قیام پاکستان سے قبل کے سنیما – قسط نمبر 1


قیام پاکستان کے وقت جو سنیما پاکستان کو ورثے میں ملے اس میں 1908 میں ہیرا منڈی لاہور میں بننے والا پاکستان ٹاکیز سب سے پرانا سنیما ہے، 562 سیٹوں کے گنجائش والے اس سنیما کا ابتدائی نام عزیز تھیٹر تھا، خاموش فلموں کے وقت تک اس میں ڈرامے پیش کیے جاتے تھے، خاموش فلموں کے وقت 1915 میں تھیٹر کو سنیما میں تبدیل کیا گیا، اور 1931 میں بولتی فلموں کے آغاز پر اس کا نام تاج محل ٹاکیز رکھا گیا، پاکستان بننے تک سنیما اسی نام سے چلتا رہا، 1947 میں قیام پاکستان کے وقت سنیما کا نام پاکستان کی نسبت سے پاکستان ٹاکیز رکھا گیا، جو اس نام کے ساتھ ابھی تک اپنی اوریجنل لیکن نہایت خستہ حال بلڈنگ کے ساتھ برقرار ہے۔

ہیرا منڈی میں ہی قائم ایک تھیٹر گیٹی کے نام سے بھی تھا، بعد میں اس کا نام کنگ سنیما اور پھر ناولٹی اور آخر میں ترنم رکھا گیا، جسے ماضی قریب میں گرا کر اس کی جگہ پر پلازہ بنا دیا گیا۔

لاہور میں ہی 1920 میں سپنسر تھیٹر کی جانب سے ویسٹ اینڈ کے نام سے سنیما بنایا گیا، 70 کی دہائی میں اس کا نام گلوب اور بعد میں افشاں سنیما رکھا گیا، 1990 میں افشاں سنیما کو مسمار کر دیا گیا، جہاں اب دی مال آف لاہور ہے۔

اسٹیشن روڈ پر واقع نولکھا ٹاکیز بھی ہمیں ورثے میں ملا تھا، جس کا ابتدائی نام منورما تھیٹر تھا، بعد میں ریوالی سنیما کے نام سے جانا جانے والا اس سنیما کی جگہ پر دکانیں بنا دی گئی تھی، جب میں لاہور آیا تو میں نے اس جگہ کی تصویر لے کر سنیما کی اوریجنل فوٹو کے ساتھ فیس بک پر شیئر کی تھی، فلائی اوور کی زد میں آنے کے اب بلڈنگ کا نام و نشان بھی مٹ چکا ہے۔ مال روڈ پر ریگل سنیما بھی پاکستان بننے سے پہلے کا ہے، پاکستان بننے کی خوشی میں اس کا نام وکٹری یعنی ( فتح ) رکھا گیا، جو ڈبلیو زیڈ احمد کو الاٹ ہوا تھا، لیکن وکٹری نام اس کو راس نہیں آیا اور سنیما کا نام پھر سے ریگل رکھا گیا، ریگل سنیما پر میں تفصیلی پوسٹ دے چکا ہوں۔

اس طرح پاکستان بننے سے پہلے میکلوڈ روڈ پر آٹھ سنیما تھے، جن کی ترتیب اس طرح تھی، جی پی او سے لکشمی چوک کی طرف آئیں تو ہال روڈ کو کراس کرنے کے بعد دائیں طرف جے مل تھیٹر تھا، بعد میں اس کا نام کیپٹل اور پھر ریجنٹ سنیما رکھا گیا جہاں انڈین فلم آوارہ ریلیز کی گئی تھی۔ اسی ہاتھ پر تھوڑا سا آگے جسونت سنیما تھا، جسے 1928 میں تعمیر کیا گیا تھا، خاموش فلموں کے بعد 1931 میں ٹاکی فلموں کی نمائش کے وقت فلم انداز بھی یہاں ریلیز کی گئی تھی، جسونت سنیما کا نام بعد میں قیصر اور پھر مون لائٹ اور آخر میں امپیریل رکھا گیا جہاں اب پلازہ زیر تعمیر ہے، مون لائٹ کی وجہ شہرت وہی تھی جو لاہور میں رٹز اور کراچی میں کمار اور رینو سنیما کی ہیں۔ مون لائٹ کے بالکل سامنے ایکسلیسر سنیما تھا جس کا نام بعد میں رٹز رکھا گیا۔ اب وہاں پٹرول پمپ ہے۔

