جہنم کے ٹکٹ


جنت میں کون نہیں جانا چاہتا اور جہنم سے کون پناہ نہیں مانگتا! جنت آخر ہمارے باوا آدم کا ترکہ ہی تو ہے! انسان کی بہشت بدری کے بعد زمین پر اس کا پہلا پچھتاوا جنت سے محرومی اور آخری خواہش حصول جنت رہی ہے!

شاعر کی حالت زار اور مخاطب سے ذرا سا دامن
چراتے ہوئے کن اکھیوں سے یہ شعر دیکھئے ؛
سنتے آئے تھے آدم کا خلد سے نکلنا
بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

محبت جب عشق کی منزل پر پہنچ جائے تو جنون طاری کر دیتی ہے۔ عشق و مستی کی کیفیت خدا سے ہم کلامی کا احساس دلاتی ہے۔ اسی خیال کی ترجمانی میں حضرت اقبال خدا سے شکوہ کناں ہوئے ؛

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے، اب میرا انتظار کر

نیکوکاروں کی جنت تو ان کی اپنی نیکیوں کا صلا بتائی گئی ہے، گناہگار بھی اس دوڑ میں خدائے مہربان کی عنایت اور نظر کرم پر آس لگائے بیٹھے ہیں۔ گنہگاروں کی کسمپرسی کا یہ عالم ہے کہ اگر کوئی جنت کی بولی لگائے تو یہ خریدنے میں بھی پل بھر تاسف و تامل نہیں کرتے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان تو قرآن میں موجود ہے کہ اللہ نے مومنین سے ان کی جان و مال جنت کے بدلے میں خرید لیے ہیں لیکن حیران کن معاملہ یہ ہے کہ انسان بھی انسان کے ساتھ جنت کی سودے بازیاں کرتا چلا آیا ہے۔

حال ہی میں افریقہ کے ایک ملک کی خبر نظروں سے گزری جہاں ایک مذہبی رہنما نے فاقہ کشی کو جنت کی قیمت بتایا اور خریداروں نے نسخے پر عمل شروع کر دیا۔ ایک جگہ چار لوگ جان سے گئے اور گیارہ کو تشویشناک حالت میں پولیس نے ہسپتال پہنچایا جب کہ خبر کے مطابق دوسرے مقام پر چھبیس لاشیں برآمد ہوئیں۔ پادری فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

ہمارے ہاں بھی جنت کے تاجروں اور خریداروں کی کمی نہیں۔ حماقت اور جہالت کے کاروبار میں طرح طرح کی اجناس بکتی ہیں۔ افلاس، محرومی، ظلم و جبر کے شکار، شعور سے عاری معاشروں میں زندگی وبال جان اور موت اس عذاب سے نجات دینے والی سب سے بڑی نعمت سمجھی جاتی ہے۔

جس ملک کے حکمران بھی اگر یہ کہیں کہ سکون قبر میں ہی ملے گا تو ان کی عوام کاہے کو پیٹیں۔ جب کہ دوسری طرف حضرات علمائے کرام کے فرمودات کے مطابق قبر سے ہی تو اخروی مشکلات کا آغاز ہونا ہے۔ منکر نکیر کے سوالات نیب کے تفتیشی افسر یا مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے سوالنامے کی طرح آسان نہیں ہوں گے اور نہ ہی نیب کے جیسے قوانین کی طرح جن میں من پسند ترامیم کر کے اپنے لیے نجات کا راستہ بنا لیا جائے۔

ایسے میں حیات کے مارے، موت کے بعد خوشحالی کے خواب دیکھنے والے، جنت کے سوداگروں کا آسان شکار بنتے چلے جاتے ہیں۔

قدیم یورپ، پادریوں کی سوداگری اور لوگوں کی جہالت کے قصے سناتا ہے۔ لوتھر وہاں اگر فکری انقلاب کی داغ بیل نہ ڈالتا تو مغرب کو تاریکیوں سے نکلنے میں مزید صدیاں لگتیں۔ پادریوں، کاہنوں اور راہبوں کی تاجرانہ سرگرمیوں کے خلاف مارٹن لوتھر کی آواز نقارے میں طوطی کی آواز ثابت ہوئی جس سے علم و عقل اور دنیا و مافیا کے عرفان کی راہیں کھلیں جو صنعتی انقلاب تک لے آئیں۔

