زاہد نگاہ کم سے کسی رند کو نہ دیکھ
ایک دن میں میجر صاحب کے ساتھ ان کے گھر کے لان میں بیٹھا ہوا تھا ان کے ایک دوست میجر اقبال بھی موجود تھے۔ سردیوں کے موسم میں دھوپ کا مزہ لیتے ہوئے ہلکی پھلکی گپ شپ لگا رہے تھے کہ دروازے کی گھنٹی بجی میں نے اٹھ کر گیٹ کھولا تو باہر ایک مفلوک الحال سے شخص کو موجود پایا۔ استفسار پر اس نے بتایا کہ اس کا نام منگا مسیح ہے اور وہ سیالکوٹ سے میجر صاحب سے ملنے کے لیے آیا ہے۔ مجھے اس کا اس طرح سے بے وقت آنا ناگوار سا لگا۔
گو مگو کی سی کیفیت میں اندر آ کر میجر صاحب کو اس کی آمد کے متعلق بتایا۔ پہلے تو مجھے گھورا کہ اس قدر دوری سے آنے والے ملاقاتی کو دروازے پر کیوں کھڑا رہنے دیا۔ گھر میں اندر کیوں نہیں لے کر آئے۔ یاد رہے کہ اس وقت ہم ملتان کینٹ میں میجر صاحب کے پاس موجود تھے۔ اس کے بعد وہ تیزی سے اٹھے اور باہر چلے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد ہی منگے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بڑی ہی خوش مزاجی کے ساتھ اس سے باتیں کرتے ہوئے ساتھ لاکر پہلے سے وہاں پر موجود ایک خالی کرسی پر بٹھا دیا اور میز پر پڑے ہوئے جگ سے گلاس میں پانی ڈال کر منگے کو پیش کر دیا اور منگے نے پانی پی کر گلاس واپس میز پر رکھ دیا۔
اب میں ایک عام مسلمان کی طرح سوچ رہا تھا کہ یہ گلاس تو پلید ہو گیا ہے۔ اب کیا میجر صاحب اس کو باقی برتنوں سے علیحدہ رکھیں گے اور بعد میں اسے توڑ کر باہر پھینک دیں گے۔ تاکہ گھر کے باقی برتنوں کو اس کے ساتھ چھو جانے کی صورت میں ناپاک ہونے سے بچایا جا سکے میں ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ اندر سے جائے اور اس کے ساتھ کچھ اور لوازمات آ گئے۔ میجر صاحب نے سب کو ایک ایک پلیٹ اور ایک ایک چمچ دیا اور لوازمات والی ٹرے اٹھا کر سب کے سامنے باری باری کرتے گئے۔
ہر ایک نے اپنی مرضی اور منشا کے مطابق وہاں پر موجود اشیائے خوردنی کو اپنی اپنی پلیٹ میں ڈالا اور کھانا شروع کر دیا۔ اس کے بعد کپوں میں چائے بنا کر بلا کسی تخصیص اور امتیاز کے ہر ایک کو پیش کر دی۔ اس دوران میری سوئی وہیں پر اٹکی رہی کہ منگا مسیح کے استعمال شدہ برتنوں کو میجر صاحب اب باقی ماندہ برتنوں سے کس طرح الگ کریں گے۔ لیکن ان کے رویے سے اس معاملے میں کسی بھی قسم کے رد عمل کا اظہار بالکل بھی نہیں ہو رہا تھا۔
خالی ہونے پر تمام برتن اکٹھے کر کے اندر بھجوا دیے گئے۔ اس کے بعد میجر صاحب نے اس سے پوچھا کہ کیسے آنا ہوا اس نے بتایا کہ ملتان میں میرے رشتہ دار رہتے ہیں اور ان کی ایک بچی کو فوجی فاؤنڈیشن کے تحت کرائے جانے والے کورس میں داخل کروانا ہے۔ میجر صاحب نے اسے تسلی دی کہ یہ تو کوئی بات نہیں ہم تو داخلے کے لیے بچیوں کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ اب تم اتنی دور سے آئے ہو دو تین دن میرے پاس رہو۔ ملتان میں گھومو پھرو سیر سپاٹا کرو۔ اس کے بعد واپس چلے جانا لیکن اس نے کہا کہ رات وہ اپنے رشتہ داروں کے پاس رہے گا اور صبح بچی کو لے کر دفتر حاضر ہو جائے گا اور وہ بڑا مطمئن اور خوش خوش واپس چلا گیا۔
