور وہاں سے مسلح کارروائیوں کا آغاز کر دیا اور اس روز سے ہی ریاست بہت چوکنا ہو گئی کہ یہ معاملات کو کسی سیاسی زاویہ سے طے کرنے کی بجائے یہ حربہ بھی استعمال کر سکتے ہیں حالاں کہ پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے ایک خواب کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔

پھر اس کے بعد ایک مسلسل تاریخ ہے جس میں بلوچستان یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر صفدر کیانی، بلوچستان ریزیڈنشل کالج کے وائس پرنسپل خالد محمود بٹ، گورنمنٹ کامرس کالج کوئٹہ کے پروفیسر امانت علی، گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری اسکول مستونگ کے جاوید احمد لودھی سمیت مقتولین کی ایک بڑی تعداد ہے کہ جن کا واحد قصور کسی دوسرے صوبے سے ہونا تھا۔ مسنگ پرسنز تو کتنے ہیں اور کتنے خود کو مسنگ پرسن ثابت کر کے دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور خود ساختہ ”دانش ور“ صاحبان ان کے دکھ میں غلطاں ہوئے جا رہے ہیں مگر ان اساتذہ سے لے کر دیگر افراد کے قتل کے ذکر پر سانپ سونگھ جاتا ہے۔

نئی منتخب حکومت کے سامنے یہ ہی پہاڑ جیسے مسائل کھڑے ہوں گے اور ان تمام مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ پاکستان میں آئین کی مکمل طور پر عمل داری ہو اور یہ تصور مضبوط کیا جائے کہ ملک میں کچھ بھی آئین کے بر خلاف نہیں ہو سکتا ہے اس ہی راستے سے بلوچستان میں مشترکہ حاکمیت کا تصور قائم کیا جا سکتا ہے اور ریاست پر مشترکہ ملکیت کا احساس جا گزین ہو سکتا ہے۔ اگر مستقبل میں بھی حکومت سازش کا ہی شکار ہوتی رہی تو اس کے سب سے زیادہ ذہنی اثرات بلوچستان پر ہی پڑیں گے اور دہشت گرد، ان کے حامیوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا رہے گا۔

Facebook Comments HS