قیام پاکستان سے قبل کے سنیما – قسط نمبر 1
اس عنوان سے میری ایک تحریر پڑھ کر بہت سے دوستوں کے فون آنا شروع ہوئے کہ حسب وعدہ پلازہ سنیما لاہور پر تفصیلی تحریر دیں۔ کسی سنیما پر لکھنا بظاہر آسان سی بات لگتی ہے لیکن جب لکھنے بیٹھو تو بقول کسی پنجابی بھائی کے "لگ پتہ جاتا ہے”.
سنیما نہ صرف غریبوں کے لیے سستی تفریح کا ایک ذریعہ ہیں بلکہ ہم جیسے پاکستانی فلموں کے شائقین کے لیے راحت کا باعث بھی ہے۔ لیکن شومئی قسمت کہ کچھ عرصے سے سستی تفریح کے یہ ذرائع ختم ہوتے جا رہے ہیں
سینماؤں کے وجود کو زندہ رکھنے کے لیے جس تعداد میں فلموں کی ضرورت ہوتی ہیں نہ ہی وہ پوری ہو رہی ہیں اور نہ ہی کوئی معیاری فلمیں بن رہی ہیں۔ ٹکٹ ریٹ بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں۔ سینماؤں کے مہنگے ٹکٹ ریٹ اور اوپر سے گنڈاسہ ٹائپ مار دھاڑ سے بھر پور فلمیں،
سنیما تو ویران ہونے ہی تھے، سو ہو گئے
وحشی جٹ اور مولا جٹ جیسی غیر معیاری اور فارمولا فلموں کے ذریعے سنیما اسکرین کو خون سے سرخ کر کے فیملیز کو فلموں سے زبردستی دور کیا گیا۔ اور پھر فلمیں بھاٹی دربار کے فٹ پاتھوں اور چوبرجی کے گول چکر پر سونے والوں کی چیز بن کر رہ گئیں۔ یہاں پر سپر اسٹار ندیم صاحب کی کہیں ہوئی وہ تاریخی بات یاد آ رہی ہیں کہ ایک معیاری فلم کی فیل ہونے سے انڈسٹری کو اتنا نقصان نہیں پہنچتا، کہ جتنا نقصان ایک غیر معیاری فلم کے پاس ہونے سے پہنچتا ہے۔
ویران سنیماؤں کو ان کے مالکان کب تک پالتے۔ اس لیے سنیماؤں کی ہیئت بدلنے لگی۔ سنیما پلازوں اور شادی ہالوں میں تبدیل ہوتے گئے۔ اب اس کی زد میں پلازہ سنیما لاہور بھی آیا اور اسے گرایا گیا ہے اور اب ایک خالی پلاٹ فلم بینوں کا منہ چڑا رہا ہے
لاہور کے معروف سنیما میٹرو پول بھی اپنی باری کے انتظار میں بند پڑا ہے۔ اور کراچی کے راکسی اور کمار سنیما کا بھی سودا ہو چکا ہے۔ اب آتے ہیں پلازہ سنیما لاہور کی طرف۔
16 نومبر 1933 کو اس وقت کے پنجاب کے گورنر سر ہربرٹ ویلیم ایمرسن کے ہاتھوں افتتاح ہونے والے اس تھیٹر کا نام ساگر تھیٹر تھا۔700 سیٹوں کی گنجائش والے اس تھیٹر میں اسٹیج ڈراموں کے ساتھ ساتھ 1950 میں ڈانس کلاسز بھی شروع کی گئیں تھیں اور اس وقت کے مشہور رقاصائیں راکشی، اور پروین مسیح ( ایمی مینووالا) خصوصی طور پر ڈانس بھی پیش کرتی تھی