مون لائٹ سے چند قدم کے فاصلے پر پیلس سنیما تھا، جہاں فلم ہچکولے ریلیز کی گئی تھی وہاں اب پلازہ ہے، پیلس سنیما کی نشاندہی میں میری مدد کرنے والے بزرگ شخص نے سنیما سے جڑی اپنی کہانی سناتے ہوئے مجھے کہا تھا، کہ جوانی میں ٹکٹ کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے میں سنیما کے گیٹ کے ساتھ کان لگا کر پوری فلم سنتا تھا۔ لکشمی چوک کراس کر کے بائیں جانب رتن سنیما تھا، جو اب بھی مکمل چار دیواری کے ساتھ بغیر چھت کے موجود ہے۔ سنیما بند ہونے کے بعد کافی عرصہ تک سنیما پر فلم ”پہلا سجدہ“ کا بورڈ آویزاں رہا۔

رتن سے چند قدم کے فاصلے پر لکشمی سنیما تھا بعد میں جس کا نام پربھات پھر صنوبر اور آخر میں ایمپائر رکھا گیا، سنیما کی بلڈنگ اوریجنل حالت میں برقرار ہے، بس پارکنگ ایریا اورنج ٹرین کی زد میں آیا ہے۔ یار دوست تو جانتے ہی ہیں کہ بروز اتوار 7 اگست 1948 عیدالفطر کے موقع پر اسی سنیما پر پاکستان کی پہلی فلم ”تیری یاد“ ریلیز ہوئی تھی، اس وقت اس کا نام پربھات تھا۔

لکشمی چوک کے ساتھ ہی ایبٹ روڈ پر اوڈین اور کیپٹل سنیما ہیں، جہاں اب بھی فلموں کی نمائش ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ اوڈین اور کیپٹل سنیما قیام پاکستان سے پہلے میکلوڈ روڈ میں ہی شمار ہوتے تھے۔ گوالمنڈی میں ایروز سنیما تھا، جس کا پرانا نام وکٹوریہ تھیٹر تھا، جس کی موجودہ بلڈنگ کی کھوج میں مجھے بہت دقت اٹھانی پڑی تھی۔

بھاٹی کے علاقے میں ملک تھیٹر اور پیراماؤنٹ سنیما بالکل آمنے سامنے موجود تھے، جس میں سے پیراماؤنٹ کی جگہ اب ویگن اسٹینڈ ہے، پیراماؤنٹ سنیما کا پرانا نام سٹار ٹاکیز تھا، اور ملک ٹاکیز اب بھی اوریجنل بلڈنگ کے ساتھ چالو حالت میں ہے۔ ملک ٹاکیز سے سرکلر روڈ پر تھوڑا سا آگے نگار سنیما تھا، جس کا پرانا نام ڈائمنڈ تھیٹر تھا، جہاں اب تجارتی پلازہ ہے۔

بھاٹی گیٹ سے یادگار کی طرف چند قدم پر پکچر ہاؤس سنیما تھا، جسے 47 کے ہنگاموں میں نذر آتش کر دیا گیا تھا۔

اب بات کریں گے شاندار بلڈنگ کی حامل پلازہ سنیما کا جس کا افتتاح 1933 میں ساگر تھیٹر کے نام سے ہوا تھا۔ سنیما کا مالک ہیروئن کے بدنام زمانہ اسمگلر مرزا اقبال بیگ تھا۔ اقبال بیگ کی گرفتاری کے بعد سنیما کی باگ ڈور ان کے بیٹے جہانزیب بیگ نے سنبھالی، اور مبینہ طور پر منشیات کے پیسوں سے خریدا گیا دوسرا سنیما محفل ان کے دوسرے بیٹے کے حصے میں آیا۔ پلازہ سنیما کو حال ہی میں گرا دیا گیا جہاں اب خالی پلاٹ ہے۔

دوستو یہ تھے پاکستان بننے سے پہلے کے لاہور کے سنیما جن کی کل تعداد 19 بنتی ہے۔ ان میں سے 7 سنیما اپنی اوریجنل حالت میں برقرار ہیں۔ ان 7 میں سے تین سنیماؤں اوڈین، کیپٹل، اور ملک ٹاکیز پر اب بھی فلموں کی نمائش ہوتی ہے، باقی 4 سنیما بند پڑے ہیں۔ ان چاروں میں صرف ایمپائر سنیما ایسی حالت میں ہے، جسے دوبارہ چلایا جاسکتا ہے۔

اگلی قسط میں پاکستان کو ورثے میں ملنے والے کراچی کے سنیماؤں کو تحریر کا حصہ بنایا جائے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments