ایرانی صوبے اردبیل کی سیاحت


muhammad taqi kuldan

13 جولائی 2023 کی صبح تقریباً ساڑھے نو بجے روستا آسالم سے ایرانی صوبہ اردبیل کے لئے سفر کا آغاز کیا۔ آسالم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہے۔ انسان اپنے اردگرد سبزہ دیکھ کر ایک عجیب سرشاری میں مبتلا ہوتا ہے۔ موسم کی خوشگواری اس کیفیت میں مزید سرشاری کی موجب بنتی ہے۔ اس سبزے میں مویشی چر رہے تھے، حد نگاہ تک سبزہ ہی سبزہ تھا۔

اردبیل جاتے ہوئے ہم ایران اور آذربائیجان کے باڈر ایریا سے گزرے۔ آذربائجان کی طرف گولیوں کی سنسناہٹ آواز آ رہی تھی۔ میں نے جب ان گولیوں کی آواز کے متعلق کسی مقامی آدمی سے پوچھا، جو بالکل ایران کی طرف کے بارڈر میں ایک بڑے سنگترے کے باغ میں تازہ سنگترہ فروخت کرہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر کے اس طرف ایک بہت بڑے فوجی کیمپ ہے۔ جہاں پر اس وقت فوجی مشق جاری ہے۔ ایران اور آذربائیجان کے بارڈر خاردار تاروں سے الگ کیا گیا تھا پورے۔

سرحد کی دونوں جانب حد نگاہ سبزہ ہی سبزہ تھا۔ آذربائیجان کی سرزمین کو بھی دور سے ہم نے دیکھا، پہاڑوں کے اوپر ہر طرف ہریالی تھی۔ جب آپ شمال سے اردبیل کی جانب رواں ہوں گے ، آپ سڑک کے کنارے کچھ لوگ پھل فروخت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ پھل شاید ان ہی علاقوں کی پیداوار ہیں۔ یہ بیر جیسے ہیں، لیکن بہت کھٹے ہیں۔ ہم نے یہ پھل بیر سمجھ کر خریدے، لیکن ان کا ذائقہ بہت زیادہ ترش تھا۔ اردبیل پہنچنے میں ابھی بہت وقت تھا۔ اور دوپہر ہو چکا تھا۔ ہمارے پاس کھانے پکانے کے لوازمات موجود تھے۔ ایک جگہ سڑک کے کنارے ہم رک گئے۔ سفر میں جاتے ہوئے بہت ساری گاڑیاں رکی ہوئی تھیں۔

ہم نے کھانے بنانے کے لئے اپنے برتن اور کھانے کے اجناس، پکنکی گاز نکالا اور کھانا بنانے لگے۔ ہمارے دونوں طرف چھوٹی، چھوٹی ٹولیوں میں خاندان کھانا پکا کر پکنک منا رہے تھے۔ چنانچہ ہم بھی کھانا بنانے لگے۔ سڑک پر بڑی چھوٹی گاڑیوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔

ایران میں لوگ زیادہ سفر کرتے ہوئے کھانا بنانے سامان اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ جیسے ہی کھانے کا وقت ہوتاہے، اپنی گاڑی مناسب جگہ پر روک کر کھانا بناتے ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر کوئلوں پر مرغی کے کباب بناتے ہیں۔

کھانا کھانے سے فارغ ہو کر ہم نے پھر اردبیل کی طرف سفر شروع کیا۔ جیسے جیسے اردبیل کی جانب آگے بڑھنے لگے موسم مزید سرد ہوتا گیا۔ لوگ بھی بدلے بدلے ملے۔

صوبہ اردبیل سرسبز و شاداب وادیوں سے بھرا ہے یہاں ایران سمیت مختلف ممالک سے سیاح موسم گرما ہو یا خزاں یا سرما یہاں سیر کرنے آتے ہیں اور اردبیل کے خوبصورت شہروں اور دیہاتوں کے فطری حسن سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ویلکیج نامی گاؤں شمالی مشرقی اردبیل میں واقع ہے۔ قدرتی حسن کی وجہ سے سالانہ ہزاروں سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے، یہ علاقہ پہاڑوں، ٹیلوں اور سرسبز و شاداب درختوں سے بھرا ہوا ہے۔

یہاں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ویلکیج کا معنی پہاڑوں میں گھیرے ہوئے شہر کو کہتے ہیں چونکہ یہ پورا علاقہ کوہستانی ہے اس لئے اس کو ویلکیج کہا جاتا ہے۔ اردبیل صوبے کی ایک اہم بات یہ ہے کہ یہاں کئی خوبصورت وادیاں ہیں، یہاں کے لوگ خوش مزاج اور مہمان نوازی میں کافی مشہور ہیں۔ اگرچہ ان علاقوں کے ناموں کے متعلق واضح تاریخی وجوہات تو دستیاب نہیں لیکن یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ نہایت مہمان نواز ہیں۔ ان علاقوں میں قدرتی آبشاروں، ہرے بھرے درختوں اور بلند پہاڑوں کی کثرت ہے اور کئی تاریخی مقامات بھی واقع ہیں۔

واضح رہے کہ صوبہ اردبیل ایران کا شمال مغربی صوبہ ہے جس کا رقبہ 17,800 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ علاقہ آذری لوگوں یا آذربائجان کی زبان بولنے والوں سے آباد ہے۔

تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے بھی صوبہ آذربائجان سے بہت قریب ہے۔ اردبیل کی سرحدیں مملکت آذربائجان اور ایرانی صوبہ آذربائجان شرقی، صوبہ زنجان اور صوبہ گیلان سے ملتی ہیں۔ صوبائی مرکز یا صدر مقام اردبیل ہے یاد رہے کہ اردبیل کو 1993 ء میں مشرقی آذربائیجان صوبے کو تقسیم کر کے الگ صوبے کا درجہ دیا گیا تھا۔

موسم کے لحاظ سے یہ صوبہ ایران کے خوشگوار ٹھنڈے علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 درجہ سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے اور یہ صوبہ گرمیوں کے موسم میں ایرانی اور غیر ملکی سیاحوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ سردی کا موسم زیادہ سرد ہوتا ہے جہاں درجہ حرارت منفی 25 درجہ سینٹی گریڈ تک بھی گر جاتا ہے۔

صوبائی صدر مقام اردبیل کے علاوہ صوبہ کے دیگر اہم شہروں میں پارس‌آباد، خلخال، مشگین ‌شھر شامل ہیں۔

13 جولائی جو ہمارے ہاں گرم موسم کا جوبن ہوتا ہے۔ جب ہم نے صوبہ گیلان سے اردبیل کا سفر کیا، شام کے وقت ہم اردبیل شہر پہنچے۔ ایران کے تمام شہروں کی طرح یہ بھی ایک خوبصورت اور صاف ستھرا شہر تھا۔ اردبیل کا موسم صوبہ گیلان کے مقابلے میں زیادہ سرد تھا۔ ہم نے چونکہ گرم کپڑے نہیں پہنے تھے، سردی ہمیں لگ رہی تھی۔ ایک آبشار سے پانی آ رہا تھا۔ یہ پانی قدرتی طور پر گرم تھا۔ لوگ ٹکٹ لے کر اس گرم پانی سے نہا رہے تھے۔

جب ہم لوگ ٹکٹ لینے گئے، ٹکٹ دینے والے بوڑھے شخص نے ہمیں نہانے کا خاص ڈریس لانے کو کہا۔ جو کہ ہمارے پاس موجود نہیں تھا۔ جب ہم نے اس بوڑھے شخص سے پوچھا کہ اس گرم پانی کی کیا افادیت ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ یہ گرم پانی ایک علاج ہے۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ لوگ ایسے ہی باتیں کرتے ہیں۔ چونکہ یہ علاقہ سرد ہے، محض لوگ گرم پانی سے نہا کر محظوظ ہوتے ہیں۔

چونکہ موسم میں خنکی تھی ہم نے گرم تالاب میں نہانے سے گریز کیا۔

اردبیل میں گھوڑوں کی بہتات تھی۔ ہم نے بہت سارے لوگوں کو گھوڑوں کے ساتھ دیکھا۔ یہاں کے گھوڑے فربہ اور خوبصورت تھے۔

اردبیل کے اونٹ ہمارے علاقوں کے اونٹوں سے مختلف ہیں۔ ان کے کوہان دو ہیں۔ اس قسم کے اونٹ ہم نے پہلی مرتبہ دیکھے تھے۔ رات کو ہمیں اردبیل ٹھرنا تھا۔ لیکن باہمی مشورے سے ہم نے واپس صوبہ گیلان جانے کا پروگرام بنایا۔ اور اردبیل سے واپسی کا سفر شروع کیا۔

13 جولائی کی شام کو اردبیل سے واپس صوبہ گیلان کا سفر شروع کیا۔ اردبیل اور گیلان کے درمیان اچھا خاصا فاصلہ تھا۔ رات گئے ہم صوبہ گیلان میں آستارہ کے مقام پر پہنچے۔ آستارہ سے پہلے ہم نے مختلف دیہاتوں میں رات بسیرا کرنے کے لئے مناسب گھر ڈھونڈا۔ ایران میں ٹورسٹ ہوٹل سے زیادہ گھر میں رہنے کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ دیہاتوں میں لوگ اپنے گھروں کو کرایہ پر دیتے ہیں، اور خود ایک رات کے لئے اپنے رشتے داروں کے ہاں ٹھہرتے ہیں۔

