سرائیکی صوبہ اور الیکشن 2024۔
ہمیشہ سے ہر بار الیکشن قریب آتے ہی سیاسی جماعتیں جہاں پورے پاکستان میں زور آزمائی کرنے کے لیے مختلف رنگ روپ اپنا کر مختلف منشور لے کر ہر صوبے اور علاقے میں اپنے طریقے سے اپنا سیاسی مشن آگے بڑھاتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے کا لالچ عوام کو دیتے ہیں۔ وہیں جنوبی پنجاب کے عوام سے سب سیاسی جماعتوں کوئی بھی نئی پالیسی یا نیا ایجنڈا دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ سب سیاسی جماعتوں کو خوب اندازہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام کے مطالبات میں سب سے بنیادی مطالبہ ان کا اپنا الگ صوبہ ہے۔
جنوبی پنجاب صوبے کے لیے جب بھی موثر اور نمایاں کوشش کی گئی ہے۔ عین اسی وقت ایک مضبوط سیاسی جماعت اپنی بھرپور سیاسی دوراندیشی کو دیکھتے ہوئے۔ بہاولپور صوبے کی آواز کو بلند کروا دیتی ہے۔ اور اس طرح پھر سے اسی سرائیکی خطے کے لوگوں میں ایک ناں ختم ہونے والی مخالفت کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے ۔ کہ بہاولپور الگ ریاست تھی اور اسے تو بس اپنی پرانی ریاستی شکل میں بحال ہونا ہے۔ ادھر ملتان والے کہتے ہیں نہیں ملتان چونکہ ساوتھ پنجاب کا وسط ہے۔ بڑا شہر ہے اسے ہی کیپٹل بنا کر بہاولپور، ڈی جی خان اور ملتان ڈویژن کے ساتھ بھکر میانوالی اور خوشاب کو بھی شامل کیا جائے۔ اس سارے قضیے کے بیچ میں پھر سے الگ صوبے کی آواز کمزور ہونے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
ایک صوبے کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے اسی صوبے کی اسمبلٔی سے ایک قرار داد دو تہائی اکثریت سے منظور کروانے کے بعد بل پاس کروانا ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ میں بھی اس کے حق میں دو تہائی اکثریت کا ہونا لازمی ہے۔ 2008 کے الیکشن ہونے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضاگیلانی سے جنوب کے لوگوں کو بہت امید تھی۔ کہ وہ ایک الگ صوبہ بنا کر واپس لوٹیں گے۔ اور انہوں نے اس بارے میں نمایاں کوشش بھی کی۔
مگر اس میں انہیں کامیابی نصیب نہیں ہو سکی۔ 2013 میں نون لیگ نے اپنی الیکشن کمپین میں الگ صوبوں کی بات کر کے پھر سے جنوبی پنجاب میں کامیابی حاصل کی۔ مگر وفاق میں پہنچنے کے بعد اس بڑی سیاسی جماعت کو بھی اس وسیب کے لوگ اور ان کا یہ مطالبہ مکمل طور پر بھول گیا۔ کیونکہ اگر نون لیگ اس سرائیکی صوبہ کے حوالے سے ایک مضبوط قدم اٹھاتی اور اس وقت اپوزیشن میں بیٹھی پاکستان پیپلز پارٹی سے بات کر کے اس کام کو انجام دینا چاہتی تو شاید یہ ممکن ہو سکتا تھا۔ کیونکہ پی پی پی تو سرائیکی صوبہ بنانے کے حق میں ہمیشہ آواز بلند کرتی آئی ہے۔ اور وہ اس کام میں دوسری سیاسی جماعتوں کی نسبت ہمیشہ سے ہی زیادہ سیریس نظر آئی ہے۔
