اقلیتی برادری کے نوجوان الیکشن کو کیسے دیکھتے ہیں؟
ملک بھر میں 8 فروری کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے کندھ کوٹ کشمور ڈسٹرکٹ میں رہنے والی اقلیتی برادری، خصوصاً نوجوان طبقہ الیکشن کے حوالے سے کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتا۔ اقلیتی برادری کے نوجوانوں کا ہمیشہ منتخب عوامی نمائندوں اور مخصوص نشستوں پر آنے والے اقلیتی نمائندوں سے یہ شکوہ رہا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی ان کے ساتھ تعلقات، میل جول اور ان کے مسائل پر توجہ نہیں دی اور یہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کے امیدواروں کے ساتھ اقلیتی برادری کا کوئی بھی نوجوان نہیں ہے۔
ضلع میں اقلیتی برادری کی ایک لاکھ آبادی جبکہ 25 ہزار تک ووٹ بتائے جاتے ہیں۔ میگھواڑ برادری کی پڑھی لکھی انمول پری نے بتایا کہ ووٹ قومی فریضہ ہے ؛ ”ووٹ سے ہی تبدیلی آئے گی“ یہ صرف باتوں تک ہی محدود ہے : ”کندھ کوٹ میں ووٹ کی کوئی خاص اہمیت نظر نہیں آتی۔ میرا جس برادری سے تعلق ہے اس میں زیادہ تر محنت کش ہیں۔ ہماری برادری کے کئی مسائل ہیں لیکن کسی منتخب عوامی یا اقلیتی نمائندے نے کبھی ہمیں سپورٹ نہیں کیا الٹا تعلیم کے حوالے سے ہمیں پیچھے رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
لڑکیوں کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔ تو ہم ووٹ دے کر ان کو منتخب کریں یا نہ کریں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا نوجوان طبقہ یا ہم الیکشن میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ہر نوجوان کی زبان پر یہی سوال ہوتا ہے کہ ووٹ دے کر ہمیں کیا فائدہ ہو گا؟ وہی لوگ آئیں گے جو پانچ سالوں میں ہمیں کبھی نظر بھی نہیں آتے۔“
اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن سنتوش کمار اگروال نے اس حوالے سے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقلیتی برادری کو الیکشن میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے کیونکہ الیکشن لڑنے والے عوامی نمائندگان کامیاب ہونے کے بعد عوام کو اپنا منہ نہیں دکھاتے نہ ان کے مسائل حل کرتے ہیں : ”وہ اقلیتی برادری کے نوجوانوں سے ووٹ بھی نہیں مانگتے بس خانہ پری کے لیے صرف ہندو پنچایت سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں سپورٹ اور ووٹ دیں۔ امیدواروں کے پاس پلان کوئی نہیں ہوتا اسی وجہ سے نوجوان طبقہ الیکشن میں دلچسپی نہیں لیتا۔ اگر مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے نمائندے اقلیتی برادریوں کے پاس آ کر یہ وعدہ کریں کہ ان کے مسائل حل کیے جائیں گے تو پھر اقلیتی برادری بھی بھرپور انداز میں الیکشن میں حصہ لے گی۔ اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہر بار کی طرح اس الیکشن میں بھی اقلیتی برادری کے صرف دس فیصد ووٹ ہی کاسٹ ہوں گے۔“
ہندو پنچایت کے رہنما اور سینئر صحافی دلیپ کمار ٹھاکر نے اس حوالے سے بتایا کہ ہندو برادری سمیت جو بھی اقلیتی برادریاں ہیں وہ الیکشن میں دلچسپی اس لئے بھی نہیں لیتیں کہ ایک تو وہ کاروباری لوگ ہیں اور اپنے کاروبار تک محدود ہوتے ہیں۔ دوسرے ان کے مسائل کے حل کے لئے کوئی آگے نہیں آتا: ”ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ ووٹ کاسٹ کروائیں مگر نوجوان طبقہ الیکشن میں بالکل دلچسپی نہیں لیتا۔ مگر رہنما ہونے کی وجہ سے ہماری کوشش ہو گی کہ ان تمام مسائل کو چھوڑ کر زیادہ سے زیادہ ووٹ کاسٹ کروائیں تاکہ ہماری نمائندگی ہو سکے۔“
ٹھاکر کے مطابق کندھ کوٹ شہر کے اندر اقلیتوں کے آٹھ سے 10 ہزار کے درمیان ووٹ ہیں جبکہ ضلع بھر میں ان کے 25 ہزار سے زائد ووٹ ہیں : ”کندھ کوٹ سے منتخب ہونے والے عوامی نمائندگان اور مخصوص نشستوں پر آنے والے اقلیتی نمائندوں کو چاہیے کہ اقلیتی برادری کے جو بھی مسائل ہیں ان کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو نوجوانوں سمیت جو پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ نہ صرف آنے والے انتخابات میں زیادہ سے زیادہ ووٹ کاسٹ کریں گے بلکہ ہر الیکشن میں بھرپور حصہ لیں گے۔“