چونکہ ایران میں جوڑے دو ہی بچوں سے آگے اپنے فیملی نہیں بڑھاتے ان کے لئے اپنے گھر کو ایک رات کے لئے خالی کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ بعض اس نیت سے گھر بناتے ہیں کہ لوگ آ کر ٹھہریں ان کے لئے ایک اضافی آمدنی کا ذریعہ بنتا ہے۔ ہوٹل کے مقابلے میں گھروں کا کرایہ مناسب ہے۔ ہر گھر میں باورچی خانہ اور اس میں کھانے بنانے کے سارے سامان موجود ہوتا ہے۔ کھانے کی ٹیبل، چمچے پلیٹیں سب موجود ہوتے ہیں۔ دیہاتوں میں یہ چھوٹے گھر لوگوں کے آمدنی کا سبب ہیں۔

البتہ بہتر جگہ ڈھونڈنے میں دقت ہوتی ہے۔ چونکہ ہمیں مناسب رہائشی جگہ نہیں ملی، اس لیے ہمیں رات گئے اس طرح آنا پڑا۔ آستارہ میں جو گھر ہم نے ایک رات رہائش کے لئے منتخب کیا۔ وہ گھر شاندار تھا۔ اس میں موجود فرنیچر، آتش دان، بہت خوبصورت بنے ہوئے تھے۔ آستارہ میں رات بھر وقفے وقفے سے ہلکی بارش ہوتی رہی۔ ہم لوگ سارا دن سفر میں تھے۔ ہمارے ساتھیوں نے اس گھر میں مختلف کمروں میں اپنے آرام کے لئے جگہ منتخب کیں ۔ ہم سب تھکاوٹ سے چور تھے۔ اور جلدی جلدی اپنے اپنے بستروں میں گھس گئے۔

آستارہ میں ہم صبح دیر سے اٹھے۔ اٹھنے کے بعد تازہ دم ہوچکے تھے۔ لذیذ ناشتہ کے بعد ہم آستارہ میں گھومنے چلے گئے۔ سب سے پہلے ہم ایک جھیل دیکھنے گئے۔ جھیل میں اسپیڈ بوٹ لوگوں کو جھیل کے سیر کرا رہے تھے۔ یہ منظر دلفریب تھا۔ دل چاہتا تھا کہ اس جنت نظیر جھیل کو دیکھتے رہیں۔ ارد گرد کا سبزہ اور برسات اس منظر کو مزید دلکش بنا رہا تھا۔

آستارہ شہر ملک آذربائیجان کے بالکل بارڈر پر ہے۔ صوبہ گیلان کا یہ شہر اپنی محل وقوع، موسم، ہریالی، اور مختلف دلکش پوائنٹ کی وجہ سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ آستارہ ایرانی اور ملک کے باہر سیاح آتے رہتے ہیں۔

آذربائیجان کے قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کی مادری زبان آذربائیجانی ہے۔ 60 فیصد لوگ آذری بولتے ہیں۔ 25 فیصد کی زبان فارسی اور 15 فیصد لوگ تالشی بولتے ہیں۔

آستارہ میں اعلی کوالٹی کا چاول کاشت کیا جاتا ہے۔

آستارہ سے ہمارا پروگرام صوبہ مازندران جانے کا تھا۔ چنانچہ ہم آستارہ سے مازندران کی جانب رواں ہوئے۔ ایرانی شمال کو مختلف صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں مازندران ایک سر سبز اور پہاڑوں سے گھیرا علاقہ ہے۔ مازندران میں بہت سے قدرتی آبشار ہیں۔ ان آبشاروں کا پانی شفاف، میٹھا اور برف جیسا سرد ہوتا ہے۔ صوبہ گیلان کے مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے ہم صوبہ مازندران کے دارالحکومت ساری گئے۔ راستے میں ہم ایک پہاڑ کے قریب رک گئے۔