ان کی تاریخ کا ایک سبق آموز واقعہ ہمارے حسب حال ہے۔ ایک دفعہ ایک پادری نے اعلان کیا کہ اس کے پاس جنت میں داخلے کے ٹکٹ ہیں سو جنت کے خریدار سکہ رائج الوقت کے عوض پہلے آئیے، پہلے پائیے کے اصول پر خریداری کر لیں کیوں کہ ٹکٹوں کی تعداد محدود ہے۔ ( یاد رہے کہ یہ ذخیرہ اندوزوں کی حکمت عملی ہوتی ہے ) پادری کے اعلان کی خبر ملتے ہی لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔ لمبی لمبی لائنیں لگ گئیں۔ بھیڑ اور دھکم پیل میں بہتوں کی جانیں گئیں، کئی زخمی ہوئے اور ایک جم غفیر گھٹن کا شکار ہو گیا۔ (ہمارے ہاں یہ منظر حالیہ سالوں میں آٹے کے حصول میں دنیا نے دیکھا)

افراتفری اور نفسا نفسی کے اس عالم کو ایک عقلمند دیکھتا رہا۔ اس نے لوگوں کو سمجھانے کی بہر طور کوشش کی لیکن کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ ٹکٹ علانیہ طور پر تو محدود تھے پر عملی صورت حال مختلف تھی۔ لامحدود ٹکٹوں کی سیل کئی دنوں تک طویل ہوتی جا رہی تھی۔ درد مند و خرد مند کو بھی سوچنے کا وقت مل گیا۔ وہ اس سوچ میں مگن رہا کہ جہالت کی خرید و فروخت اس تجوری کو کیسے بند کیا جائے؟ لمحۂ فکریہ و المیہ پر صرف ماتم کناں ہونے کے بجائے سد باب کا سوچنے لگا۔ آخر کو ایک ترکیب سوجھی جو کارگر ثابت ہوئی۔

ایک دن مفکر پادری کے پاس گیا اور اس سے جہنم کے ٹکٹ کی خریداری کا مطالبہ کیا۔ پل بھر کے لیے تو پادری چونک سا گیا کہ جہنم کا ٹکٹ! دوسرے ہی لمحے سوداگری کا ایک گر نہاں خانہ دل سے سر کی طرف گیا اور خیال بنا کہ اب کے تو جہنم کے ٹکٹ بھی بکا کریں گے۔ پادری نے کہا جی ہاں جہنم کے ٹکٹ کی قیمت تین سکے۔ عقلمند شخص نے تین سکے دیے جہنم کی رسید مانگی۔ پادری نے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر جہنم کی رسید کاٹ دی۔

مفکر اسے ہاتھ میں لیے سیدھا چوراہے میں جا پہنچا اور لوگوں کو پکار پکار کر کہنے لگا کہ اس نے جہنم خرید لی ہے۔ آج کے بعد کوئی شخص جہنم میں نہیں جائے گا کیوں کہ جہنم کے ٹکٹ اس نے کسی کو دینے نہیں ہیں لہٰذا اب کسی کو جنت کے ٹکٹ خریدنے کی ضرورت نہیں۔ یوں خلق خدا کو نام نہاد نمائندہ خدا کے چنگل سے چھٹکارا مل گیا۔

اس واقعے کی سند یقینی تو نہیں ہے لیکن اعتباری ضرور ہے کیوں کہ زمانہ اس امر پر شاہد ہے کہ آدمی نے اپنی شکم پری کے لیے کیا کیا نہیں بیچا۔ جو پاس تھا وہ تو بیچا ہی، جو نہیں تھا وہ بھی بیچا! المیے پر المیہ یہ ہے کہ خریدار بھی دستیاب رہے اور یہ دھندا علم سے محروم، جہالت میں خود کفیل، پسماندہ و درماندہ معاشروں میں اب بھی جاری و ساری ہے۔

وطن عزیز میں سیاسی دنگل سج چکا ہے۔ انتخابی مہم زوروں پر ہے۔ قیادت سے زیادہ کارکنان سرگرم ہیں۔ حریفوں پر برتری کی خواہش نے بہتوں کی مت مار رکھی ہے۔ عوامی تائید حاصل کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جا رہا۔ جنت میں جانے کی ضمانتیں دی جا رہی ہیں۔ کہیں کہیں جنت کے ٹکٹوں کی باز گشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ کوئی جہنم کا خریدار بھی برآمد ہوتا جو خلق خدا کو اس رزیل دھندے سے نجات دلاتا۔

کاروبار کے معاملے کی سنگینی اور رنگینی کو سامنے رکھتے ہوئے آخری الفاظ یہی ہو سکتے ہیں،
”مشتری ہوشیار باش“

Facebook Comments HS