اچھے ٹائر کا انتخاب اور الیکشن


کسی بھی گاڑی کے لیے اچھی باڈی اور اچھے انجن کے ساتھ ساتھ اچھے ٹائرز بھی یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔ اچھے ٹائرز کی خوبیوں میں سڑک کی مختلف سطحوں پر بہتر گرفت کا ہونا، اور ہر طرح کے موسمی حالات میں گاڑی کو سنبھالے رکھنے کی صلاحیت کا ہونا شامل ہے۔ بہترین ٹائر گاڑی کی ہینڈلنگ کو بہتر بناتے ہیں۔ چاہے سڑک گیلی ہو یا گاڑی تیز رفتاری سے چل رہی ہو اچھے ٹائرز سڑک پر بہتر گرفت کرتے ہیں تاکہ گاڑی کنٹرول نہ کھوئے۔ سڑک گیلی ہو یا خشک، اچھے ٹائر ہر حال میں بہتر موڑ لیتے ہیں، اور آپ کی کار سڑک پر زیادہ محفوظ رہتی ہے۔

ٹائروں کو کتنے میل چلنے کے بعد بدل لینا چاہیے؟ عام طور پر، ہمارے ہاں ٹائر تبدیل کرنے کی فریکوئنسی پانچ سے چھ سال ہے۔ پرانے ٹائر استعمال کے دوران کسی بھی وقت پھٹ سکتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں گاڑی کسی حادثے کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس لئے یہ امر ضروری ہے کہ ٹائرز کی مدت پوری ہونے کے بعد جلد از جلد انہیں بدل لیا جائے۔

ماہرین کے مطابق اگلے ٹائروں کو تبدیل کرنے سے پہلے تقریباً 20,000 میل تک چلنا چاہیے جب کہ پچھلے ٹائر اس سے زیادہ دیر تک چل سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ کی گاڑی اوسطاً 5,000 میل فی سال چلتی ہے تو ٹائر ہر چار سال بعد تبدیل کیا جانا چاہیے۔ اچھے ٹائر ہمیشہ ایک ڈیٹ کوڈ کے ساتھ آتے ہیں۔ یہ ڈیٹ کوڈ آپ کے ٹائر کی سائیڈ پر لکھا ہوتا ہے۔ چار ہندسوں پہ مشتمل یہ کوڈ آپ کو یہ بتاتا ہے کہ یہ ٹائر کب بنا ہے، اور اسے کب تک بدل لینا چاہیے۔

ان چار ہندسوں میں سے پہلے دو ہندسے تیاری کے ہفتے کی نشاندہی کرتے ہیں (جو ”01“ سے ”53“ تک ہے ) ، آخری دو ہندسے تیاری کے سال کی شناخت کرتے ہیں۔ مثلاً اگر ٹائر پہ 3318 لکھا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ ٹائر اگست 2018 کو تیار ہوا تھا، یہ اپنی مدت پوری کر چکا ہے اور اب اسے بدل لینا چاہیے۔

ریاست بھی ایک گاڑی کی طرح ہوتی ہے اور اس کی حکومت ایک انجن اور حکومتی نمائندے پہیوں کی مثال ہیں۔ ایک جمہوری نظام حکومت میں عوام اپنے ووٹ کے ذریعے ایک مخصوص مدت کے بعد نئے ٹائر یعنی حکومت کے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ریاست کی گاڑی کا ہموار اور متوازن طریقے سے چلنے کے لئے ضروری ہے کہ گاڑی کے چاروں ٹائر ایک ہی سائز کے ہوں، ایک ہی کمپنی یا ایک ہی جیسی کمپنیوں کے بنائے گئے ہوں۔

مملکت بے داد کیلاپور میں زیادہ تر ”جنرل“ کا ٹائر چلایا گیا ہے۔ چوں کہ آئین کے تحت حکومتی نظام جمہوری طے کیا گیا ہے اس لیے ہر پانچ سال بعد انتخابات کا انعقاد ہونا ضروری ہے۔ پہلے تو دس دس بارہ بارہ سال کیلاپور میں جنرل کا ٹائر ہی چلتا رہا ہے لیکن اب کوئی پندرہ سال سے یہاں باقاعدہ انتخابات کا ڈرامہ کیا جاتا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ نئے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہوئے وہ ٹائر ڈیٹ کوڈ کو ضرور ذہن میں رکھیں۔ نیا حکومتی ٹائر یعنی قانون ساز نمائندہ منتخب کرتے وقت اس کا بیک گراؤنڈ ضرور ذہن میں ہونا چاہیے۔ ڈیٹ کوڈ کے ساتھ ساتھ اس کا سیاسی پس منظر بھی دیکھنا چاہیے۔ تا کہ اچھے ٹائر منتخب کیے جا سکیں جو امور مملکت کی گاڑی بہتر انداز میں چلا سکیں۔

یاد رہے کھیل کے میدان کے ٹائر صرف گولف کارٹ میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس لئے ہمیشہ صرف عمدہ سیاسی پس منظر والے ٹائرز کا انتخاب کریں، آزاد یا چھوٹی موٹی سیاسی جماعتوں کے جھانسے میں نا آئیں۔ کیلاپوریوں کی کوشش ہونی چاہیے کہ اس دفعہ گاڑی کے چاروں پہیے ایک ہی کمپنی کے ہوں تاکہ ریاست کی گاڑی متوازن طریقے سے چلائی جا سکے۔ یعنی ملک کے تمام علاقوں میں یکساں طریقے سے امور مملکت انجام دیے جاسکیں۔ ورنہ کوئی نا کوئی چھوٹا ٹائر منتخب ہونے کے بعد تنگ کرتا رہتا ہے اور گاڑی توازن کھو بیٹھتی ہے۔

Facebook Comments HS