پارلیمان اور پارلیمنٹیرین کی اصل ذمہ داری


عوام کا خون پسینے کے ٹیکسز کا بیشتر حصہ علاقہ کی خوبصورتی (Beautification) پر ضائع ہوتی ہے۔ جو سراسر اس غریب ملک اور اس کے غریب عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ ایسے اقدامات جو عوام کے معاشی اور معاشرتی حالت کو آگے بڑھائے ترقی (Development) کہلاتی ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی اقدامات آرائش و زیبائش کے لیے ہوں وہ خوبصورتی (Beautification) ہوتی ہے۔ رہی بات بنیادی مسائل کا تو ہمارے بڑے بڑوں کی عجیب خصلت ہے خوا وہ سیاسی ہوں کہ مذہبی ہوں یا سرکاری ان کا اس طرف دھیان ہی نہیں جاتا۔ اور اگر چلا بھی جائے تو کئی قسم کی پیچیدگیاں اور مشکلات آڑے آتی ہیں۔

ترقیاتی کام ہوں یا خوبصورتی کے خالصتاً حکومت کا کام ہے۔ جس کے لیے کئی بڑے بڑے محکمے اور ادارے بنا رکھے گئے ہیں اور اربوں روپوں کی سالانہ بجٹ کے علاوہ کئی قسم کے اضافی فنڈز بھی جاری کیے جاتے ہیں۔ ساتھ ساتھ ہر نوعیت کا عملہ بھی تعینات کیا ہوا ہوتا ہے۔ اپنی اپنی ذمہ داریاں اور کام پیشہ ورانہ مہارت اور قاعدے کے مطابق، مطابق خوا جمہوری حکومت ہو کہ مارشل لاء ہو۔ نگران حکومت ہو کہ عبوری جاری و ساری رکھتے ہیں۔ یہ ہی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ عوام سے وصول کردہ ٹیکسوں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ عوام کے فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے استعمال کرے۔

دیکھا جائے تو اکثر چوراہوں، سڑکوں وغیرہ پر بڑے بڑے مجسمے، دروازے اور قسم قسم کے ماڈل نصب کر کے خوبصورتی لانے کی کوشش کرتے ہیں جو بری بات نہیں۔ لیکن اصل اور حقیقی ضروریات، مشکلات اور وقت و حالات کے تقاضوں کو نظر انداز کرنا بھی پیسوں کے ضیاع کے علاوہ اخلاقی اور وائیٹ کالر جرم کے زمرہ میں آتا ہے۔ اور اس کا احساس تب ہوتا ہے جب ان کروڑوں کے خوبصورت ڈیزائن کردہ ماڈلز کے نیچے سکول جانے کی عمر کے بچے بڑے بوڑھے مرد و خواتین بیٹھے بھیگ مانگتے ہیں۔ مگر شاید یہ بھی اس پروگرام کا حصہ ہو تاکہ نظر اترتا رہے۔

ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی ایک مضبوط منظم اور مربوط پروگرام کا مرہون منت ہوتا ہے۔ اور ایسے پروگرام کے لیے نہ صرف جامع پالیسی بلکہ یکساں اور حقیقی عوامی فلاحی قوانین کی ضرورت ہوتی ہے۔ دنیا بھر کے دیگر ممالک کی طرح اپنے ملک میں بھی قانون سازی پارلیمان کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اور اس پارلیمان کے لیے عوام جمہوری عمل کے ذریعے اپنے نمائندگان منتخب کر کے بھیجتے ہیں۔ جن کی اولین بلکہ واحد ذمہ داری قانون سازی ہی ہوتی ہے۔

مگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے ان میں آدھے سے بھی زیادہ ممبران اسمبلی نہ تو قانون سازی کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی اس طرف دھیان دیتے ہیں۔ بس کچھ بڑے طبقے سے تعلق رکھنے والے ممبران دوسرے ممبران سے مخصوص طبقہ کے مفاد کے قوانین کے بل لکھوا کے اسمبلی میں پیش کرتے ہیں۔ اور پارٹی ممبران کی تائید حاصل کر کے منظور کراتے ہیں۔ اس سارے عمل میں اکثریت ایسے ممبران کی ہوتی ہے جو یہ تک نہیں جانتے کہ انہوں نے کس قسم کا قانون پاس کیا اور اس کے نتائج کیا ہوں گے۔

اسی وجہ سے تھوک کے حساب سے قانون سازی کے باوجود نہ ملک کی اور نہ قوم کی تقدیر بدلی۔ اور تو اور یہ ممبران ایسے ایسے قوانین کی بھی منظوری دے دیتے ہیں جس سے یہ اپنے مخصوص اختیارات کسی ادارے، محکمے یا بورڈ و کمیشن کو دے دیتے ہیں۔ جو بعد میں اس کو اتنی بے رحمی سے استعمال کرتے ہیں کہ عوام کا جینا دوبر کر دیتے ہیں۔ اور ان عام ممبران کو اس کا ادراک ہی نہیں ہوتا۔ ان کو اس کے بدلے فنڈز، نوکریاں اور دیگر بہت کچھ دیا جاتا ہے۔

جس کو عوام بلکہ منظور نظر لوگوں پر ہی خرچ کرتے اور ان میں بانٹ دیتے ہیں۔ اس طرح پارلیمان جیسی مقدس اور عوام کے حقوق و تقدیر کا محافظ اور ذمہ دار قانون ساز ادارہ عملی طور پر صرف ترقیاتی ادارہ بن جاتا ہے۔ جو حیران کن ہی نہیں فکر اور تشویش کی بات ہے۔ پارلیمان اور اس کے ممبران کے تقدس اور اس کے بنیادی اور خالص مقصد کی سمت لانا وقت کی ضرورت ہے۔ اور پارلیمان میں زمان و مکان کے مطابق حقیقی، مثبت اور کار آمد قانون سازی سے ہی عوام خوشحالی اور ملک ترقی کی جانب گامزن ہو گا۔

Facebook Comments HS