ہمارے پاس کھانا بنانے کے تمام لوازمات موجود تھے۔ ہم نے کھانا بنایا، کھانا کھانے کے بعد تازہ دم ہو کر مزید آگے جانب سفر جاری رکھا۔ مزندران میں ہمیں عباس آباد جانا تھا۔ جہاں پر ہمارے ساتھیوں کے ایک جاننے والے کا ایک بنگلہ نما گھر تھا۔ مازندران کے مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے رات گئے عباس آباد میں پہنچے۔ عباس آباد میں لوگ مازندرانی اور فارسی زبان میں بات کرتے ہیں۔ لوگ اعلی اخلاق کے مالک ہیں۔ ایران میں ایک چیز میرے مشاہدہ یہ آئی ہے کہ شہری یا دیہی علاقوں میں زیادہ تر لوگ پڑھے لکھے اور مہذب ہیں۔ اور صفائی کا بہت زیادہ ہی خیال رکھتے ہیں۔ آشکال دان جسے ہم ڈسٹ بن کہتے ہیں جگہ جگہ موجود ہیں۔ عباس آباد میں اپنے رہائش گاہ تک پہنچتے پہنچتے رات ہو گئی۔ راستے میں کچھ عورتیں تندوروں سے تازہ روٹی بنا رہی تھیں۔ ہم نے گرم گرم روٹی لے کر تناول کی جو نہایت ہی لذیذ تھی۔ یہ مخصوص روٹی اس علاقے کی سوغات ہیں۔

آج کی رات جس بنگلہ نما گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ یہ ایک شاندار گھر تھا۔ صحن میں ایک بہت بڑا سوئمنگ پول تھا۔ گھر دو منزلہ اور خوبصورت تھا۔ گراؤنڈ فلور میں دو کمرے ایک بڑا ہال، خوبصورت کچن تھا۔ ہم نے عباس آتے ہوئے کافی فاصلہ طے کیا تھا۔ سب تھکے ہوئے تھے، رات کھانا کھا کر ہم آرام کرنے کے لئے اپنے بستروں میں چلے گئے۔

ایرانی شمالی صوبہ مازندران کیپسئین کے ساحلوں پر آباد ایک سرسبز اور صحت افزا مقام ہے۔ 1596 ء سے قبل یہ علاقہ طبرستان کہلاتا تھا۔ ساری شہر مازندران کا دارالخلافہ ہے۔ مازندران کا حدود اربعہ یوں ہے کہ شمال میں بحیرہ کیپسین، جنوب میں صوبہ تہران اور صوبہ سمنان واقع ہیں۔ اس کے مغرب میں گیلان اور مشرق میں گلستان کے صوبے واقع ہیں۔

مازندران میں بہت سارے شہر اور دیہات ہیں۔

عباس آباد میں رات کو ٹھہرنے کے بعد صبح ہم نے مازندران کے مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے رامسر میں ایک آبشار دیکھنے گئے

اس آبشار کا نام آبشار جواہر تھا۔ یہ قدرت کا شاہکار تھی۔ جولائی کے ماہ میں اس طرح کا سرد پانی کا تصور محال تھا۔ ہم نے اس آبشار میں کھڑے ہو کر دور سے آنے والے پانی کے دباؤ کا لطف اٹھایا۔ ہم میں سے کسی کو یہ جرات نہیں ہوئی کہ ہم اس پانی سے نہائیں، کیونکہ پانی برف کی مانند ٹھنڈا تھا۔ دور سے آنے والے اس پانی کے کنارے لوگ پکنک منا رہے تھے۔ ہم نے بھی اپنے پکنک کے لوازمات نکالے، اور ہم میں سے کچھ لوگ کھانا بنانے لگے۔ آبشار جواہر کا پانی ایک موسیقیائی شور کر رہا تھا۔ اس کے کنارے موجود ہر فرد لطف اندوز ہو رہا تھا۔

شام کو ہمیں کلار دشت جانا تھا۔ ہمارے ایک اور جاننے والے کا گھر کلار دشت میں تھا۔ کلاردشت میں مازندران کا ایک شہر تھا۔ کلار دشت چالوس شہر سے 48 کلومیٹر اور تہران سے 130 اور کراج سے 160 کلومیٹر کے دوری پر ہے۔

کلار دشت شہر کے پانچ اضلاع ہیں
لاہو، حسانکیف، روبرک، وولوال، اور کر دچال۔
ہم شام گئے کلار دشت کے لئے روانہ ہوئے۔

عشاء کے بعد ہم کلار دشت کے ایک دیہات رود بارک میں پہنچے۔ یہاں ہمارے ایک اور جاننے والے کا ولا تھا۔ یہ ولا بھی خوبصورت تھا۔ ہمیں صبح ایک دوست کے پاس جانا تھا۔ جو مازندران میں ایک اور دیہات میں رہتا تھا۔ مازندران میں پہلی مرتبہ ایک مقامی رہنے والے کا ہم مہمان بن رہے تھے۔ جس کا مجھے شدت سے انتظار تھا۔ مجھے مازندران کے لوگوں کا کلچر اور بود باش کا مشاہدہ ایک مقامی مازندارانی کے ہاں دیکھنا تھا۔ یحییٰ حسینی جو ہمارے مازندران کا میزبان تھا، خود صبح بنفس نفیس ہم سے ملنے آ رہا تھا۔ اور ہمیں ساتھ لے کر اپنے گاؤں لے جانے والا تھا ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments