الیکشن 2024: ٹریننگ سے توقعات تک
”میڈیم آپ ہمیں کنفیوز کر رہی ہیں۔ یہ اس طرح نہیں ہوتا بلکہ یوں ہوتا ہے۔“
”آپ خاموش بیٹھے رہیں، میں بہتر جانتی ہوں اور یہ بھی جانتی ہوں کہ کس طرح فارم 45 اور فارم 46 کو فل کرنا ہے“۔ دوست شرمندہ ہو کر بیٹھ گیا اور میری طرف دیکھ کر کہنے لگا: ”یار! یہ کیا بدتمیزی ہے؟“ میں نے کن انکھیوں سے صورت حال کو مصلحتاً نظر انداز کر نے کا مشورہ دیا۔ وہ غصے میں جل بھن کر بیٹھ رہا۔ کچھ دیر بعد اسے شرارت سوجھی، میڈیم کو پکار کر کہنے لگا۔
“ میڈیم! واش روم جانا ہے۔ میڈیم نے لیکچر کی روانی کو تعطل میں لائے بغیر فقط نگاہوں سے دفعہ ہو جانے کا اشارہ کیا اور وہ ناک کی سیدھ ہال کے مرکزی دروازے پہنچ کر میری طرف دیکھ کر باہر نکل گیا۔ پانچ منٹ بعد میڈیم رعونت بھرے تیور کے ساتھ جب میرے روبرو ہوئی تو میں نے بھی واش روم جانے کے لیے بول دیا۔ میڈیم نے نگاہوں سے اشارتاً کہا کہ تم بھی دفعہ ہو جاؤ۔ میں جیسے ہی میں ہال سے باہر نکلا، دوست کو سامنے پایا، میں نے کہا : ”ابے! تو واش روم نہیں گیا، کہنے لگا:“ بس یار! میڈیم کی ناتجربہ کاری دماغ خراب کر رہی تھی، پتہ نہیں اس طرح کے عدم تربیت یافتہ اور ناتجربہ کار ٹرینر کیوں لگا دیتے ہیں جن کا ذاتی تجربہ اور دلچسپی صفر بٹا صفر ہوتی ہے اور رعب سنبھالا نہیں جاتا ”۔
میں نے کہا:“ کوئی بات نہیں، پہلی بار جب ہم نے الیکشن کی ٹریننگ لی تھی، تب ہمارا بھی یہی حال تھا، سوال پہ سوال کر رہے تھے اور خوف بڑھتا ہی جاتا تھا کہ الیکشن کے دن کوئی نہ کوئی بلنڈر ضرور ماریں گے، اب ہم میں تجربے کی بنیاد پر اعتماد آ چکا ہے، اس لیے ہمیں ہر سوال اور ہر نکتہ فضول اور بے سود محسوس ہوتا ہے جبکہ میڈیم بالکل درست انداز میں گائیڈ کر رہی ہیں ”۔
اچھا بھائی، تمہاری میڈیم ٹھیک ہے اور میں غلط ہوں۔ اچھا، میری میڈیم! اور ہم دونوں ہنس پڑے۔ ہال کے ایک کونے میں بنچ پر بیٹھ گئے اور وقت کے ضیاع کی ترکیب سوچنے لگے۔ آوارگی کرتا ہوا ایک اور دوست ہمیں بیٹھا دیکھ کر صف آوارگان میں شامل ہو گیا۔ کچھ دیر بعد ایک اور صاحب ہماری شوریدہ مزاجی کے اسیر ہو گئے۔ ایک گھنٹہ یونہی مختلف موضوعات پر گپ اڑاتے گزار دیا، حاضری کے عین وقت ہال میں پہنچ کر حاضری لگائی اور اپنے اپنے گھر کو رخصت ہوئے۔
مذکورہ تمہید میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔ خاص بات اس لیے نہیں کہ الیکشن 2024 کے سلسلے میں پاکستان بھر میں الیکشن کے انعقاد کے لیے مختلف شعبہ جات کے ملازمین کی ٹریننگ ہو رہی ہے۔ اس بار تربیت لینے والے عملہ کو تین وقت چائے کے ساتھ دوپہر کا کھانا بھی دیا جا رہا ہے۔ ایک بے چینی اور تشکیک سبھی تربیت لینے والے افراد میں یکساں محسوس ہوئی اور وہ یہ کہ الیکشن 2024 ہوتے نظر نہیں آرہے۔ ووٹ کس کو دیں اور کس کو نہ دیں، آخر ووٹ دینے کا فائدہ ہی کیا ہے، اس بار ووٹ دینا اور نہ دینا برابر ہے۔
2018 کے الیکشن میں یہ صورتحال نہیں تھی، ہر طرف گہماگہمی اور رونق تھی۔ حریف و مقابل سے زور آزمائی کا ایک صحت مند ماحول تھا، ہر کوئی جوش و خروش سے ایک نئے نظام کی بات کر رہا تھا اور اس وقت کی موجودہ صورتحال سے بیزار کا اظہار کر رہا تھا۔ الیکشن 2024 میں ملک کی سب سے بڑی پارٹی کو الیکشن میں انتخابی نشان سے محروم کر کے نکال باہر کیا ہے۔ اس الیکشن میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے سامنے آنے والے امیدواران کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