اور 2013 سے 2018 کے درمیان میں نواز لیگ نے طاقت رکھنے کے باوجود بھی اس کام کو کرنے میں کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ اس کے بعد جب 2018 کے الیکشن کی تیاری کا دور شروع ہوا۔ پھر سے پورے وسیب میں سے مختلف سیاست دانوں نے مل کر ایک الگ تحریک شروع کردی۔ جسے سرائیکی صوبہ محاذ کا نام دیا گیا۔ اس تحریک میں شامل ہونے والوں میں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار صاحب بھی شامل تھے۔ اس تحریک نے ایک بار پھر سے اس خطے کے لوگوں سے سرائیکی صوبے بنانے کے منشور پہ ووٹ مانگنے شروع کر دیے۔ بہت سے سینئر سیاست دان اس تحریک کا حصہ بنے۔ دیکھتے ہی دیکھتے عین الیکشن کے بالکل قریب اس صوبہ محاذ نے سو دن میں سرائیکی صوبہ بنانے کا وعدہ کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کے جھنڈے والی چادر اپنے گلے میں پہن کر پریس کانفرنس کر کے اس میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔
پورے جنوبی پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف نے بہت بڑے جلسے کیے۔ سابقہ حکومتوں کے اس خطے کے ساتھ زیادتیوں کو ہر نعرے میں بیان کرتے رہے۔ اس سرائیکی خطہ کو سینٹرل اور اپر پنجاب سے پسماندہ بتاتے ہوئے آئندہ اس کی پسماندگی کا ازالہ ایک الگ صوبے کے شکل میں کرنے کا وعدہ کرتے رہے۔ 2018 کے الیکشن میں اس خطے سے پاکستان تحریک انصاف نے واضح برتری حاصل کر کے مرکز اور پنجاب نون لیگ سے چھین کر اپنی حکومت بنا ڈالی۔ ایک امید پھر سے جاگ اٹھی کہ اب شاید وسیب کے لوگوں کا مطالبہ ضرور پورا ہونے جا رہا ہے۔
مگر دن گزرتے گئے اور بات تحریک انصاف کے منشور سے پیچھے ہٹتی گئی۔ اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ساوتھ پنجاب سیکرٹریٹ بنانے کا اعلان کیا تو ایسا لگنے لگا کہ شاید اب حقیقت میں یہ کام انجام دیا جانے لگا ہے۔ مگر تحریک انصاف کا وہ دور بھی بھلے تین سے چار سالوں کا تھا مگر جنوبی پنجاب صوبہ تو بس ایک خواب ہی رہا۔
اب پھر سے الیکشن قریب آچکے ہیں۔ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری صاحب جنوبی پنجاب میں بھرپور انداز میں اپنی الیکشن کمپین چلاتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اور پھر سے چئیرمین پی پی پی اپنے ہر جلسے میں وسیب صوبہ کی بات کو دہرا رہے ہیں مگر خدا ہی جانے اس بار وہ اس کام کو کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے یا کسی بہت رکاوٹ کا سامنا کر کے خاموش ہوجائیں گے۔
جمعہ 19 جنوری کو اسلام آباد میلوڈی چوک سے ڈی چوک تک سرائیکی صوبہ کے حق میں ایک ریلی نکالی گئی۔ جس میں مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔ سب سے بڑھ کر اس میں جو شرکت تھی وہ سرائیکی سٹوڈنٹس کونسلز کے مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طالب علم تھے۔ خاص طور پر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے بہت سارے سرائیکی سٹوڈنٹس نے اس میں شرکت کی۔
الیکشن ہونے میں اب صرف تقریباً دو ہفتے باقی ہیں۔ اور مختلف سیاسی جماعتیں وسیب کے لوگوں کو الگ صوبے بنا کر دینے کے حوالے سے مختلف قسم کے بھاشن دیے جا رہی ہیں۔ مگر اللہ ہی جانے حقیقت میں یہ صوبہ کب بنے گا۔ اس بات کا کسی کو کچھ نہیں پتہ۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ وسیب ایک سیاسی میدان ہے۔ جس میں لوگوں کو کالج، یونیورسٹی، میٹرو یا پھر اورنج ٹرین کا لالچ دیے بغیر۔ بس ایک ہی مدعا بیان کر کے ووٹ مانگنے کا بڑا آسان طریقہ ہے۔ وہ ہے سرائیکی صوبہ۔


