ووٹ کا صحیح حق دار کون؟


ملک بھر میں عام انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ حصہ لینے والی جماعتوں نے عوامی رابطہ مہم تیز کر دی ہے۔ رہنما و امیدواران منشور اور کارکردگی عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ عوامی مطالبات کی روشنی میں وعدوں اور یقین دہانیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے سرگرداں ہیں۔

سیاسی کارکنان بھی مقامی سطح اور سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں۔ اپنی پارٹی اور امیدوار کی خوبیاں اور مخالفین کی خامیاں بیان کرنے کی ذمہ داری بہ طریق احسن نبھا رہے ہیں اور ووٹ کے حصول کی خاطر عوام کو قائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

عوام ایسی قیادت کے انتخاب کے لیے پر عزم ہیں جو ملک کو مسائل کی دلدل سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہو تاہم کچھ لوگ مایوسی اور نا امیدی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ ہر ووٹر سوچنے پر مجبور ہے کہ ووٹ کا ایسا صحیح حق دار کون ہے جو سابقہ حکمرانوں کی طرح مایوس نہ کرے۔ بیشتر ووٹر تبدیلی کے خواہاں ہیں لیکن بد قسمتی سے اپنے ووٹ کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں۔ ووٹر کو تعلیم دینے اور اس پر عائد قومی ذمہ داری سے آشنائی کے لیے مختلف ادارے اور سماجی تنظیمیں آگاہی سیشنز کا انعقاد بھی کر رہی ہیں۔ جن میں غیر سرکاری تنظیموں سی پی ڈی آئی، آئی ایل اور جرید سمیت چند دیگر کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔

ووٹ قوم کی امانت ہے۔ ووٹ گواہی کی حیثیت رکھتا ہے جس کا صحیح استعمال لازم ہے۔ ایک ووٹر کی ذمہ داری ہے کہ تمام پارٹیوں کے منشور اور سابقہ کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لے، ضروری تحقیق کرے اور قومی مفاد پر ذاتی یا علاقائی مفادات کو غالب نہ آنے دے۔

گزشتہ سات دہائیوں سے انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے لیکن عوامی امنگوں کی ترجمان قیادت کا فقدان ہی رہا ہے۔ عوام کو سیاسی تاریخ کا جائزہ لے کر نتیجہ اخذ کرنا ہو گا کہ قیادت کے انتخاب میں کیا کوتاہی برتی جا رہی ہے۔

ووٹر کے ذہن نشین ہونا چاہیے کہ عام انتخابات میں گلی یا نالی کی پختگی کے لیے قیادت کا انتخاب نہیں کیا جاتا، حکومتوں یا نمائندوں کو سڑکوں و پلوں کی تعمیر اور اپنے چہیتوں میں ملازمتیں بانٹنے کے لیے مینڈیٹ نہیں دیا جاتا بلکہ ملک میں رائج نظام کی خامیاں دور کر کے قوم کا معیار زندگی بہتر بنانے کی خاطر قیادت کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ عوام کی جانب سے منتخب قیادت کو بین الاقوامی سطح پر ملکی وقار بلند کرنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔

بہت غفلت اور لاپرواہی برتی گئی جس کا خمیازہ ہم لاقانونیت، بے امنی، کرپشن اور مہنگائی جیسے بے پناہ مسائل کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

اب عام انتخابات 2024 میں عوام سوچ سمجھ کر حق رائے دہی استعمال کریں۔ ووٹ کی پرچی کو محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہ سمجھیں اس سے قوم کی تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ سوچنا بھی جہالت ہے کہ میرے ایک ووٹ سے کیا فرق پڑے گا۔ یہ صرف ووٹ ہی نہیں بلکہ ضمیر کی آواز ہے۔ یہ ووٹ وہ بیعت ہے جس کی حرمت کی خاطر نواسہ رسولﷺ نے مقدس خاندان کے ہمراہ جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔

تحقیق اور غور و فکر کے بعد عام انتخابات میں ایسی قیادت منتخب کرنے کی کوشش کریں جسے ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی مسائل کا ادراک ہو اور حل کی صلاحیت بھی رکھتی ہو۔ اشرافیہ کے ایسے ٹولے کو مسترد کریں جو عوام کے سروں پر نسل در نسل حکمرانی کے خواب دیکھتا ہے۔ ایسی جماعت کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا جائے جس کو مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل تجربہ کار ٹیم کی مدد حاصل ہو تاکہ قدرتی وسائل سے مالا مال اس ملک کی خداداد نعمتوں کو بروئے کار لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جا سکیں۔ دیانت دار قیادت کو ذمہ داریاں سونپی جائیں جن کے منشور میں موروثی سیاست کے بجائے جمہوری اقدار کو فروغ دینا شامل ہو۔ ایک جرآت مند قیادت جو وی آئی پی کلچر و افسر شاہی کا خاتمہ کرے اور فوری و سستے انصاف کی بلا امتیاز فراہمی کو یقینی بنائے۔ ملک کو مسائل کی دلدل با الخصوص قرض کے بوجھ سے نکالنے کے لیے مشکل فیصلے کرے لیکن صرف عوام سے ہی قربانی کا تقاضا نہ کرے بلکہ غیر ضروری مراعات اور شاہ خرچیوں کو بند کرے۔ سودی نظام کے خاتمے اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے کوئی جامع حکمت عملی مرتب کرے۔ مال داروں کو ٹیکس نیٹ میں لائے، کرپشن کا خاتمہ اور قومی خزانہ لوٹنے والوں کا احتساب کرے۔ عوام دوستی کا منشور رکھنے والی قیادت منتخب کی جائے جو اچھے طرز حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے حکومتی معاملات میں مختلف طبقات کی شمولیت کو یقینی بنائے۔

عوام تہیہ کر لیں کہ ایسے حکمران منتخب کرنے ہیں جو عوامی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوں۔ ایسا انصاف پسند حاکم جو طبقاتی نظام ختم کر کے قانون کی نظر میں سب پاکستانیوں کو برابری کا حق دے۔ استحصالی نظام کا خاتمہ کر کے ملک کے کونے کونے میں بسنے والوں کو آئین کے مطابق عزت و ناموس اور جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دے۔ عوام جمہوری وطن کا ایسا سربراہ منتخب کریں جو آئین و قانون کی حکمرانی اور سول بالا دستی قائم کرنے میں مخلص ہو۔

8 فروری 2024 کو ووٹ پول کرتے وقت ہر پاکستانی سوچے کہ یہ وطن کتنی قربانیوں کے بدلے اور کن مشکلات سے گزر کر حاصل کیا گیا تھا۔ جس نظریے اور مقصد کے لیے آزادی حاصل کی گئی تھی کیا وہ پورا ہو چکا ہے؟ اگر نہیں تو پھر 13 کروڑ ووٹرز ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، اپنے ووٹ کی اہمیت سمجھیں اور ووٹ کی پرچی کے ذریعے تبدیلی لائیں۔ امیدوار کے سیاسی پس منظر، کردار اور منشور کا جائزہ لیں جمہوری جماعت کے اہل امیدوار کو ووٹ دیں وہ ہی حق دار ہے۔ ایر غیرے پر اپنا قیمتی ووٹ ضائع نہ کریں کیوں کہ اللہ کے ہاں جواب دینا ہو گا۔

 

Facebook Comments HS