پال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو!


ہمارے سلیبس میں عموماً ”والدین کے حقوق“ ہی پڑھائے جاتے ہیں اور یوں یہ حقوق حقوق پڑھتے بچے جب خود والدین بنتے ہیں تو ان کو بھی محض حقوق ہی یاد رہتے فرائض کا پتہ نہیں ہوتا۔ یہ بات درست ہے کہ والدین کے بے انتہا حقوق ہیں اور مذہب ان کی بجا آوری کی بہت زیادہ تلقین کرتا ہے۔ مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم مذہب کو بھی کبھی پورا نہیں پکڑتے۔ مذہب نے تمام طرح کے حقوق کے ساتھ ساتھ تمام طرح کے فرائض کا تعین بھی کیا ہے۔ یہ حقوق اور فرائض ایک ہی سکے کے متوازی رخ ہیں جنہیں ایک دوسرے سے الگ کر کے پڑھنا اور پڑھانا ہی دراصل معاشرت کے اندر بنیادی مسائل پیدا کرتا ہے۔

اس شدید ٹھٹھرتی سردی میں ننگے پاؤں، پھٹے لباس اور خشک اور بے رونق چہروں کے ساتھ رزق کی تلاش کرتے ہوئے معصوم بچے اس بنائے مذہب پر پیدا کیے جاتے ہیں کہ ان کا رزق اللہ تعالی کی طرف سے مقرر کر دیا گیا ہے جبکہ اس بات کو یکسر بھلا دیا جاتا ہے کہ ان بچوں کے رزق کی پریشانی اور تلاش کرنے کی ذمہ داری اسی مذہب نے ان بچوں کے بجائے ان کے والدین پر فرض کی ہے جس کی طرف کوئی متوجہ نہیں ہوتا۔

ان بچوں کی تعلیم تربیت اور ان کو بہترین ماحول کا مہیا کیا جانا ان بچوں کے مذہبی حقوق میں شامل ہے۔ اور اس ساری اندھیر نگری اور ظلم سے آنکھیں چرا لینے والی ریاست ان بچوں کے حقوق اور والدین کے فرائض کے درمیان میں انصاف کی مکمل طور پر ضامن ہے مگر شاید وہ بھی اس امر سے ناواقف ہے کہ اس ضمانت کا درحقیقت مطلب کیا ہوتا ہے۔

سرگودھا کینو کی انڈسٹری میں کام کرتے، ہوٹلوں کے باہر، چوراہوں اور بازاروں پر ہاتھ پھیلاتے، گھروں دفتروں اور فام ہاؤسز پر کام کرتے یا باراتوں میں پیسے لوٹنے والے پروفیشنل معصوم بچے تعلیم شعور اور انصاف کے اپنے چاروں طرف موجود ہونے کے باوجود انسانی حقوق سے کوسوں دور ہیں۔ انہیں ڈھنگ کا کھانا، لباس اور نہ ہی رہائش میسر آتی ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ جسمانی اور جذباتی استحصال کے عوض چار پانچ ہزار روپیہ ماہانہ بھی ان میں سے قسمت والوں کو ہی ملتا ہے ورنہ زیادہ تر کو جیب خرچ پر ہی ٹرخا دیا جاتا ہے۔ اصول فطرت ہے کہ جس کو جو کچھ معاشرت سے ملتا ہے وہ وہی کچھ معاشرت کو واپس لوٹاتا ہے۔ اس منظر میں استحصال کا شکار یہ بچے معاشرے کو کل کیا لوٹائیں گے اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔

اس چائلڈ لیبر کے منظرنامہ میں اسسٹنٹ کمشنر صاحبان بہرحال خوش قسمت ٹھہرے کہ جنہیں گزشتہ مہینوں میں کروڑوں روپے کی نئی ہیٹر لگی گاڑیاں مہیا کر دی گئی تھیں تاکہ وہ اور لیبر ڈیپارٹمنٹ ان بچوں سے متعلق اپنی ریاستی ذمہ داریوں کو بخوبی پورا کر سکیں مگر کون سی ریاست اور کون سے فرائض؟ یہاں تو اندھے پن کی شکار ریاست کو بھی اپنے حقوق سے آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ان اندھیروں میں وہ اس بات سے مکمل بے فکر ہے کہ ”یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی“ ۔

Facebook Comments HS