بابری مسجد رام مندر تنازع
بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کر کے اس کا افتتاح کر دیا گیا۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ وہی ہو رہا ہے جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔ یہ وہی ہو رہا ہے جو محمد بن قاسم سے لے کر اورنگ زیب عالمگیر تک پرلوں کے ساتھ ہوا ہے۔ کل تمہارے ہاتھ میں لٹھ تھا آج ان کے ہاتھ میں ہے۔ یہی دنیا کا نیم ہے۔ جب عربی، خلجی، غوری اور تیموری مفتوحہ ہندوستانی راجوں مہاراجوں کی بہو بیٹیوں بہنوں کو اپنے حرم میں داخل کر لیا کرتے تھے تب تو صرف نظر اونچی کرنے والوں کی بھی گردن مار دی جاتی تھی۔
سسکیوں کی چنگاریاں بغاوت کے شعلوں میں تبدیل ہونے سے پہلے ہی شمشیر اور لہو کی دھار سے بجھا دی جاتی تھیں۔ اکبر کے حرم میں ایک سو سے زائد عورتیں تھیں۔ اکبر جو علاقہ فتح کرتا اس کے مفتوحہ سردار کی بہن، بیٹی، بیوی یا بہو میں سے کسی نہ کسی کو ضرور داخل حرم کرتا یا پھر کسی وزیر مشیر کو بخش دیتا۔ اس پالیسی کا مرکزی خیال مفتوحہ والیان ریاست کو تاحیات مرکزی حکومت کا مطیع و فرمانبردار رکھنا تھا۔ مورخین نے لکھا ہے کہ جب اکبر کے حرم میں ننانوے بیگمات ہو گئیں اور سوویں یا شاید ایک سو ایک ویں ملکہ سے نکاح کا وقت آیا تو بادشاہ نے حسب معمول سرکاری مفتی سے فتوی لیا جس نے ہمیشہ کی طرح بیک جنبش قلم اجازت دے دی تو کچھ حلقوں میں ڈھکے چھپے انداز میں مولوی پر تنقید ہونے لگی۔
اس تک یہ باتیں پہنچی تو اس نے کہا جو لوگ مجھ پر آنے بہانے سے تنقید کرتے ہیں اور بادشاہ کی سوویں اور ایک سو ایک ویں شادی کا جواز پوچھتے ہیں تو یہ اسی جواز کے تحت جائز ہے جس کے تحت بادشاہ نے پچھلی ننانوے شادیاں بیک وقت رکھی ہوئی ہیں۔ اکبر اعظم کی قبر پر ایک عرصے تک ہندوستان کے تمام بڑے مذاہب کے نشانات اس کے کثیر المذہبی سسرالیوں کی گواہی دیتے رہے۔ آپ نے بلا رنگ و نسل و مذہب عورتوں سے تمتع کیا۔
آگے چلتے ہیں۔ شہنشاہ جہانگیر المعروف زنجیر عدل والے نے سکھوں کے پانچویں گرو، گرو ارجن دیو کو گرفتار کر کے ان سے زبردستی اسلام قبول کروانے کی کوشش کی۔ انکار پر ان کو اس قدر زدو کوب کیا گیا کہ تشدد کے دوران ہی ان کی جان نکل گئی۔ بعض کتابوں میں ہے کہ جہانگیر نے انہیں پانی میں ڈبو کر مار دیا تھا۔
ٹوپیاں سینے والے اورنگ زیب عالمگیر نے سکھوں کے نویں گرو، گرو تیغ بہادر کو تہہ تیغ کر دیا تھا۔
جو کچھ ہندوستان میں ہو رہا ہے وہی کچھ آپ کے ہاں بھی اقلیتوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ آپ کے ماننے نہ ماننے سے کچھ نہیں ہوتا۔ آپ بھی تو اپنی درسی کتابوں میں سومناتھ کا مندر توڑ کر مرکزی بت پاش پاش کر کے اس کی باقیات غزنی کی جامعہ مسجد کے پاخانے اور جوتوں کی جگہ پر رکھنے والے محمود غزنوی کو ہیرو بنا کر پڑھاتے ہیں۔
آپ اپنی دال روٹی کی فکر کریں۔ پیاز ساڑھے تین سو روپے کلو ہو گیا ہے۔


