پشتون ترقی پسند اور جمہوری دانش کو درپیش فوری خطرات

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو یہی نظر آتا ہے کہ ترقی پسند اور جمہوری آدرش کے قیام کے لیے پشتون معاشرے کی اکثریت نے مفاد پرست سیاستدانوں اور بیرونی قوتوں پر جب جب انحصار کیا تو ان کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ترقی اور جمہوریت پسند سوچ کے حامل پشتونوں نے، جو ہر دور…

Read more

ترقی پسند دانش کی پشتون روایت

تاریخی لحاظ سے پشتون معاشرے میں ترقی پسند دانش کا بھرپور ظہور بایزید روشان، کے دور سے ہوتا ہے، جسے پشتون معاشرے میں پیر روشان کے نام سے پہچانا جاتا ہے، جب باقاعدہ طور پر ایک روایتی ملا اور ایک جدیدیت اور قومیت کا ادراک رکھنے والے دانشور اور ان دونوں کے حامیوں کے درمیان…

Read more

مادری زبانیں اور ادبی میلے

گذشتہ چند سالوں سے ادبی میلے منعقد کرنے کا رواج چل پڑا ہے جس نے نا صرف ادبی کانفرنسوں اور سیمیناروں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے مدہم کردیا ہے بلکہ موضوعات کے بجائے شخصیات کو توجہ کا مرکز بنایا ہے۔ ان میلوں میں ہلہ گلہ کے علاوہ ان لوگوں کو زیادہ نمایاں کیا ہے جو فی البدیہہ بولنے میں مہارت رکھتے ہیں اور عمومی طور پر ان محفلوں میں مواد کے بجائے اندازبیاں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔گزشتہ تین سالوں کی طرح اس سال بھی انڈس کلچرل فورم کے زیر اہتمام لوک ورثہ اور دیگر غیر سرکاری ترقیاتی تیظیموں کے تعاون سے مادری زبانوں کا میلہ 16 اور 17 فروری 2019 کو اسلام آباد میں منعقد کیا گیا۔ اسی طرح پچھلے دو ہفتوں کے دوراں لاہور ادبی میلہ اور کراچی ادبی میلہ بھی برپا کیا گیا۔مادری زبانوں کے میلے اور دیگر میلوں میں نمایان فرق ایک تو زبانوں کی نمائندگی کا ہے کہ مادری زبانوں کے میلے میں پندرہ کے لگ بھگ زبانوں کی نمائندگی ہوتی ہے اوردیگر میلوں میں دو یا تین زبانوں سے زیادہ کو موقع نہیں ملتا۔ ایک فرق یہ بھی ہے کہ مادری زبانوں کے میلے میں مواد زیادہ اور بہتر ہوتا ہے۔ اس سال کے میلے میں بیس سے زیادہ مختلف زبانوں کی کتابوں کا اجرا کیا گیا۔ موضوعات کی تنوع بھی ایک اہم خصوصیت کے طور پر اس میلے میں سامنے آیا ہے۔

Read more