کردار جنبش اور حصۂ ہوش

زندگی کا یہ دور جس میں ہم جی رہے ہیں اس کو میں کوئی اچھا دور نہیں کہہ پاتا اور نہ اپنے سے پہلے دور کو کوئی ممتاز حیثیت دے سکتا ہوں۔ ہمارے اجداد نے جو حالات چھوڑے اسی کے جھمیلوں میں ہم بھی گول دائرے میں چکراتے چکراتے گنجلک دائروں کو سمجھنے اور اس کے چکروں سے نکلنے کی رہنمائی ڈھونڈتے رہے لیکن چہرے پر جھریوں اور بالوں میں سفیدی کی کثرت نے یاد دلایا کہ کولہو کے بیل

Read more

ستتر سالہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس

سیلانی میرا دوست ہے، لنگوٹیا یار ہے۔ آپ یوں سمجھیں کہ میرا ہمزاد ہے۔ مجھے تنگ کرتا رہتا ہے، اتنا کہ میں اکثر ان کا سامنا کرنے سے کتراتا ہوں کیونکہ وہ بات کو ایسے پکڑتا ہے جیسے کوئی ہوا میں اڑتے ہوئے پرندے کو پکڑے۔ آپ یقین کریں ایسا ہی ہے اور سیلانی پھر اس بات کو کمال مہارت سے ایسا پلٹا دیتا ہے کہ ہم جس کو اڑتا ہوا پرندہ سمجھ رہے تھے وہ تو منے کا کھلونا

Read more

پشتون ترقی پسند اور جمہوری دانش کو درپیش فوری خطرات

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو یہی نظر آتا ہے کہ ترقی پسند اور جمہوری آدرش کے قیام کے لیے پشتون معاشرے کی اکثریت نے مفاد پرست سیاستدانوں اور بیرونی قوتوں پر جب جب انحصار کیا تو ان کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ترقی اور جمہوریت پسند سوچ کے حامل پشتونوں نے، جو ہر دور میں اکثریتی طبقہ رہا ہے، ہر اس آواز پر لبیک کہا جس میں مکمل نہ سہی تھوڑی سی بھی انسان دوستی، جمہوریت پسندی اور معاشرتی

Read more

ترقی پسند دانش کی پشتون روایت

تاریخی لحاظ سے پشتون معاشرے میں ترقی پسند دانش کا بھرپور ظہور بایزید روشان، کے دور سے ہوتا ہے، جسے پشتون معاشرے میں پیر روشان کے نام سے پہچانا جاتا ہے، جب باقاعدہ طور پر ایک روایتی ملا اور ایک جدیدیت اور قومیت کا ادراک رکھنے والے دانشور اور ان دونوں کے حامیوں کے درمیان باقاعدہ علمی اور سیاسی بحث اور جدوجہد شروع ہو جاتا ہے۔ ملا درویزہ دین کے بارے میں مروج روایتی انسانی فکر اور پشتون معاشرت کی

Read more

مادری زبانیں اور ادبی میلے

گذشتہ چند سالوں سے ادبی میلے منعقد کرنے کا رواج چل پڑا ہے جس نے نا صرف ادبی کانفرنسوں اور سیمیناروں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے مدہم کردیا ہے بلکہ موضوعات کے بجائے شخصیات کو توجہ کا مرکز بنایا ہے۔ ان میلوں میں ہلہ گلہ کے علاوہ ان لوگوں کو زیادہ نمایاں کیا ہے جو فی البدیہہ بولنے میں مہارت رکھتے ہیں اور عمومی طور پر ان محفلوں میں مواد کے بجائے اندازبیاں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔گزشتہ تین سالوں کی طرح اس سال بھی انڈس کلچرل فورم کے زیر اہتمام لوک ورثہ اور دیگر غیر سرکاری ترقیاتی تیظیموں کے تعاون سے مادری زبانوں کا میلہ 16 اور 17 فروری 2019 کو اسلام آباد میں منعقد کیا گیا۔ اسی طرح پچھلے دو ہفتوں کے دوراں لاہور ادبی میلہ اور کراچی ادبی میلہ بھی برپا کیا گیا۔مادری زبانوں کے میلے اور دیگر میلوں میں نمایان فرق ایک تو زبانوں کی نمائندگی کا ہے کہ مادری زبانوں کے میلے میں پندرہ کے لگ بھگ زبانوں کی نمائندگی ہوتی ہے اوردیگر میلوں میں دو یا تین زبانوں سے زیادہ کو موقع نہیں ملتا۔ ایک فرق یہ بھی ہے کہ مادری زبانوں کے میلے میں مواد زیادہ اور بہتر ہوتا ہے۔ اس سال کے میلے میں بیس سے زیادہ مختلف زبانوں کی کتابوں کا اجرا کیا گیا۔ موضوعات کی تنوع بھی ایک اہم خصوصیت کے طور پر اس میلے میں سامنے آیا ہے۔

Read more