آرکیٹکٹ آر این ماتھور کے ڈیزائن کردہ اس خوبصورت تھیٹر کا پہلا مالک محمد افضال الدین آفندی اور ان کا بڑا بھائی محمد شفیع آفندی تھیں۔ کوئین روڈ پر واقع اس تھیٹر کا نام ہندی فلموں کے مایہ ناز ڈائریکٹر موتی ساگر کے نام پر ساگر تھیٹر رکھا گیا تھا۔ کچھ عرصے بعد تھیٹر کو باقاعدہ فلموں کے لیے تیار کیا گیا اور شروع میں یہاں انگریزی فلمیں نمائش کے لئے پیش کئیے جاتے تھے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ یہاں پر نمائش کے لئے پیش کی گئی پہلی فلم کا نام معلوم کر سکوں لیکن بے سود، نہ ہی سنیما کے موجودہ مالک جہانزیب بیگ کو علم اور نہ ہی کسی اور کو۔
اس سلسلے میں سنیما منیجرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور ہمارے پیارے دوست قیصر ثناء اللہ اور سنیما مالکان ایسوسی ایشن لاہور کے سابقہ صدر اور نغمہ سنیما سمیت کہیں سنیماؤں کے مالک امجد شاہین صاحب سے ملاقات کی لیکن نتیجہ صفر۔
غالباً 1985 میں مرزا اقبال بیگ نے خرید کر اپنے بیٹے جہانزیب بیگ کے نام کر دیا۔
ایک دن میں پلازہ سنیما پر فلم دیکھنے کے دوران وقفے میں کچھ خریدنے سنیما کے پارکنگ میں بنائے گئے کیفے میں گیا تو کیفے میں موجود فریج کے پیچھے سنگ مرمر کی ایک تختی نظر آئی معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ سنیما کی اوپننگ کے وقت کی ہے۔ کافی کوشش اور اصرار کے باوجود تختی کی مندرجات کو پڑھنے اور نوٹ کرنے کی اجازت نہ ملی۔
کافی عرصے بعد ایک دن سینئیر شوبز صحافی اور میرے دوست اے آر گل صاحب کے ساتھ فری فلم دیکھنے پلازہ سنیما گئے تو پہلے جہانزیب بیگ کے دفتر گئے۔ وہاں چائے کے دوران مجھے وہ تختی یاد آ گئی۔ اب تو موبائل کا زمانہ تھا تختی کی تصویر بھی لی جا سکتی تھی۔ اس لیے جہانزیب بیگ سے اپنی خواہش کا اظہار کیا جنہوں نے ایک ملازم میرے ساتھ کیا اور کیفے میں تختی کے آگے سے فریج کو ہٹا کے اپنی موبائل سے میں نے اپنے ہاتھ سے تختی کی تصویر لے لیں جو پوسٹ میں لگائی گئی ہے۔
ساگر تھیٹر سے پلازہ سنیما کب بنایا گیا اس سلسلے میں کوئی مستند تاریخ نہیں ملی۔ بقول طارق لودھی صاحب کی میری پیدائش 1952 کی ہے اور میں جب نو سال کا تھا تو اس وقت پلازہ سنیما پر انگریزی فلمیں نمائش کے لئے پیش کی جاتی تھیں۔ اس وقت سنیما میں ڈانس بھی ہوتا تھا اور سنیما میں ایک بار بھی تھا۔
سنیماؤں پر آئے برے دنوں کے وقت جب یہاں انڈین فلموں کی نمائش کی اجازت ملی تو پلازہ سنیما پر بھی انڈین فلمیں دکھائی گئیں اور سنیما بزنس خوب ترقی کرنے لگا لیکن انڈین فلموں پر دوبارہ بندش کی وجہ سے سنیما پھر سے ویران ہو گئیں۔ ان دنوں پلازہ سنیما کو تھیٹر میں تبدیل کیا گیا لیکن کچھ ہی دنوں بعد تھیٹر کو بھی بند کر کے سنیما کو گرانے کا کام شروع کیا گیا۔ کچھ ہی دنوں میں فن تعمیر کا یہ شاندار نمونہ ماضی کا حصہ بنا دیا گیا۔ اور اب ایک ویران اور خالی پلاٹ ہر فلم بین کے دل پر وار کرنے کو موجود ہے۔ افسوس صد افسوس۔






Well done khan sahab