پنجاب اور سندھ کی دو مرکزی پارٹیاں فی الحال میدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ پچاس کے قریب چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیوں نے انھیں دو بڑی پارٹیوں سے سیاسی مصالحت کے تحت پس پردہ ڈیل کر رکھی ہے۔ اس بار حکومت بنانے کے لیے انھیں دو بڑی پارٹیوں کو آزاد امیدواران کا سہارا لینا پڑے گا۔ اس کا مطلب بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ اس بار آزاد امیدوار کسی بھی نظریے، ایجنڈے اور الیکشن کاز کی بھر پور تشہیر کر کے دو تہائی ووٹ لے سکتا ہے اور کامیاب ہونے کی صورت میں بننے والی حکومت سے من چاہی مراعات لے سکتا ہے۔
یوں گمان ہوتا ہے کہ اس بار آزاد امیدواران کی دسیوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔ محافظوں نے عدلیہ کے توسط سے سیاسی بساط کا کینوس اس انداز سے پورٹریٹ کیا ہے کہ کوئی جتنا بھی زور لگا لے، دو تہائی سادہ اکثریت سے الیکشن 2024 میں کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ وفاق اور صوبوں میں مساوی حکومت کا خواب ایک بار پھر خواب ہی رہ جائے گا اور حکومت میں آ کر حکومت بنانے والے متکبرانہ تشخص کے عنصر کو حد کے اندر مقید کرنے کا نعرہ بھی فقط سیاسی نعرہ ہی رہے گا۔
پاکستان اب آگے کی بجائے پیچھے کی طرف اوندھے منہ گرتا دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان کی ڈرائیونگ سیٹ پر ایک اندھا بیٹھ گیا ہے جس نے نا تجربے کاری کے خوف سے گھبرا کر سٹیرنگ کو عجلت میں پیچھے کی طرف گھما دیا ہے جس سے گاڑی کی چیخیں نکل رہی ہیں، ٹائرز کی کھال ادھڑی جاتی ہے اور انجن بھک بھک کر تا آخری سانسیں لے رہا ہے۔ پاکستان میں الیکشن کے ذریعے سے کسی بھی تبدیلی کا نعرہ ایک جھوٹ، مکر، فریب اور دھوکا بازی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
الیکشن میں آنے والے نوے فیصد امیدوار کار سیاست کو ایک منافع بخش کاروبار سمجھ کر آتے ہیں، انھیں اپنے کاروبار کی حفاظت اور اس کے پھیلاؤ کے لیے حکومت کے ایوان کی ضرورت ہے۔ پاکستانی سیاست کا بنیادی ایجنڈا ہی کاروبار ہے جس کی ہزاروں اشکال ہیں۔ پاکستان میں سیاست کا مطلب پاکستان کو مزید تنزل کی کھائی میں جھونکنا ہے۔ پاکستان میں سیاست کا مطلب سیاسی گردی سے پاکستان کے وسائل کو چار چار ہاتھوں سے لوٹ لوٹ کر اپنی اولاد اور کبھی نہ پیدا ہونے والی اولاد کے مال اکٹھا کرنا ہے۔
پاکستان میں قائد اعظم کے بعد کوئی ایسا لیڈر، راہنما اور درد دل رکھنے والا سیاست دان اس بدقسمت قوم کو نصیب نہیں ہوا جس نے ان کے زخموں پر مرحم رکھا ہو اور ان کی زندگی آسان کرنے کی راہ ہموار کی ہو۔ الیکشن 2024 میں عوام کی سیاست دانوں سے توقعات کیا ہو سکتی ہیں۔ میرے خیال بھی اب عوام کو یہ شعور آ چکا ہے کہ ان کے ووٹ سے کسی بڑی تبدیلی اور بدلاؤ کو ممکن نہیں بنایا جاسکتا۔ پاکستانی عوام کا 80 فیصد شعور، اس بات کا ادراک رکھتا ہے کہ پاکستان میں اصل حکمرانی کس کی ہے اور کیوں ہے اور اس حکمرانی کی طاقت کے پیچھے کس کن ممالک کی شفقت کا ہاتھ کارفرما ہے۔
پاکستانی عوام کو جاہل، بے وقوف اور شعور سے عاری سمجھنے والے اس خاکستر میں دبی آگ کے شدید ردعمل سے بے خبر ہیں۔ بند کمروں میں بیٹھ کر چھبیس کروڑ عوام کا فیصلہ کرنے والے چھبیس افراد کو یہ علم نہیں کہ بہت جلد بازی پلٹنے والی ہے۔ ان کے تیر کمان اور گھات کی جملہ تجربے کاریاں غارت ہونے والی ہیں، بس کچھ وقت کی دیر ہے۔

