ڈاکٹر جیمز مسیح شیرا: 6 مارچ 1946 سے 15 جنوری 2024 تک کا سفر


ڈاکٹر جیمز شیرا ستارہ امتیاز پاکستان اب اس جہان فانی میں نہیں رہے مگر وہ ہمیشہ ہم سب کے دل و دماغ اور انسانی تاریخ میں زندہ رہیں گے۔

گو کہ وہ پاکستانی برٹش مسیحی تھے مگر وہ دونوں ممالک، برطانیہ اور پاکستان سے وفاداری نبھانے، ان کی سربلندی، فلاحی کاموں میں پیش پیش رہے اور بین المذاہب میں ہم آہنگی کے لئے پل کا کردار ادا کرتے رہے۔

ڈاکٹر جیمز شیرا ایک برطانوی سیاست دان، ماہر تعلیم اور برطانیہ میں رگبی کے سابق میئر تھے۔ وہ نہ صرف برطانیہ کے لئے بلکہ پاکستان کے لئے بھی باعث فخر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے انہیں بہترین اعزازات سے نوازا۔ پاکستان کے ہائی آفیشلز سے ان کا برائے راست رابطہ تھا۔ انہوں نے ہمیشہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہونے والی نا انصافیوں، ظلم و جبر اور زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کی اور مسائل کے حل کے لئے ہائی آفیشنلز سے رابطے کیے ۔

ڈاکٹر جیمز شیرا 6 مارچ 1946 ء کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں لواہیانوالہ میں مقیم زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ میٹرک کے بعد اسلامیہ کالج، گوجرانوالہ سے گریجویشن کیا اور ایف سی کالج لاہور میں ایم اے پولیٹیکل سائنس میں ڈگری حاصل کی۔ ماسٹر ڈگری مکمل کرنے کے بعد ان کی شادی 20 دسمبر 1969 کو گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے پادری بی ایم بخش کی صاحبزادی محترمہ نور جہاں سے ہوئی۔ فادر فیڈنشن کی کوششوں سے انہیں کاتھولک بلجیم لووین یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ریلیشن میں پی ایچ ڈی کے لئے اسکالر شپ مل گیا۔ ڈاکٹریٹ کے بعد وہ رگبی انگلینڈ میں مستقل رہائش پذیر ہو گئے۔

ڈاکٹر شیرا نے پاکستان اور برطانیہ دونوں ملکوں میں تعلیم کے شعبے میں ایک ممتاز کیریئر گزارا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور برطانیہ کے مختلف تعلیمی اداروں میں استاد، ہیڈ ماسٹر اور پروفیسر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ وہ پاکستان کے متعدد اسکولوں اور کالجوں کے بورڈ آف گورنرز کے رکن بھی رہے۔ 1977 ء سے 1987 ء تک نیو بولڈ مڈل اسکول میں استاد کی حیثیت سے آغاز کیا اور 1981 ء سے 1987 ء تک ماحولیاتی مطالعات کے سربراہ بنے۔

وہ 1987 ء سے 1995 ء تک واروک شائر کاؤنٹی کونسل میں بین الثقافتی تعلیم کے لیے کاؤنٹی ایڈوائزر اور 1995 ء سے 2011 ء تک انٹر کلچرل کریکولم سپورٹ سروس (آئی سی ایس ایس) کے ڈائریکٹر سمیت کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے کو وینٹری یونیورسٹی، واروک شائر کالج اور نیومین یونیورسٹی کالج برمنگھم سمیت متعدد بورڈ آف گورنرز میں خدمات انجام دیں۔ وہ متعدد کمیٹیوں کے رکن بھی رہے ہیں، جیسے مساوات اور شمولیت شراکت داری بورڈ اور کیتھولک کمیشن فار ریشل جسٹس۔

ڈاکٹر شیرا مختلف اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں جیسے این ایچ ایس آرڈن کلسٹر کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر اور این ایچ ایس آرڈن کلسٹر کے مساوات، تنوع اور انسانی حقوق گروپ کے چیئرمین۔ وہ ویسٹ مڈ لینڈ ساؤتھ اسٹریٹجک ہیلتھ اتھارٹی (این ایچ ایس) اور واروک شائر ہیلتھ اتھارٹی کے نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔

1988 ء میں شیرا رگبی کے میئر منتخب ہونے والے پہلے پاکستانی بنے۔ وہ 2005 ء سے 2022 ء تک رگبی میں لیبر گروپ کے رہنما رہے۔ انہوں نے 2010 ء سے 2014 ء تک رگبی بورو کونسل کے چیئر جائزہ اور سکروٹنی بورڈ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ 2014 ء میں، شیرا نے مسلسل 10 ویں مدت کے لیے کونسلر منتخب ہو کر ایک ریکارڈ بنایا۔

1992 میں انہیں صدر پاکستان سے ستارہ امتیاز ملا۔ NHS اور مڈ لینڈز میں کمیونٹیز کے لیے ان کی خدمات کے لیے، انہیں 2007 میں ملکہ کی سالگرہ کے اعزاز کی فہرست میں MBE سے نوازا گیا۔

رگبی میں ایک سڑک کا نام ’جیمز شیرا وے‘ کا نام رکھا گیا ہے جو وارکشائر کالج کے فیلوز کی کونسل کے چیئرمین کے طور پر ان کی مہمات کے اعتراف میں ہے۔ 2010 میں، بیڈفورڈ شائر یونیورسٹی نے انہیں اعزازی ڈاکٹر آف بزنس اینڈ ایڈمنسٹریشن دیا۔ 2017 میں، انھیں ”فریڈم آف دی بورو آف رگبی“ سے نوازا گیا۔

2021 میں فارمن کرسچن کالج یونیورسٹی، لاہور، پاکستان نے انھیں آرٹس اینڈ لیٹرز میں اعزازی پی ایچ ڈی سے نوازا۔ مارچ 2023 میں انہیں صدر پاکستان کی جانب سے قائد اعظم ہلال ایوارڈ ملا۔ ڈاکٹر شیرا 2005 سے 2022 تک رگبی میں لیبر گروپ کے لیڈر رہے۔ 2014 میں شیرا نے رگبی کونسل کے بین وارڈ سے لگاتار 10 ویں بار کونسلر منتخب ہو کر ایک ریکارڈ بنایا، ایک ایسا وارڈ جہاں سے وہ 1981 سے مسلسل الیکشن لڑتے اور جیتتے رہے ہیں۔ انہیں لانگ لائف صدر برٹش پاکستانی میئر ایسوسی ایشن ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

ڈاکٹر جیمز شیرا کی وفات پر نہ صرف مسیحی بلکہ برطانیہ کی سیاسی، سماجی اور آفیشل اہم شخصیات، جن میں برنیٹ کونسل کے ڈپٹی میئر کونسلر طارق ڈار ن، لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر نے بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے ڈاکٹر جیمز شیرا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک انتہائی دیانتدار، محنتی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پیکر تھے، وہ بین المذاہب بلکہ تمام کمیونٹیز میں یکساں مقبول اور قابل احترام تھے۔ وہ پاکستان اور برٹش پاکستانی کمیونٹی کے تادم مرگ دوست رہے۔

Facebook Comments HS