مشرق کی وینس مدھو بالا
’مشرق کی وینس‘ کہلائی جانے والی مدھوبالا کا پیدائشی نام، ممتاز جہاں بیگم دہلوی تھا اور وہ ”یوم محبت“ یعنی ویلنٹائن ڈے کو 1933 ء میں پیدا ہوئیں۔
”تھیٹر آرٹ“ نامی جریدے نے 1952 ء میں انہیں ’دنیا کا سب سے روشن ستارہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جی نہیں، یہ ستارہ بیورلی ہلز میں نہیں رہتا۔ (اشارہ میرلن مونرو کی طرف تھا) ۔ اپنے منفرد حسن، بے پناہ کشش اور سب سے بڑھ کر، پردہ ء سمیں پر ناقابل یقین حد تک خوبصورتی رکھنے والی مدھوبالا 50 ء اور 60 ء کی دہائی کی مقبول ترین اور بھاری معاوضہ لینے والی اداکارہ تھیں۔
اپنی ذہین آنکھیں، دلفریب مسکراہٹ اور چہرے کے تاثرات سے سب کچھ کہہ جانے والی مدھوبالا نے المیہ، طربیہ، ڈراما اور رومانوی، سبھی انواع کے کرداروں کے ساتھ بھرپور انصاف کیا۔ اپنے دور میں اشوک کمار، راج کپور، دلیپ کمار، پردیپ کمار، سنیل دت اور دیو آنند جیسے بڑے اداکاروں کے مدمقابل کام کرتے ہوئے انہیں محبوب خان، گرو دت، کے آصف اور کمال امروہی جیسے بے مثال فلم سازوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ یہ سب کچھ انہوں نے دل کی بیماری سے لڑتے ہوئے کیا جو آگے چل کر مزید شدید ہو گئی۔
مدھوبالا نے اپنی اداکاری کا آغاز بطور چائلڈ سٹار، 1942 ء کی فلم ’بسنت‘ میں ”بے بی ممتاز“ کے نام سے کیا۔ اس کے بعد ’ممتاز محل‘ ( 1944 ء) ، ’دھانا بھگت‘ ( 1945 ء) اور ’پجاری‘ ( 1946 ء) میں اداکاری کے جویر دکھائے۔ ان کا پہلا مرکزی کردار 1946 ء کی فلم ’نیل کمل‘ میں تھا، 1947 ء کی فلم ’میرے بھگوان‘ میں پہلی مرتبہ انہیں مدھو بالا (سنسکرت میں ”خوبصورت لڑکی“ ) کا فلمی نام دیا گیا۔
کئی درمیانہ درجے کی کامیاب فلموں میں کام کرنے کے بعد بالآخر 1949 ء کی فلم ’محل‘ جو آواگون کے نظریے پر بنائی گئی تھی، نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ (اور ان کے ساتھ ساتھ لتا منگیشکر جی کو بھی)
آنے والے سالوں میں انہوں نے مختلف انواع کی فلموں میں متنوع کردار ادا کیے۔
1951 ء کی فلم ’ترانہ‘ میں وہ پہلی مرتبہ دلیپ کمار کے مدمقابل جلوہ گر ہوئیں۔ 1955 ء کی فلم ’مسٹر اینڈ مسز 55‘ میں بطور انیتا ورما، ان کے اعتماد نے سب کو متاثر کیا۔ جبکہ 1958 ء کی فلم ’ہواتہ برج‘ کا گانا، ’آئیے مہربان‘ بہت مقبول ہوا۔
1958 ء میں ہی انہوں نے کشور کمار کے مدمقابل مزاحیہ فلم، ’چلتی کا نام گاڑی‘ میں داد و تحسین سمیٹی۔
لیکن ان کی سب سے بہترین اداکاری تاریخی فلم، ’مغل اعظم‘ میں بطور ”انارکلی“ نظر آئی اور آج یہی کردار ان کی پہچان ہے۔ مدھوبالا کو 20 سال کی عمر میں کے آصف نے اپنی شاہکار فلم میں منتخب کیا تھا۔ اس جیسا کردار ادا کرنے کی تمنا سبھی اداکاروں کو ہوتی ہے لیکن کم ہی کسی کی یہ خواہش پوری ہوتی ہے۔
اداکارہ نمی نے ان کے بارے میں کہا تھا:
”کسی اداکار کے لیے کرداروں کی کمی کبھی نہیں ہوتی لیکن ان کی اکثریت میں اکثر اچھی اداکاری کی گنجائش نہیں ہوتی۔ مغل اعظم میں مدھو بالا نے گویا ساری دنیا کو اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کا حتمی ثبوت دے دیا“
خدیجہ اکبر ان کے بارے میں اپنی کتاب میں لکھتی ہیں، ”انارکلی کے کردار میں مدھوبالا نے ایسی لازوال اداکاری کی کہ آج فلم کی ریلیز کو 60 سال سے زائد ہو گئے لیکن کسی دوسری اداکارہ کو انارکلی بنانے کا کسی نے سوچا بھی نہیں“
”اگر کسی کے ذہن میں مدھوبالا کے بطور انارکلی منتخب کیے جانے پر تحفظات تھے بھی تو وہ مدھو کے سکرین پر پہلی مرتبہ آتے ہی دھواں بن کر اڑ گئے۔ ان کی انارکلی زندگی سے بھرپور اور تین جہتی تھی۔ چاہے وہ ایک خطرناک محبت کو سوچ سمجھ کر قبول کرنا ہو یا پھر اسی محبت سے طاقت پا کر شہنشاہ اکبر کے سامنے ڈٹ جانا، مدھوبالا نے اپنی اداکاری سے ان مشکل جذبات میں حقیقت کا رنگ بھر دیا“
کروڑوں دلوں پر حکمرانی کرنے والی یہ خوبرو اداکارہ، 23 فروری 1969 ء کو خالق حقیقی سے جا ملیں۔

