بھٹو کے خواب کو نیا دوام دو، چنو نئی سوچ کو


جوں جوں انتخابات نزدیک آتے جا رہے ہیں انتخابی رن بھی اسی حساب سے دہکنا شروع ہو گیا ہے۔ ابھی تک کے زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ عوامی حمایت کے لحاظ سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنی دھواں دھار اور جارحانہ انتخابی مہم کی وجہ سے دوسری سیاسی جماعتوں اور قائدین پہ سبقت حاصل کیے ہوئے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے سندھ، کے پی کے اور اب مسلسل پنجاب کے اضلاع میں بڑے بڑے عوامی جلسے کر کے مخالفین کی صفوں کھلبلی مچائی ہوئی ہے۔ بلاول کے پنجاب میں یکے بعد دیگرے کامیاب اور بڑے عوامی اجتماعات نے جہاں پیپلز پارٹی کی انتخابی پوزیشن کو بہت مستحکم بنا دیا ہے وہیں پنجاب میں، خصوصاً وسطی پنجاب اور لاہور کے جیالوں کو نیا جوش اور ولولہ عطا کیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ سے پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کا باضابطہ آغاز تو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی سولہویں برسی پہ جلسہ عام منعقد کر کے کیا مگر وہ انتخابی شیڈول کے اعلان سے بھی کئی ہفتے قبل ہی اپنی پارٹی کی انتخابی مہم شروع کر چکے تھے۔ بلاول بھٹو اپنی انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ نون اور ان کی قیادت کو سخت ہدف تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ نون سے سیاسی مفاہمت کی بھاری قیمت وہ پنجاب سے پیپلز پارٹی کی بے دخلی کی صورت ادا کرچکے ہیں اب اس سیاسی نقصان کو بھرنے کا وقت آ چکا ہے اور مسلم لیگ نون کے سخت حریف کی صورت میں ہی پیپلز پارٹی کو پنجاب میں دوبارہ اپنے پیروں پہ کھڑا کیا جا سکتا ہے، پارٹی کے روٹھے جیالے اور ووٹر کو پارٹی کی جانب ایک بار پھر راغب کیا جا سکتا ہے۔ شہید بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد منعقد ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے پنجاب میں ایک بار پھر خاطر خواہ کامیابی حاصل کی مگر پھر وہی ”مفاہمت“ اور ایک بار پھر پیپلز پارٹی پنجاب میں گہری دھند میں کہیں کھو سی گئی۔

اس بار پیپلز پارٹی قیادت نے فیصلہ کیا کہ ایک تو وہ اپنی مفاہمتی سیاست پہ خصوصاً نون لیگ کے ساتھ نظرثانی کرے گی بلکہ تنظیمی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پنجاب کے دل لاہور سے انتخاب لڑیں گے اور پارلیمانی پیپلز پارٹی کے صدر محترم آصف علی زرداری پنجاب، کے پی کے، بلوچستان میں اپنے تدبر اور تدبیر سے پارٹی کے لیے سیاسی میدان کو آسان بنائیں گے۔ اب تک کی انتخابی صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی قیادت اب تک اپنی حکمت عملی میں خاصی حد تک کامیاب جا رہی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی ایک طرف بہت ہی جارحانہ اور تگڑی انتخابی مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ پاکستان کے بڑے بڑے نامور صحافی و سیاسی تجزیہ نگار اور ماضی میں پیپلز پارٹی کے سخت نقاد بھی بلاول بھٹو زرداری کی جاندار اور جارحانہ انتخابی مہم کو پنجاب میں پیپلز پارٹی کی واپسی قرار دے رہے ہیں۔ لاہور میں جہاں سے شہید بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے انتخابات میں کامیابیاں حاصل کی تھیں اسی حلقے سے بلاول خود انتخابات میں حصہ لے کر مسلم لیگ نون کے لیے سخت چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

اب تک کی عوامی آراء کے مطابق بلاول بھٹو اپنے لیگی حریف کو بری طرح سے پچھاڑتے نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف لاہور کے دیگر انتخابی حلقوں میں بھی پیپلز پارٹی کی پوزیشن خاصی بہتر نظر آتی ہے۔ اگر ہم وسطی پنجاب کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں تو اس وقت بھی تحریک انصاف اپنا انتخابی نشان کھونے کے باوجود مسلم لیگ نون سے بہتر پوزیشن میں ہے جبکہ پیپلز پارٹی کا کڑا چیلنج بھی میاں صاحب کے چوتھی بار وزیراعظم بننے کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

جنوبی پنجاب میں ایک طرف سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی تو دوسری طرف سابق گورنر سید احمد محمود اپنی موثر انتخابی حکمت عملی اور طاقتور با اثر سیاسی عمائدین کی حمایت حاصل کر کے پیپلز پارٹی کی کامیابی کی راہیں ہموار کر رہے ہیں۔ اگر بلوچستان کی سیاسی صورتحال پہ نظر دوڑائیں تو الیکٹبلز کی ایک بڑی تعداد پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پہ انتخابات میں حصہ لے رہی ہے، اور اب تک کے انتخابی جائزوں کے مطابق بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی قیادت میں حکومت بنتی دکھائی دے رہی ہے۔

دوسری طرف خیبرپختونخوا میں آج بھی شدید مشکلات کے باوجود تحریک انصاف اپنے تمام سیاسی مخالفین پہ سبقت حاصل کیے ہوئے ہے، تو وہیں پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی بھی ماضی کے مقابلے میں نہ صرف بہت بہتر اور منظم انتخابی مہم چلا رہی ہیں بلکہ نشستیں جیتنے والے مضبوط امیدوار بھی میدان میں اتارے ہوئے ہیں۔ کے پی کے میں انتہائی مضبوط جڑیں رکھنے والی جے یو آئی ف ابھی تک اپنے ماضی کے روایتی اور بڑے بڑے عوامی جلسے کرتی اور انتخابی مہم چلاتی نظر نہیں آتی مگر مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی سمیت نون لیگ بھی کے پی کے میں اچھا خاصا ووٹ بینک رکھتی ہیں تو اس بار خیبرپختونخوا میں انتخابی نتائج بہت سرپرائزنگ بھی ہو سکتے ہیں۔

سندھ میں سیاسی صورتحال بہت واضح ہے، وہاں سوائے کراچی، حیدرآباد اور ضلع سانگھڑ کی ایک قومی اور دو صوبائی نشستوں کے انتخابی میدان میں پیپلز پارٹی مخالفین دور دور تک نظر نہیں آ رہے۔ ملک کی بڑی جماعتوں خاص طور پہ مسلم لیگ نون کے پاس کراچی کے دو چار حلقوں کے سوا امیدوار ہی میسر نہیں ہیں۔ ان کے نئے صوبائی صدر اپنے آبائی شہر سے یونین کونسل جیتنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے۔ کراچی میں پیپلز پارٹی، منتشر اور بکھری ایم کیو ایم پاکستان، جماعت اسلامی کے علاوہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تحریک انصاف سے نبرد آزما ہے۔

آج بھی کراچی اور حیدرآباد کے شہری حلقوں میں ایم کیو ایم سے زیادہ تحریک انصاف کے لیے حمایت موجود ہے۔ کراچی کی بائیس نشستوں میں سے کون سی جماعت سبقت حاصل کرتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر بہتر امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارنے اور چیئرمین بلاول کی زور دار اور پراثر انتخابی مہم نے پیپلز پارٹی کے اکثر امیدواروں کی سیاسی پوزیشن کو خاصہ مستحکم بنا دیا ہے۔

آٹھ فروری کے انتخابات میں مسلم لیگ نون ابھی تک اپنے انتخابی منشور کو لے کر عوام میں نہیں جا سکی ہے۔ وہ ابھی تک وسطی پنجاب کے کچھ اضلاع اور مانسہرہ میں ہی انتخابی جلسے کر سکی ہے، جبکہ بلاول بھٹو اپنا دس نکاتی منشور لے کر شہر شہر عوام سے رابطوں میں مصروف ہیں اور ایک انتہائی بھرپور اور موثر انتخابی مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ انہوں نے لاہور میں ایک بہت بڑا جلسہ منعقد کر کے نون لیگ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ پیپلز پارٹی لاہور کی قیادت، پارٹی سے روٹھے جیالے، نون لیگ سے نالاں زندہ دلان لاہور اور مسیحی اقلیت کی بہت بڑی تعداد نے مل کر لاہور کو مسلم لیگ نون کے لیے لاڑکانہ بنایا ہوا ہے تو رہی سہی کثر تحریک انصاف کے ٹائیگروں نے پوری کر دی ہے۔

اگر آٹھ فروری کے انتخابات میں کسی خلائی مخلوق کی مداخلت نہ ہوئی، کسی نے جسٹس ثاقب نثار بننے کی کوشش نہ کی، کوئی آر ٹی ایس نہ بٹھایا گیا، عوام کو آزادانہ منصفانہ طور پر اپنے نمائندے چننے کا موقع فراہم کیا گیا تو یہ انتخابات مسلم لیگ نون اور ان کے اتحادیوں کے لیے بہت ہی ڈراونا خواب ثابت ہوں گے۔

Facebook Comments HS