لیکن میرے ذہن کے کسی نہ کسی گوشے میں یہ خیال موجود رہا کہ میجر صاحب کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ انہیں ناپاک برتنوں کو باقی برتنوں سے الگ رکھ کر انہیں توڑ دینا چاہیے تھا تا کہ باقی برتن ناپاک ہونے سے بچ جاتے۔ لیکن رات گئی بات گئی اس بات کو ایک عرصہ گزر گیا۔ ایک دن میں محلے کی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے گیا تو وہاں جوتوں کے اوپر ایک مسکین سے شخص کو بیٹھے ہوئے پایا۔ دل کو بڑی تکلیف ہوئی ایک تو جی میں آیا کہ اسے وہاں سے اٹھا کر مسجد کے اندر صف کے اوپر بٹھا دوں لیکن مسجد کے معاملات میں دخل در معقولات کے اندیشے کے پیش نظر اپنے اس ارادے سے باز رہا۔
ابھی میں وضو کر ہی رہا تھا کہ پیش امام تشریف لے آئے اور انہوں نے آتے ہی اس غریب پر چڑھائی کر دی تم دھوکے باز، فراڈیے ہو، جھوٹے ہو، لالچی ہو مسلمان ہونے کے بعد تم لوگ مسلمانوں سے مدد کے نام پر پیسے بٹورتے ہو۔ تمہارا قبول اسلام محض تصنع بناوٹ اور دکھا وا سے اندر سے تم عیسائی ہی رہتے ہو۔ وہ شخص مولوی صاحب کی منتیں ہی کیے جا رہا تھا کہ اسے کلمہ پڑھوا کر مسلمان کر لیں۔ لیکن مولوی صاحب اسے بڑی سختی اور ترش روئی سے مسلسل ڈانٹتے جا رہے تھے۔
مجھے یہ تو علم نہیں ہے کہ اس بے چارے کے ساتھ بعد میں مولوی صاحب نے کیا سلوک کیا مسلمان کیا یا اپنی ضد پر ہی مصر رہے۔ لیکن اس کے ساتھ مولوی صاحب کا رویہ میرے لیے بہت ہی تکلیف دہ تھا۔ پھر نہ جانے کیوں میرا دھیان میجر صاحب کے منگے مسیح کے ساتھ کیے گئے حسن سلوک کی جانب چلا گیا۔ میں نے دونوں کا تقابلی جائزہ لیا۔ مولوی صاحب قرآن، حدیث، فقہ اور دیگر اسلامی علوم کے ماہر اور انہی کی روشنی میں عوام الناس کو وعظ و نصیحت کرنے والے، صوم و صلٰوۃ پر سختی سے پابندی کرنے والے بلکہ پانچوں نمازوں کی امامت کرنے والے اسلامی شعائر کے مطابق زندگی گزارنے والے تھے۔
بلکہ میجر صاحب کا دینی علم اور اسلامی شعائر پر پابندی دونوں ہی واجبی سے تھے۔ لیکن اس تفاوت کے باوجود میجر صاحب کا اپنے عیسائی ملاقاتی کے ساتھ رویہ مولوی صاحب کے رویے کی نسبت مجھے کہیں زیادہ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق لگا۔ ان دو واقعات نے میرا طرز فکر بالکل ہی تبدیل کر دیا اور اس کے ساتھ ساتھ طرز عمل میں بھی تبدیلی آتی چلی گئی۔ میرے دفتر میں ایک اے ڈی نامی کرسچن ملازم تھا۔ میں نے اسے کبھی اپنے کھانے پینے کے برتنوں کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں دی تھی۔
اگلے دن ہی میں دفتر جا کر بیٹھا تو وہ دفتر میں موجود تھا۔ میں نے اسے بڑی نرمی اور محبت سے کہا کہ اے ڈی مجھے پانی تو پلاؤ۔ وہ بے چارا یہ سن کر بڑا پریشان ہوا اور باہر کی طرف چل پڑا میں نے پوچھا کہاں جا رہے ہو۔ بولا اقبال کو بلانے جا رہا ہوں تاکہ وہ آپ کو پانی پلا دے میں نے تھوڑا سا ڈانٹتے ہوئے اسے کہا کہ میں نے پانی پلانے کے لیے تمہیں کہا ہے اقبال کو نہیں۔ بہر حال اس نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے پانی کا گلاس مجھے لاکر دیا جو میں نے بلا جھجک پی لیا۔
اس کے بعد میرا معمول بن گیا پانی پینے کے لیے ہمیشہ اے ڈی کو ہی کہتا۔ میرے ہم کار ساتھیوں نے پہلے پہلے تو اس بات کا برا منایا اور بعض لوگوں کو اس کے متعلق اعتراضات اور تحفظات بھی تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ تقریباً تمام ساتھیوں نے اے ڈی کے ہاتھ سے لے کر کھانے پینے پر لگائی گئی خود ساختہ پابندی کو ختم کر دیا۔ مجھے یہ تو علم نہیں ہے کہ شرعی لحاظ سے میری یہ حرکت کس حد تک درست تھی۔ لیکن مجھے پانی پلاتے وقت اے ڈی کے چہرے پر پھیلا ہوا احساس مساوات کا تفاخر اور عزت افزائی کی روشنی میرے لیے ایک اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے اور یہی میرا زاد راہ بھی ہے۔


