غزہ: یہ بازی تو افریقی لے گئے


علامہ اقبال نے جواب شکوہ میں کہا تھا کہ پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے۔

مشرق وسطیٰ میں 7 اکتوبر سے اسرائیل کی ظلم و استبدادیت نے جارحیت اور نسل کشی کی انتہائی گھناؤنی مثالیں قائم کی ہیں۔ اسرائیل کی استعماریت پر خاموشی اختیار کرنے اور اسے شہ دینے کی تعداد اسے روکنے والوں سے کہیں زیادہ تھی تا ہم حال ہی میں جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت انصاف میں اس کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ دائر کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔

کاش یہ اقدام کعبے کے پاسبان ہونے کا دعویٰ کرنے والے مسلمان کرتے۔ تا ہم یہ اعزاز جنوبی افریقہ کو ملا ہے جس نے اتنا فاصلہ اور زیادہ تعلق نہ ہونے کی باوجود اس ظلم پر خاموشی اختیار نہیں کی اور عالمی عدالت کا دروازہ جا کھٹکھٹایا اور اسرائیل کے ظلم کے خلاف اپنی شکایات درج کرائیں۔

یہ ان کی شکایت کا ہی نتیجہ تھا کہ عالمی عدالت نے ایک توانا آواز کے ساتھ اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی کرنے سے باز رہنے کا کہا اور بجا طور پر کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے اور ایسے اقدامات سے باز رہے جس سے مزید نسل کشی کا تاثر ابھرتا ہوا نظر آئے۔

خالق جس سے چاہے اس سے اپنی مخلوق کی حفاظت کروا سکتا ہے۔ وہ ابابیلوں سے اپنے گھر کی حفاظت بھی کروا سکتا ہے اور غیر مسلموں سے مسلمانوں کی حفاظت بھی کرانے پر قدرت رکھتا ہے۔

مجھے اس وقت حبشہ کا بادشاہ نجاشی یاد آ رہا ہے جس کے پاس مسلمان قریش مکہ کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے پناہ گزین ہوئے تھے۔ جب قریش مکہ نے اپنا وفد ان پناہ گزین مسلمانوں کی حوالگی کے لیے نجاشی کے دربار میں بھیجا تو نجاشی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ ان معصوم مسلمانوں کو کبھی بھی ان کے حوالے نہیں کرے گا۔ یہی نہیں بلکہ ان کی سرپرستی اور مکمل حفاظت بھی کی۔ بعد میں جب نجاشی کی وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نہ صرف اس کا غائبانہ جنازہ پڑھایا بلکہ تعریف بھی کی۔ نجاشی مسلمان نہیں تھا اور ایک عیسائی حکمران تھا لیکن اس کے باوجود اس نے مسلمانوں کی حفاظت کو یقینی بنایا۔

آج 56 مسلمان ممالک ہونے کے باوجود وہ اپنے فلسطینی بھائیوں کے لیے حفاظت اور مدد تو کجا ان کے لیے آواز بھی نہیں اٹھا سکے اور ان کے حقوق کو اپنی آنکھوں کے سامنے پائمال ہوتا دیکھ رہے ہیں۔

ظلم آخر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ جلد یا بدیر ظلم کو مٹنا ہی ہوتا ہے۔ میدان جنگ یا تاریخ کے میدان میں باطل کو شکست ہی ہونی ہوتی ہے تا ہم مشکل میں غیروں اور اپنوں کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔ اسرائیل کو بھی اپنی اس وحشیانہ ظلم و بربریت اور نسل کشی کا ایک دن ضرور حساب دینا پڑے گا۔ تاہم جنوبی افریقہ کے اس اقدام کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ کالوں کا ہی سہی، آخر کسی کا ضمیر تو جاگا ہے جو بہرحال سوئے ہوئے ضمیروں سے بدرجہا بہتر ہے۔

Facebook Comments HS

اسلم بھٹی

اسلم بھٹی ایک کہنہ مشق صحافی اور مصنف ہیں۔ آپ کا سفر نامہ ’’دیار ِمحبت میں‘‘ چھپ چکا ہے۔ اس کے علاوہ کالم، مضامین، خاکے اور فیچر تواتر سے قومی اخبارات اور میگزین اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ آپ بہت سی تنظیموں کے متحرک رکن اور فلاحی اور سماجی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔

aslam-bhatti has 45 posts and counting.See all posts by aslam-bhatti