ستتر سالہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس
سیلانی میرا دوست ہے، لنگوٹیا یار ہے۔ آپ یوں سمجھیں کہ میرا ہمزاد ہے۔ مجھے تنگ کرتا رہتا ہے، اتنا کہ میں اکثر ان کا سامنا کرنے سے کتراتا ہوں کیونکہ وہ بات کو ایسے پکڑتا ہے جیسے کوئی ہوا میں اڑتے ہوئے پرندے کو پکڑے۔ آپ یقین کریں ایسا ہی ہے اور سیلانی پھر اس بات کو کمال مہارت سے ایسا پلٹا دیتا ہے کہ ہم جس کو اڑتا ہوا پرندہ سمجھ رہے تھے وہ تو منے کا کھلونا بن کر اس کے ہاتھ میں بے سدھ پڑا ہے یا پھر یہ بے جان کھلونا پرندہ بن کر آسمان کی وسعتوں میں اڑان بھر رہا ہے۔ مثلاً ایک دن ہم محلے کی رہائشی سرکاری دفتر کے چپراسی کی غیر ذمہ دارانہ روئیے کی بات کر رہے تھے تو سیلانی نے کہا :
” چپراسی کا گھر تو سمجھو ہمارے محلے کا وائٹ ہاوٴس ہے اور چپراسی صدر امریکہ سے کم نہیں۔ اب تو تقریباً ہر محلے بلکہ ہر گھر میں وائٹ ہاوٴس یا صدر امریکہ بستا ہے۔ ہمارے چپراسی کا کوئی قصور نہیں۔ آپ یوں سمجھئیے کہ صدر امریکہ کا دنیا کی جانب اکڑ پنا اور غیر ذمہ دارانہ رویہ اب ہر گھر میں نمایاں ہے۔ یہی تو ہیں ذرائع ابلاغ میں دھماکہ خیز انقلاب کے فیوض و برکات۔“
اب کی بار یونیورسٹی کا ایک طالب علم سکول کے دو طلبہ سے جدید ٹیکنالوجی میں نت نئے دریافتوں اور روزمرہ ترقی پر اپنی معلومات کی دھاک بٹھانے کی کوشش کر رہا تھا اور تفصیل سے بتا رہا تھا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں بہت تیزرفتار ترقی آئی ہے۔ اب یہ زندگی کے ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہے اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت نے یہ ترقی پچھلے محض چند سالوں میں کی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی معجزانہ کمالات کے بارے میں جان کر سکول کے طلبہ سمیت میں بھی حیرت زدہ تھا بلکہ میں تو جیسے کسی اجنبی، طلسماتی اور کرشماتی دنیا میں کھو چکا تھا۔ اندر ہی اندر آئندہ زندگی کے بارے میں اک گہری خوف و حیرت میں مبتلا ہو چکا تھا۔ ایک دم سے سیلانی کی آواز سنائی دی۔ میرے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے سب سے پوچھا:
کیوں بھائی کوئی نادر و نایاب گتھی دماغ میں الجھ گئی ہے جو ایسے دیدے پھاڑ کر طالب علم کے چہرے کو ٹٹول رہے ہیں؟
ہماری جانب سے جواب نہ پاکر اس نے خود بتایا کہ وہ یونیورسٹی کے طالب علم کی ساری باتیں سن چکا ہے اور یہ کہ حاضرین کی بے وجہ حیرت اور خوف کو بھی دیکھ رہا ہے۔
میں نے کہا:
بے وجہ حیرت اور بے وجہ خوف؟
اس نے کہا:
جی ہاں بے وجہ خوف اور حیرت۔ ( مجھے گھورتے ہوئے ) آپ کو تو دہشت نے دبوچ لیا ہے حالانکہ ایسی حالت تو سکول کے طلبہ اور دیگر کم عمر لوگوں کی ہونی چاہیے، تم جیسے ادھیڑ عمر اور بڑے عمر کی دیگر شہریوں کی نہیں۔ کیا تم اس ملک کی تاریخ سے ناواقف ہو؟ کیا تم نے یہاں کی روایات و رسوم نہیں بھگتے ہیں؟ کیا تم روز یہاں کے لوگوں اور حکمرانوں کے بارے میں بحث نہیں کرتے؟ کیا تیری لائبریری میں ان تمام بیانیوں کی موٹی موٹی اور بیش قیمت کاغذ پر سرکاری و غیرسرکاری مطبع خانوں سے چھپی کتابیں دیگر کتابوں اور تیرے دماغ پر سایہ فگن نہیں ہیں جو اس ملک کی ابتدا سے اب تک مسلسل لازمی مضامین کا درجہ پاتی رہی ہیں؟ ان سب کے باوجود اگر کوئی اس بات سے حیرت زدہ ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت محض پچھلے چند برسوں کی کتھا ہے تو وہ اس ملک و معاشرے کا باشندہ نہیں ہو سکتا ۔
یہ سنتے ہوئے میری تو آنکھیں سکڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں لیکن میں نے دیکھا کہ یونیورسٹی کے طالبعلم کا چہرہ چھوٹا اور اس پر دھرا سوالیہ نشان اس سے بڑا ہو گیا تھا۔ سیلانی عموماً دوچار جملوں سے میرا کام تمام کر دیتا ہے لیکن آج اس کے پاس الفاظ کی گٹھڑی معمول سے زیادہ پھولی ہوئی لگ رہی تھی۔ مجھے لگا کہ ہمارے لفظ اگر رینگ رہے تھے تو گٹھڑی سے جنم لیتے لفظ اڑان بھر رہے تھے :
کسی کو اگر ملک کی تاریخ سے امتحانی پرچے کی کامیابی کی غرض جتنی دلچسپی بھی ہو یا پھر اپنے ملک کی اشرافیہ کی کرامات کے بارے میں معمولی نوعیت کی آگاہی بھی ہو تو اس کو پتہ ہے کہ جس ذہانت مصنوعی کی ساری دنیا میں ڈنکا بج رہا ہے یا جس کے بارے میں ہمارے تعلیمی ادارے ستر سالہ بڑھیا کی مانند پوتیوں کی فرمائش پر ڈھولکی سے ڈب ڈوب کی جگہ تڑت تڑوت نکال رہی ہیں یہ ذہنیت تقسیم ہندوستان کے ساتھ ہی پنپنی شروع ہو گئی تھی۔
اس وقت جب ہم اس کی آبیاری پر تن من دھن سے دے دنا دن کارکردگی دکھا رہے تھے باقی دنیا اس جانب سے سات خرگوشوں کی خواب غفلت میں خراٹے لے رہی تھی۔ ابھی تو اس سے بھی زیادہ قابل رحم حالت میں ہے دنیا۔ یعنی کہ اب تو ستر خرگوشوں کی خواب غفلت میں پڑی ہے۔ دو چار اور ممالک بھی بھیڑ چال کی راہ روی کی مرہون منت ہماری جیسی ہوں گی لیکن مصنوعی ذہانت و ذہنیت کے سرخیل ہم ہی ہیں اور الحمد للہ اس میں ہمارے اشراف کی کاوشیں ہماری آج کی قومی ذہانت و مرتبہ کی بین ثبوت ہیں۔
ہمارے قومی، سیاسی اور مذہبی آدرش، اس کے بیانیے اور اس جستجو کے نتائج ملک کے اندر کی دنیا اور اس کے لوگوں کو ششدر کر رہی ہیں۔ ہمیں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی کرامات سے مسحور کرنے والوں کو لگ پتہ جانا چاہیے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں مصنوعی ذہانت پیدا کرنے اور نتائج کی پروا کیے بغیر اسے بام معراج پر لٹکانے میں ہم کم ازکم ستتر سال دنیا کی دیگر اور بیشتر قوموں سے مقدم ہیں۔
بھائی ہمیں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی ترقی سے حیرت زدہ یا خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ ہمیں دنیا کی عقل پر بلکہ ان کی اس بے عقلی پر ماتم کرنا چاہیے جو سمجھتی ہے کہ ہمارے آدرش، ہماری سیاست، ہمارے قومی مذہبی و سیاسی بیانیے اتنی زبردست مصنوعی ذہانت کے حامل قرار پاتے ۂیں کہ اس کی مثال کی تلاش ناممکنات میں سے ہے۔ وہ حیرت زدہ ہیں کہ اس میدان میں اس قوم کی معجزوں کا پس منظر کیا ہے۔ کم لوگ ہی جانتے ہیں کہ ہمیں ستتر سال لگے ہیں ناقابل تسخیر مصنوعی ذہنیت کو پروان چڑھانے اور زندگی کے ہر ہر شعبہ میں اس کی شعبدہ بازی کو کمال و تمام تک پہنچانے میں۔
میں نے سیلانی کو روکا اور کہا:
تمہاری باتیں ہمیشہ کی طرح مجھے تنگ کر رہی ہیں۔ سچ کیا ہے؟ چلو مان لیا کہ اس میدان میں ہم بہت آگے ہیں اور ہماری جستجو کی اتنی لمبی تاریخ بھی ہے لیکن کوئی ثبوت بھی تو ہو کہ دنیا کے سامنے پیش کرسکیں؟
ایسے سوال پر سیلانی ایسے مسکراتا ہے جیسے رو رہا ہو، جیسے خالی شکم سے بھرے پیٹ کی جیسی ڈکار نکالنے کی کوشش کر رہا ہو یا جیسے شکست خوردہ سپاہی سیہ تان کر چلنے کی صلاحیت ڈھونڈھ رہا ہو۔ نظریں فرش میں گاڑتے ہوئے کہنے لگا:
ثبوت؟ ستتر سال پہلے کا اخبار اٹھا لیں اس میں مصنوعی ذہانت کے خیال پر مبنی جو شہ سرخی جمائی گئی تھی کیا وہ پچھلے ستتر سال میں ہر سال کی اسی دن کے اخبار کی شہ سرخی نہیں؟ کیا ملک کے ابتدا سے لے کر اب تک ہر قومی اور ادارہ جاتی حقیقی بحران کو مصنوعی ذہن سے مصنوعی مداوا کر کے کامیابی کا اعلان نہیں کیا گیا؟ کیا ہم وہ قوم نہیں جو صرف مصنوعی ذہانت کے بل بوتے پر ثابت کر سکتے ہیں کہ ہم ایک قوم تھے، ہیں اور اسی طرح آئندہ بھی پائندہ باد رہیں گے؟
کیا ہم ملک کی پوری تاریخ میں مصنوعی ذہنیت کے شاندار اور جاندار اقدامات کی بنیاد پر حقیقی جمہوریت، حقیقی فلاح اور حقیقی عوامی شمولیت کی لوگوں کی حقیقی منشا کو زمین دوز کرنے میں قابل بھروسا حد تک سرفراز نہیں ہوئے؟ آج بھی ملکی ادارے، رہنما، اساتذہ، دانشور اور مذہبی، سیاسی، علاقائی جماعتیں اور گروپس حتیٰ کہ عوام بھی مصنوعی ذہانت کے جوہر سے اتنے مالا مال ہیں کہ حقیقت اور سچ کے بارے میں سوچنے سے بھی ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
کیا یہ نظرانداز کرنے والی فتح ہے؟ بالکل نہیں۔ دنیا بھلے مصنوعی ذہانت سے حقیقی مقاصد تک پہنچنے کی بیوقوفانہ اور محدود جستجو پر اپنا دماغ اور سرمایہ ضائع کرتی رہے۔ مصنوعی ذہانت کو بھلے ان امور تک رسائی دینے کی کوشش کرے جہاں انسان کی استعداد کی رسائی ناممکن ہو لیکن ہم اپنے عزم و اقرار کے دھنی ہیں قوم کی ستتر سالہ جدوجہد کے نتیجے میں دنیا کی واحد مصنوعی ذہانت کی تراشیدہ قوم کو اپنی اس جوہر بے پایاں سے کسی قیمت پر محروم نہیں ہونے دیں گے۔ تاریخ تاقیامت یاد رکھے گی کہ کم ازکم 2024 تک دنیا کی واحد ستتر سالہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس قوم کا اعزاز پاکستانی قوم کو حاصل ہے۔


